شادیوں میں بارات کا رواج کب سے شروع ہوا؟یعنی پورے خاندان، برادری اور دوست احباب کا ایک جم غفیر اور انبوہ کثیر کو لے کر لڑکی والوں کے گھر جانا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ عہد رسالت وعہد صحابہ وتابعین یعنی دور خیر القرون میں اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔ صرف گھر کے چند افراد جاتے اور خاموشی اور سادگی کے ساتھ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر نکاح پڑھ کے لڑکی کو اپنے ہمراہ لے آتے۔ شرعاً نکاح میں اعلان ضروری ہے اور یہ اعلان طرفین کے گھر والوں کے سامنے ہو جاتا تھااور ولیمے میں مزید لوگوں کے علم میں آجاتا۔اب جو بارات کا عام رواج ہے جس کے بغیر شادی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔
چند بڑے نقصانات :سارے دوست احباب اور خاندان اور برادری کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنا، اسراف (فضول خرچی) ہے۔پہلے خود لڑکے والوں کو تمام مہمانوں کے بیٹھنے اور خاطر تواضع کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ قریبی رشتے داروں کے لیے تو انتظام کئی کئی دن کے لیے کرناپڑتا ہے۔ پھر ان سب کو ساتھ لانے اور لے جانے کے لیے بسوں اور گاڑیوں کا انتظام اس پرمستزاد۔ اس سے بھی پہلے شادی کارڈوں کی اشاعت کا مسئلہ آتا ہے جو پہلے تو سادہ سے کارڈ چھپوا کر اطلاع کا اہتمام کرلیا جاتا تھا۔ اب اس میں بھی پیسے والوں نے بڑی جدتیں اختیار کر لی ہیں اور اتنے اتنے گراں کارڈ چھپنے لگے ہیں کہ ان کو دیکھ کر اس قوم کی فضول خرچی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ قریبی رشتے دار(بہنیں، بیٹیاں اور ان کی اولاد ) تو کئی کئی دن پہلے آ کر شادی والے گھرمیں ڈیرے ڈال لیتی ہیں اور مختلف رسموں (مایوں، مہندی وغیرہ) کے علاوہ کئی کئی راتیں مسلسل ڈھولکیاں بجاتیں اور اہل محلہ کی نیندیں خراب کرتی ہیں۔ پھر نکاح والے دن بقیہ خاندان اور احباب وغیرہ جمع ہو کر ایک لاؤ لشکر کی صورت میں لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں جس کی ضیافت اورٹھہراؤ کے لیے کسی شادی ہال یا کسی بڑے مکان کا انتظام لڑکی والوں کو کرنا پڑتا ہے۔اس طرح انکو ایک بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔جنکے پاس وسائل کی فراوانی ہوتی ہے ان کے لیے تو یہ بو جھ کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن جن کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے ان کو بھی خواہی نخواہی یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے چاہے وہ زیر بار ہوجائیں اور اس بوجھ کے اتارنے میں وہ سالہا سال پریشان ر ہیں۔
شریعت کی دھجیاں اُڑانا:جب لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اللہ سے بے خوفی کے نتیجے میں یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے اس وقت جو چاہیں کر لیں، اس کا جواز ہے۔ چنانچہ بڑی بڑی شیطانی حرکتیں کی جاتی ہیں اور باراتی ان سے خوب محظوظ ہوتے ہیں، اس طرح سب گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں۔بلکہ اکثر اوقات لڑکی والوں کی طرف سے بھی ان کا مطالبہ اور اصرار ہوتا ہے۔ یوں دونوں خاندان اور ان کے سارے عزیز و اقارب اجتماعی طور پر نہایت دھڑلے سے اللہ کی نافرمانیاں کرتے اور شریعت اسلامی کی دھجیاں اڑاتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انفرادی گنا?ہ جو خفیہ اور چھپ کر کیا جائے، اگرچہ وہ بھی گناہ ہے لیکن اگر کوئی گناہ کا کام کھلم کھلا لوگوں کے سامنے کیا جائے، تو اس جرم کی شناعت و قباحت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’کل امتی معافی الا المجاہرین‘‘۔ترجمہ :’’میری امت کے سارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں سوائے ان گناہ گاروں کے جو کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔‘‘ ( صحیح بخاری : 6069 )
اجتماعی خرافات:اجتماعی طور پرکیے جانے والے یہ گناہ جو باراتیوں کے ہجوم میں اور ان کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔حسب ذیل ہیںبینڈ باجوں کا اہتمام جن کی شیطانی دھنوں سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں حتیٰ کہ ان پر نوٹوں کی بارش کی جاتی ہے جس کا نام ’’ویل دینا‘‘رکھا ہوا ہے۔آتش بازی ’’جو گھر پھونک ، تماشہ دیکھ‘‘ کی مصداق ہے۔ ہزاروں روپے اس پر اڑادیے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پرہوائی فائرنگ، جس کی زد میں آئے بعض باراتی یا اڑوس پڑوس کے لوگ آجاتے ہیں اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔بھنگڑا اور لڈیاں ڈالنا، اس کا رواج بھی بڑھتا جارہا ہے حتی کہ بعض باراتوں میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ خواتین بھی اس میں شریک ہوجاتی ہیں۔پیسے لٹانا، پہلے تو ریزگاری کی شکل میں تھوڑی سی رقم ہی اس پر خرچ ہوتی تھی، اب یہ رسم نوٹوں تک پہنچ گئی ہے جس سے اس مد پر بھی ہزاروں روپے برباد کیے جاتے ہیں۔قریبی رشتے دار اور دوست احباب دولہا کو نوٹوں والے اور دیگر انواع و اقسام کے ہاروں سے لا ددیتے ہیں جن کا بوجھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، یہ بھی فضول خرچی ہی کی ایک مد ہے۔
بے حیائی کی انتہاء:یہ بارات جب لڑکی والوں کے ہاں (ہال یا گھر میں) پہنچتی ہے تو نوجوان لڑکیاں اور یکسر بے پردہ عورتیں دونوں طرف ہاتھوں میں پھولوں کے تھال پکڑے ہوئے دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتی ہیں اور ان پر گل پاشی کرتی ہیں۔یہ بھی بے پردگی کی ایک ایسی بے ہودہ رسم ہے جس کی توقع کسی مسلمان مردوعورت سے نہیں کی جاسکتی۔بارات کے ساتھ کرائے کے مووی فلم میکر ہوتے ہیں جوان ساری خرافات کو بھی اور ہال میں ہونے والی ساری کارروائی کو بھی نکاح کی تقریب سے لے کر دلہن کی رخصتی تک فلم بندی کرتے ہیں اور ایک ایک سین کو بالخصوص خواتین کے مختلف پوزوں کو اوردلہن کے ایک ایک پوز کو محفوظ کرتے ہیں اور بعد میں دونوں خاندانوں کے گھروں میں بے حیائی کے ان مظاہر کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔بارات میں خواتین کا بھی ایک ریلا شریک ہوتا ہے جو سب سے بے پردہ، نہایت بھڑکیلے، زرق برق حتیٰ کہ عریاں اور نیم عریاں لباس میں ملبوس، نہایت بے ہودہ میک اپ اور سولہ سنگھار سے آراستہ اور زیورات میں لدی پھندی ہوتی ہیں۔ گویا وہ شادی کی ایک بابرکت تقریب میں نہیں بلکہ وہ مقابل حسن یا آرائش وزیبائش اور بے پردگی و بے حیائی کے مقابلے میں شریک ہونے کے لیے جاری ہیں۔
مخلوط اجتماع:اب بہت سی جگہوں پرمخلوط اجتماع بھی ہونے لگے ہیں لیکن مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے نہیں ہوتے، کھانے کا الگ الگ انتظام نہیں ہوتا، بلکہ بغیر کسی تفریق اور پردے کے مرد اور عورت کے لیے ایک ہی ہال اور کھانے کی میز میں بھی مشترکہ۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘آخر میں مراثیوں کا ایک غول آجاتا ہے جو الٹی سیدھی ہنسانے والی باتیں ہانک کر اور بڑکیں مارکر باراتیوں سے (ویلیں) وصول کرتے ہیں۔اور بعض جگہ اور بعض خاندانوں میں مجرے کا رواج ہے لیکن مخنث (ہیجڑے) نسوانی لباس اور نسوانی ناز و ادا اور ناچ گاکر باراتیوں کا دل لبھاتے ہیں اور ان سے خوب ویلیں وصول کرتے ہیں اور باراتی ان پربھی نوٹوں کی بارش برساتے ہیں۔
کھانے کی بربادی: کھانے کے موقعے پر بھی اکثر و بیشتر عجیب ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔ کھانے پرلوگ اس طرح ٹوٹ کر پڑتے ہیں، جیسے مویشیوں کو چارہ کھرلی میں ڈال کر چھوڑ دیا جا تا ہے اور وہ ’’اکلون کما تاکل الانعام* کے مصداق ہوتے ہیں یا جیسے بھوکے گدھ ہوتے ہیں یا جیسے ایسے وحشی اور گنوار قسم کی قوم کے افراد ہوں جن کو کبھی کھانا نصیب نہیں ہوا یا جن کا کوئی تعلق تہذیب و شائستگی سے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہر شخص اپنی اپنی پلیٹوں کو اس طرح بھر لیتا ہے کہ اکثر وہ اس سے کھایا ہی نہیں جاتا اور آدھی آدھی پلیٹیں بکھری ہوئی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ سارا کھانا کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس صورت حال کے پیش نظر میزبان ضرورت سے زیادہ وافر مقدار میں کھانا تیار کرواتا ہے اور یہ اندیشہ قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانا نہیں ملے گا۔بعض دفعہ کسی میز پر بیرے کو دوبارہ کھانا لانے میں ذرا دیر ہو جاتی ہے تو لوگ معمولی سا انتظار کرنے کے بجائے ہوٹنگ شروع کر دیتے ہیں۔بداخلاقی اور تہذیب و شائستگی سے عاری یہ مظاہر اتنے عام ہیں کہ ہم ان تقریبات میں غیر مسلم اشخاص کو بلانے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم مسلمانوں کے اخلاق و کردار کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے کہ یہ ایک مسلم قوم کے وارث ہیں جن کے اسلاف نے دنیا کو مکارم اخلاق اور تہذیب وشانگی کا درس دیا تھا اور جن کے پیغمبر بھی خلق عظیم کے مالک تھے اور اعلی اخلاق کی تعلیم ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جس کے بہترین نمونے ان کے پیروکاروں (صحابہ کرام و تابعین عظام) نے دنیا کے سامنے پیش کیے اور دنیائے انسانیت میں معلم اخلاق کے نام سے معروف ہوئے۔۔۔(جاری)[email protected]