نگاہیں اس قدر قاتل کہ اُف اُف
ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ
آرزو لکھنوی
جلوہ گری کا مظاہرہ کرنا نسل آدم کی فطرت میں شامل ہے جس سے انسانی دنیا میں حسن کی اداکاری سامنے آتی ہے اداکاری کا خوبصورت عمل حسین امتزاجی مزاج رکھتا ہے جس میں عطائے شوق کا ہر ہنر پنہاں ہے جو ہر لحظ نئی طور رکھتا ہے جس کا بدلتا انداز تبدیلی کا اشارہ کرتا ہے ایسی تبدیلی جو یا تو آدمی کو فریفتہ پن کا جذبہ دلاتی ہے یا پھر خودکشی پر اکساتی ہے، اُکسانے کا فن بھی کیا خوب طریقہ کار رکھتا ہے ۔جہاں عیوب میں بھی جلوہ حسن کاری کی کرنیں پھوٹ پڑتی ہیں جو بھلے چنگے سیدھے سادھے آدمی کو عاشق بنا ڈالتی ہے اور وہ بیچارہ ایسی آگ میں جلنا شروع ہو جاتا ہے جو ’’ بُجھائے نہ بجھے اور لگائے نہ لگے ‘‘ لیکن بجھانے کے بجائے مخاطب کی سادہ مزاجی لگانے پر زیادہ وقت صرف کرتی ہے ۔
معشوق کوئی پیدائشی فرد نہیں ہے بلکہ ایک اس مانس ، وجود یا شخص کا نام ہے جس کی بنیاد عاشق کے ہاتھوں پڑتی ہے ۔عاشق(فریفتہ ) جس عمارت پر بھی گہری اور لاجواب نگاہ ڈالتا ہے نیز جس ڈھانچہ کو بھی عروج کمال بخشنا چاہتا ہے ،اپنی فن کاری سے، تجدید کاری سے ، ہنر مندی سے تو اس عمارت کا نام معشوق پڑ جاتا ہے ۔
عاشقی ہر فرد کے بس کی بات نہیں ہے نہ یہ ممکن ہے کہ ہر نگاہ معشوق پیدا کر سکے نگاہِ مجنون نے لیلا کو دنیا میںا علیٰ مقام عطا کیا، فرہاد کے ہتھوڑے نے شیرین کو دوام بخشا،زلیخا نے معشوق یوسف کو قید کر ایا۔ حضرت موسیٰ کو معشوق ازل نے طور سے بے خودکرایا، عاشق نے ناز نمرود کو گلزار کرایا۔ اس اعتبار سے لامحدود کو محدود میں قید نہیں کیا جا سکتا ہے شاید اس کی بنیادی وجہ اس کی سدا بہار جمالیاتی حس ہے جو خود میں کوئی ٹھوس وجود نہیں رکھتی بلکہ تجریدی آرٹ کی طرح صرف تصوراتی حلیہ کی مالک ہوتی ہے، جس کے اطراف و اکناف کی کوئی خبر نہیں رہتی ہے یا یہ کہ عاشق کا محور مرکز کیا ہے ،بتانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن عمل بھی۔ جس میں اگر چہ عملی سطح پر ہر بات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے مگر محسوسات کی دنیاقائم کی جاتی ہے ، جہاں کسی اصول فکر، ضابطہ اخلاق یا کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آتی ۔
معشوق کو محاصرے میں لینا عاشق کے لئے نہایت صبر آزما کام ہوتا ہے ۔ جس میں نقشے کا انتخاب، علاقے کا وسعی پھیلاؤ سیاسی میدان کی گرم بازاری، معشوق کے نگہبانوں کی حفاظت کا انتظام ، رقیبوں سے دشمنی جیسے معتدد مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ خیالات کو احاطے کے اندر مقید کرنا اس لئے بھی ناممکن مسئلہ ہے کیونکہ ان کا ایک سرا ہاتھوں میں لیجئے تو دوسرا پھسل جائے مگر اس کا کیا کیجئے کہ خیالات کا پھسل جانا محبت کی بنیادی علامت ہے، ایسی علامت جسکی تعبیر کی ہی نہیں جا سکتی ۔اس اعتبار سے حد بندی کا تعین یقیناً مشکل مسئلہ ہے ۔ خیالات کی افراتفری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بکھر جاتے ہیں جن کا بکھراو موج دریا کی طرح کبھی کناروں سے ٹکرا جاتا ہے تو کبھی دریا کے درمیان رواں دواں ہوتا ہے دل کی گلکاری ہزار طرح کی حالتیں رکھتی ہیں جن کی بدولت معشوق کی حیثیت کو جانا اور پہچانا جاتا ہے جو کہ ظاہری سطح پر اظہار ذات کی بنیادی مثال قائم کر سکتا ہے ۔معشوق کی ہر اس ادا پر عاشق جان لٹانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس سے انہیں کسی بھی قسم کی تسکین حاصل ہو جاتی ہو اور ہر اس عاشق کے خطا اوسان ہو جاتے ہیں جو فطرتاً معصوم اور سچا عاشق ہوتاہے ۔
خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے ، آدمی کیا ہے
خمار بارہ بنکویؔ
معشوق کی مختلف قسمیں ہمیں ملتی ہیں، جن میں چند ایک تو واقعتا عاشق پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہوتے ہیں اس حد تک کہ قربانی کے درجے سے بھی آگے جا کر یا تو ہمیشہ کے لئے عاشق کی بن کر رہ جاتے ہیں، اپنے اپنوں سے بہ بانگ دُہل اعلان جنگ بھی کر بیٹھتے ہیں اس جنگ و جدل کے عمل میں یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنے خون کے رشتوں سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ ان عاشقوں کو جنھیں اپنے محبوب حاصل ہوں کو چاہئے کہ اپنے معشوق کو جان سے بھی عزیز رکھیں ،یہاں تک کہ ان کے لئے اپنی جانیں نچھاور کریں جیسے انھوں نے کی ہوتی ہیں ۔ معشوق کے مزاج کا امتزاجی عمل قدرے مختلف اور سیمابی بھی ہوتا ہے جس میں ہر آن تبدیلی کا خطرہ لاحق رہتا ہے ایسی تبدیلی جس کو تبدیل کرنا چلینج ثابت ہوتا ہے ،جس میں خیالات کی جادوگری، دل کی آفسردگی، دماغ کی پریشانی ، سماجی سیٹ آپ کی متعدد رکاوٹیںشامل ہوتیں ہیں۔ آگاہی کا خوبصورت اطلاتی نظام بھی کئی سطحوں پر عاشق معشوق کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا کام بخوبی انجام دیتا ہے جو صرف جلتی پر تیل لگانے کا کام کرتے ہیں ،جس سے آگ پہلے دل میں لگ جاتی ہے اس کے بعد پورے بدن کو راکھ کر دیتی ہے یہاں تک کہ سارا گھر اس آگ کی زد میں آتا ہے اور اسی طرح یہ آگ پوری بستی کو جلا دیتی ہے ۔
معشوق فریبی اس معشوق کو کہا جاتا ہے جس میں یہ ہنر پوشیدہ ہوتا ہے کہ محبوب کو فریب دے ۔ فریب دینے کی حیثیتیں نرالی ہوتی ہیں یہ ایک انوکھی اور عجیب جگر کاوی رکھتے ہیں ایک ساتھ بہت سارے لوگوں کو عشق کے چکر میں پھنسا کر ہر ایک کو دھوکے میں رکھتے ہیں، ایسے دھوکے میں جس کی پرتیں عمر پیری میں آہستہ آہستہ کھل جاتیں ہیں ۔ ایسے بھی ہزار واقعات تاریخ رقم کر چکی ہے کہ جب عاشق معشوق کا ملن ابدی نہیں ہوپاتا ہے تو بادل ناخواستہ ہی اپنی اپنی منزلیں الگ الگ کرنی پڑتی ہے لیکن کیا کیجئے اس محبت کا ، اس الفت کا جو باوجود بلانے کے بھی بھول نہیں پاتے ہیں :
بلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الہی ترک الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں
حسرت موہانی
اس برابر یاد آنے کا عمل کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالتا ہے کہ اب دونوں دادا دادی کی صورتیں اختیار کر چکے ہوتے ہیں مگر دل کی جوانی کا نکھار آہی جاتا ہے اور یہ دادا دادی ملاقات کی سبیلیں نکال ہی لیتے ہیں ۔ ان ملاقاتوں کی جگہیں پارکوں کے بدلے اسپتال ، راشن گھاٹ ، سوشل ویلفیر دفاتر یا بنک وغیرہ جیسی آماجگاہیں مقرر ہوجاتی ہیں ۔اس طرح سے دل کا غبار نکل جاتا ہے نیز بات بھی باہر نہیں نکل جاتی لیکن وہ لوگ ان حالات کو جانتے ہیں جو اس دور کے گواہ رہ چکے ہوں۔
معشوق کی سادہ کاری بعضے عاشق کو رحیم بنا دیتی ہے جس میں رحیمانہ انداز اختیار کر کے عاشق اقتصادی سطح پر تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور اس بربادی کے داؤ پیچ بھی دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں جس میں فکر و خیال کی وسعتیں بے باک بن کر رہ جاتی ہے لیکن عاشق مجبوری کے عالم میں دل ہار کے رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے کبھی کبھار حالات بگڑ جانے کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔ ان حالات میں عاشق کے ہاتھ بھی پھسل جاتے ہیں اور گھر میں محفوظ تجوریوں کو بھی خالی کرنا پڑتا ہے بعض ایسی نوبت بھی آجاتی ہے کہ علاقے کی مرکزی جامع مسجد کے سامنے ہاتھ بھی پھیلانے پڑتے ہیں تب جا کر کے کوئی صورت بچنے کی نکل آتی ہے ۔
عاشق اور معشوق کا عشق پختہ عمر کو پہنچ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو مرحلہ ابدی ملن یعنی ہمیشہ وصل میں رہنے کے لئے شادی کے مقام تک پہنچ جاتا ہے ،جہا ں سے نئے نام شوہر اور بیوی عاشق اور معشوق کی جگہ لیتے ہیں اب شوہر عاشق نہیں رہتا اور بیوی معشوق نہیں رہتی بلکہ شادی کے چند سال بعد دونوں ایک دوسرے کو ترچھی نگاہوں سے تاک کر ناکام حسرتوں کو دل میں بسائے اپنے ننھے منے کی طرف دیکھ کر لمبی سرد آہیں بھر کر زمانہ عاشقی کو جی بھر کے گالیاں دیتے ہیں ۔ عاشقی اور کھجلی میں چند مماثلتیں یکسان نظر آتیں ہیں عاشقی جہاں بھی ہو ابتدائی سطح پر عجب لذت سے گزرتی ہے عین اسی طرح کجھلی جہاں بھی ہو کجھلانے میں کیفیت دلفریب ہوتی ہے جو کیفیت آہستہ آہستہ ناسور کا راستہ ہموار کرتی ہے مگر عاشقی اپنی گہرائی میں پہنچ کر ہزار گھاؤ کو وجود بخشتی ہیں جنھیں کسی دوائی سے نہ ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دور کیا جاتا ہے بلکہ یہ زخم ہمیشہ ہرے رہتے ہیں جو بغیر پیپ کے رستے رہتے ہیں ۔
کون نہ مرجائے ایسی سادگی پہ اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
غالب
حسرتوں کا ہوگیا ہے اس قدر دل میں ہجوم
سانس رستہ ڈھونڈتی ہے آنے جانے کے لیے
جگر جالندھری