سرینگر// شہنشاہ جذبات اور برصغیر کے سب سے نامور اور قابل احترام فلمی اداکار دلیپ کمار(یوسف خان)98برس کی عمر میں کروڑوں شائقین اور پرستاروں کو غمزدہ کر کے انتقال کرگئے ہیں۔ دلیپ کمار کو گزشتہ دنوں سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے ممبئی کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ بدھ کی صبح انتقال کرگئے۔دلیپ کمار کے ڈاکٹر جلیل پالکر کے مطابق اداکار نے بدھ کو اپنی آخری سانسیں صبح 7 بج کر 30 منٹ پر لیں۔ دلیپ کمار کی تدفین جو ہو کے مسلم قبرستان میں سرکاری اعزاز کیساتھ کی گئی۔ دلیپ کمار کے نام سے مشہوریوسف خان1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے اور ان کا آبائی گھر آج بھی پشاور میں موجود ہے جسے پاکستان نے قومی ورثہ قرار دیکر اسے عجائب گھر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شہنشاہ جذبات کا لقب پانے والے دلیپ کمارکو فلم کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جب کہ انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے 1998 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔دلیپ کمارنے اپنے کامیاب فلمی کیریئر کا آغاز 1944 میں جوار بھاٹا فلم کے ساتھ کیا ۔دلیپ کمار 1940 سے 1970 کی دہائی میں سینما پر چھا ئے رہے۔انہوں نے 65 سے زائد فلموں میں کام کیا، ان کی مشہور فلموں میں دیوداس، گنگا جمنا،سنگ دل، امر، آن، انداز، نیادور، کرما اور مغل اعظم شامل ہیں، جو اداکار کی مقبولیت کا سبب بنیں جبکہ انہوں نے 1998 میں اپنی آخری فلم ’قلعہ‘ میں اداکاری کی۔ دلیپ کمار 1950 کی دہائی میں فلم انڈسٹری کی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے فلم میں اداکاری کرنے کا معاوضہ ایک لاکھ روپے سے زائد وصول کیا۔
دلیپ کمار سرینگر میں
دلیپ کمار1967میں سرینگر بھی آئے اور نٹی پورہ علاقے میں ایک شہری کالونی کا افتتاح بھی کیا۔نٹی پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری عبدالمجید راتھر نے بتایا کہ علاقے میں ایک معروف شخصیت و سرمایہ کار غنی صاحب،دلیپ کمار کے دوست تھے، اور شائد1967یا1968کا سال تھا ،جب غنی صاحب کی دعوت پر دلیپ کمار نٹی پورہ آئے اور یہاں پر’’ دلسوز‘‘ کالونی کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آج بھی یاد ہے کہ جنوبی کشمیر سے بھگت تھیٹر کو لایا گیا تھا،جنہوں نے یہاں پر اپنی کارکردگی پیش کی اور دلیپ کمار سفید رنگ کے قمیض شلوار میں ملبوس تھے۔
پرستار دل ملول
دلیپ کمار کے انتقال نے برصغیر میںان کے کروڑوں پرستاروں کو دیدہ تر کیا ہے۔اداکار جاوید خان نے دلیپ کمار کو اداکاری کی ایک یونیورسٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس مقام پر دلیپ کمار تھے،اس پر اور کوئی نہیں پہنچ سکتا۔انہوں نے کہا’’ دلیپ کمار نے اداکاروں کو کردار میں رہنا اور جینا سکھا دیا‘‘۔جاویدخان نے بتایا کہ وہ ایک خالص اداکار تھے اور انہوں نے ادکاری کے معیار کو ہی تبدیل کرکے ایک نئی داستان رقم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی میں دلیپ کمار نے کسی بھی اشتہار میں کام نہیں کیا اور ان کا ماننا تھا کہ جس چیز کا وہ اشتہار کرینگے،اس کے خالص ہونے کی ضمانت کون دے گا۔ خان نے بتایا کہ دلیپ کمار کے جانے سے ایک عہد کا اختتام ہوا۔ریڈیو براڈ کاسٹر جنید راتھر نے دلیپ کمار کو ایک مکمل اور منفرد ادکار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دلیپ کمار ایک ایسے اداکار تھے جو فلم کے کردار میں رہنے کے لئے مشہور ہے۔انہوں نے کہا’’ دلیپ کمار کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کسی بھی اداکار کی نقل نہیں کی،اور جو انہوں نے پردہ سمین پر پیش کیا اس کو دل اور ایمانداری کے علاوہ محنت کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلیپ کمار کی اداکاری کا کوئی ثانی نہیں ہوسکتا،اور یہی وجہ ہے کہ6 عشرے گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک انکی فلموں کو بار بار نہ صرف دیکھا جاتا ہے بلکہ ابھی تک یاد کیا جاتا ہے ۔ پائین شہر سے تعلق رکھنے والے انیس احمد نامی نوجوان نے دلیپ کمار کو ایک زندہ شاہکار قراردیا۔انہوں نے کہا’’ہندوستان میں تاج محل کے بعد اگر کوئی شاہکار تھا تو وہ دلیپ کمار ہی تھے‘‘۔ زعفران کالونی پانپور سے تعلق رکھنے والے دلیپ کمار کے ایک پرستار غلام قادر کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار اپنے کرداروں میں زندہ رہتے تھے۔ان کا کہنا تھا’70برس گزر جانے کے بعد بھی مغل اعظم ایک شاہکار ہے۔ رعناواری سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ درزی محمد رمضان نے کہا کہ دلیپ کمار ایک کلاسک اداکار تھے،جنہوں نے آنے والے نسلوں کو اداکاری کیلئے بہت کچھ چھوڑا۔ان کا کہنا تھا’’ اب اور کوئی دلیپ کمار فلم انڈسٹری میں پیدا نہیں ہوسکتا،دلیپ کمار ایک اداکار ہی نہیں بلکہ ادکاری کا ایک مکمل ادارہ تھے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں وہ دلیپ کمار کی فلمیں شوق و ذوق سے دیکھتے تھے اور اب بھی وہ دلیپ کمار کی فلموں کو’’ یو ٹیوب‘‘ پر دیکھنے کے شوقین ہے۔
صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، لیفٹیننٹ گورنر،ڈاکٹر فاروق اور عمر عبداللہ کی تعزیت
سرینگر//صدر رام ناتھ کووند نے دلیپ کمار کے انتقال پر تعزیت کی ہے۔ کووند نے ٹویٹ میں کہا ، "دلیپ کمار اپنے آپ میں ابھرتے ہوئے ہندوستان کی تاریخ کا جوہر تھے، اس اداکار کا جادو ہر حد سے آگے بڑھ گیا اور اسے برصغیر میں لوگوں نے بہت پسند کیا۔ "انہوں نے کہا ، "دلیپ کمار کے انتقال کے ساتھ ہی ایک دور ختم ہوچکا ہے۔ دلیپ صاحب ہمیشہ ہندستان کے دل میں دھڑکتے رہیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی دلیپ کمار کے انتقال کی خبر سن کر ان کی بیوی سائرہ بانو کو فون پر بات کرکے ان کو تسلی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا، دلیپ کمار کا جانا ہماری ثقافتی دنیا کیلئے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کے کنبے ، دوستوں اور لاتعداد مداحوں کے لئے ہمدردی ہے۔جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دلیپ کمار کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرحوم اداکار کے بھارتی سینما کے تئیں نمایاں رول کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا وہ ایک ہمہ پہلو شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ملک و بیرون ملک لاکھوں مداحوں کو اپنی مثالی ادا کاری سے محظوظ کیا۔ بھارتی سینما کے تئیں ان کے رول کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے دلیپ کمار کے انتقال پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیاہے۔مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’’ یوسف صاحب کے انتقال سے ایک دور کا اختتام ہوا ہے، وہ بہت ہی نیک انسان تھے، فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ انسانیت میں اُن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں کشمیر سے اور کشمیر کے لوگوں سے بے حد محبت تھی ، وہ کئی بار یہاں آئے اور ہربار یہی کہتے تھے کہ وہ یہاں کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں موقع نہیں ملا۔