کپوارہ +سوپور// پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ معراج الدین حلوائی عرف عبید نامی حزب المجاہدین کا شمالی کشمیر ،میں سب سے دیرینہ جنگجو کمانڈر کو فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق کیا گیا ۔پولیس کے مطابق یہ شبانہ جھڑپ شمالی ضلع کپواڑہ کے پازی پورہ ہندوارہ میں ہوئی ، جب گرفتار جنگجو کمانڈر کو اسلحہ کی نشاندہی کرنے کیلئے ممکنہ جگہ پر لیجایا گیا۔ادھر مذکورہ جنگجو کمانڈر کی ہلاکت پر سوپور میں اسکے آبائی علاقے میں جزوی ہڑتال کی گئی۔ادھر پوژھل لاجورہ پلوامہ میں رات دیر گئے شبانہ مسلح تصادم آرائی ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گائوں میں 2جنگجوئوں کی موجودگی کے بعد محاصرہ کیا جس کے فوراً بعد فائرنگ ہوئی ۔اس کے بعد گائوں میںروشنیوں کا انتظام کیا گیا۔سیکورٹی فورسز محصور جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے پر آمادہ کررہے تھے۔اور رات دیر گئے تک یہی صورتحال تھی۔
پولیس بیان
حزب کمانڈر معراج الدین حلوائی عرف عبیدساکن خوشحال متو سوپورکو فوج،ہندوارہ پولیس اورایس ایس بی اہلکاروں نے منگل کی شام دیر گئے وٹائن ہندوارہ کے نزدیک کووڈچیک پوائنٹ پر گرفتار کیا ۔بیان کے مطابق دوران پوچھ تاچھ معراج الدین عرف عبید نے بتایاکہ اُس نے اپنا ہتھیارکرالہ گنڈ ہندوارہ کے ایک گائوں میںرکھاہے ۔پولیس کے مطابق پولیس ،آرمی ،سی آرپی ایف اورایس ایس بی کی مشترکہ ٹیم جب حزب کمانڈرکولیکر پازی پورہ رینن کرالہ گنڈ پہنچی تویہاں اُس نے اُس جگہ کی نشاندہی کی ،جہاں اُس نے ہتھیار چھپا رکھاتھا۔پولیس کے مطابق عبید نے خفیہ جگہ سے اپنیAK47رائفل نکال کرسیکورٹی اہلکاروں پراندھادھند فائرنگ شروع کردی،تاہم جوابی کارروائی میں وہ ماراگیا۔پولیس بیان میں مزیدبتایاگیاکہ جائے واردات سے ایک اے کے 47رائفل اوراسکے چارمیگزین سمیت دیگر موادیاسامان بھی برآمد کیاگیا۔پولیس کے مطابق سال2012سے سرگرم حزب کمانڈر معراج الدین حلوائی عسکری محاذ پرکافی سرگرم تھا ،اوروہ کئی ہلاکتوں کیساتھ ساتھ متعددحملوں میں بھی ملوث تھا ،اوراسی بناء پراُس کوA++کیٹگری میں رکھاگیا تھا ۔بیان کے مطابق عبید کئی شہریوں اورسیکورٹی اہلکاروںکی ہلاکتوں میں ملوث تھا ،جن میں ایس پی ائو مدثر احمدڈار ساکن اونت حمام سوپور،سرپنچ حبیب اللہ میرساکن گوری پورہ بومئی ،ہائیگام میں چار پولیس اہلکار،2حریت کارکن اورایک سابق جنگجومعراج الدین ساکنہ بادامی باغ سوپور بھی شامل ہے۔آئی جی پی کشمیر وجے کمارنے شمالی کشمیرمیں طویل عرصہ سے سرگرم حزب کمانڈرمعراج الدین حلوائی کی ہلاکت کوایک بڑی کامیابی قرار دیاہے ۔ انسپکٹر جنرل نے کہا کہ معراج الدین حلوائی موجودہ دور کا برہان وانی تھا۔ طویل عرصے سے سرگرم حزب کمانڈرکی ہلاکت کے بارے میں آئی جی پی نے بتایا کہ انہیں عبید کی نقل و حرکت کے بارے میں ایک خاص ان پٹ (اطلاع) ملی تھی اور پھر مشترکہ طور پر ناکہ لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حلوائی کو ایک ناکے پر زندہ گرفتار کرلیا گیا اور اس سے ایک دستی بم برآمد کیا گیا۔ اس کی پوچھ گچھ کے بعد اس نے کچھ کمین گاہوں کی جانکاری دی، جس کے بعد مشترکہ سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ انکشاف کردہ مقامات میں سے ایک مقام پر عبید کو لیا گیا، جہاں اس نے اپنی اے کے 47 رائفل نکال لی اور فورسز پر فائرنگ کی۔ آئی جی پی کمار نے کہا جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔آئی جی پی نے کہا کہ کمپیوٹر میں عبید ڈپلومہ ہولڈر تھا اور وہ ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ مقامی نوجوانوں کو تربیت بھی دیتا تھا۔ وہ بہت سے واقعات میں ملوث تھا اور اس کے خلاف بہت سے مقدمات درج ہیں۔ کمار نے بتایا کہ ان کے انکشاف کردہ دو ٹھکانوں پر چھاپے ڈالنے سے پہلے ہی عسکریت پسند فرار ہو گئے تھے۔پولیس نے مزید بتایاکہ مہلوک،سال2016میں مارے گئے حزب کمانڈر برہان وانی کاہم عصر تھا۔
سوپور
اولڈ ٹاؤن سوپور میں مقامی عسکریت پسند کی ہلاکت کیخلاف کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔کرالہ گنڈ ہندوارہ میں فائرنگ کے تبادلے میںجاں بحق جنگجو کمانڈر معراج الدین حلوائی ولد عبدالخالق ساکن خوشحال متو اولڈ ٹائون سوپور کا رہنے والا تھا۔انکی ہلاکت کی خبر جونہی بدھ کی صبح سنی گئی تو جزوی جزوی شٹ ڈاؤن کیا گیا۔ اولڈ ٹاؤن ، مین چوک ، خوشحال متو اور چھوٹا بازار سوپور سمیت ملحقہ علاقوں میں بیشتر دکانیں بند رہیں۔البتہ ٹریفک معمو ل کے مطابق چلتا رہا۔
آج اور 13جولائی کو انٹر نیٹ کی بندش نہیںہوگی: آئی جی
سرینگر/بلال فرقانی/ انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا ہے کہ آج یعنی8 اور 13 جولائی یوم شہداء کے موقعہ پر انٹرنیٹ خدمات کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم امن برقرار رکھنے کیلئے پولیس نگرانی میں اضافہ کیا جائیگا۔سری نگر میں نامہ نگاروں کے منتخب گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے ، آئی جی پی نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار آن لائن پورٹلوں پر 8 جولائی اور 13 جولائی کو ہڑتال کی کال کرنے والے پوسٹر گشت کر رہے ہیں تاہم’’پولیس پارٹی سید علی گیلانی کے گھر اس بات کی تصدیق کرنے گئی کہ آیا انہوںنے کوئی ہڑتال کی ہے یا نہیں ، لیکن کنبہ کے افراد نے گیلانی کے نام پر پوسٹروں کی تردید کی اور ان کو جعلی قرار دیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ پولیس انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی لیکن 8 جولائی اور 13 جولائی کو سماج مخالف اور امن دشمن عناصر کی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔ ‘‘ا ن کا کہنا تھا’’5 اگست ، 2019 سے ، کشمیر میں کوئی شہری ہلاکت نہیں ہوئی ہے جس نے سرحد پار لوگوں کو مایوس کیا ہے لہٰذا امن مخالف عناصر 8 جولائی اور 13 جولائی کو مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہیں‘‘۔
نوشہرہ میں دراندازی
جنگجو کی ہلاکت کا دعویٰ
سمت بھارگو +رمیش کیسر
نوشہرہ //راجوری ضلع کے نوشہرہ سب ڈویژن میں فوج نے دراندزی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک جنگجو کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔فوج نے بتایا کہ سندر بنی میں تلاشی مہم کے دوران نوشہرہ کے سرحدی علاقہ سے جنگجوئوں کے ایک گروپ نے دراندازی کی کوشش کی تاہم مستعد فوجی اہلکاروں نے کوشش ناکام بنا دی ۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کو نوشہرہ سیکٹر میں پیش آیا۔فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دویندر آنند نے بتایا کہ فوج کی چوکسی کی وجہ سے ملی ٹینٹ کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میںایک ملی ٹینٹ ہلاک جبکہ کچھ دیگر زخمی ہوئے ہیں تاہم زخمی ملی ٹینٹ اپنے ساتھیوں کیساتھ واپس فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔انہوں نے بتایا کہ مارے گئے ملی ٹینٹ کی لاش برآمد کرلی گئی ہے جبکہ اس کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے ۔ اس واقعہ میں 2فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔