مصنف :محمد شفیع وانی (شاکر شفیع )، اردو لیکچرر محکمہ سکولی تعلیم جموں و کشمیر
ریاست جموں و کشمیرواحد ایک ریاست ہے جس میں اردو زبان صرف رابطے کی زبان lingua-franca ہی نہیں ہے بلکہ اسے یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے ۔یہاں کے نامور ادباء اور شعراء نے اپنی نگارشات کی وجہ سے برصغیر میںاس زبان کے حوالے سے اپنا لوہا منوایا اور ہر دن یہاں کے مقامی روزناموں میں متنوع تخلیقات سامنے آجاتی ہیں، حقیقی معنوں میں ایک طرف یہاں الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا تو دوسری طرف یہاں کے فکشن نگار اور شاعر اس شرین اور میٹھی زبان کو توقیت بخشنے میں کوئی قصر باقی نہیں چھوڑرہیں ہیں اسی تناظر میں کشمیر اردو زبان کا مرکز ہی نہیں ہے بلکہ ایک ’’دبستان ‘‘ بن چکا ہے ۔
زیر تبصرہ کتاب : ’’ہر فن مولا ‘‘ پروفیسر محی الدین حاجنی (تاریخی ، علمی و تحقیقی مطالعہ )
اردو ادب میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس تصنیف کوسال ۲۰۱۹ء میںریاست کے معروف پبلشر ، میزان پبلشر بٹہ مالو ،سرینگر نے کشمیر بک پرموشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام شائع کیا۔کتاب کی قیمت ۳۵۰ روپیے ،ضخامت ۱۳۳ صفحات پر مشتمل ہیں او رمصنف نے اس کا انتساب اپنے والدین کے نام کیا ہے۔ زیر تبصرہ تصنیف تین ابواب پر محیط ہیں ۔ باب اول : حالات زندگی ،باب دوم : محقق ونقاد حاجنی اور باب سوم :تخلیق کار حاجنی ۔کتاب کے شروع میں ڈاکٹر عزیز حاجنی (سابقہ سیکرٹری جموں و کشمیر کلچرل اکادمی) نے اپنے تاثرات پیش کیے ہیں جس میں انہوں نے مختصراً طور پر پروفیسر محی الدین کی شخصی اور علمی بصیرت کوپر مغز پیرائے میں بیان کیا ہے ۔سب سے خوبصورت بات اس میں یہ ہے کہ مصنف نے اس کا پیش لفظ کسی بڑے ادیب سے نہیں لکھوایا بلکہ یہاں پر بھی انہوں نے اپنے ذوق اور ذہانت سے کام لیا اور ایک فصیح پیش لفظ ’’اپنی بات ‘‘ کے عنوان سے لکھا ۔ انہوں نے بلیغ انداز میں اس کی شروعات ادب ادیب اور سماج کے رشتے سے کی اور جموں وکشمیر میں اردو زبان کے آغازو ارتقا ء پر ایک مختصر خاکہ پیش کیا اور ساتھ ہی ساتھ ریاست میں اردو شعر وادب کی انفرادیت کو بھی قائم کیا ۔مصنف نے دلکش اندازمیں’’حاجن ‘‘ کی تایخی ، ادبی ، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی انفرادیت کو برائے کار لانے کی عمیق کوشش کی ہے اور آخر پر پروفیسر محی الدین حاجنی کی شخصیت کواپنے اسلوب کی وجہ سے انفرادیت عطا کی ۔
باب اول : میں مصنف نے پروفیسر محی الدین حاجنی کی سوانحی کوئف کو پیش کرنے سے پہلے ریاست کے قدرتی مناظر لالہ زاروں ، آبِ شاروں اور یہاں کے حسن و جمال کی بھر پور عکاسی کی ہیں اور کشمیر کو علم و آگہی کا مرکز گردانتے ہوئے انہوں نے یہاں کی تاریخ سازشخصیات کا سرسری طور پر جائزہ پیش کیا ہے بدھ مت اور شیو مت کے اسکالروں سے لے کر پانچویں صدی سے بارہویں صدی تک جو شاعر و ادیب اس گلشن نے پیدا کیے ان میں ماتری گپتا ، پراواریسینا دوم ، بہماہا ، رتنا کارا ، ادی شنکر ، آنندوردھن ، ابھنوگپت ، ممٹ ، کلہن ،ارنی مال ، شیخ العالم ، لل دید ، ان کا ذکر کیا گیا ہیں اور بعد میں غنی کاشمیری ، وہاب پرے حاجنی ، احمدبڑوارے ، شمس فقیر ، محمود گامی ، مہجور ، صمد میر ، رحمان ڈار ، نعمہ صاحب ،وہاب کھار اور وغیرہ جیسے شعراء اور ادباء کا خاکہ پیش کیاگیا ہیں اور بعدمیںپروفیسر محی الدین حاجنی کا خاندانی پس منظر کے ساتھ ساتھ ان کی ابتدائی زندگی ، تعلیم و تربیت ،تند مزاجی ،حاضر جوابی ، ازدواجی زندگی ، اولاد ، دوست و احباب ، ملازمت ، ادبی زندگی کی معرکہ آرائیاں اور علی گڑھ یونی روسٹی کی روداد نہایت ہی تحقیقی بنیادوں کو سامنے رکھ کر بیان کیا۔ یعنی اس باب میں ان کی زندگی کا خاکہ پیدائش سے لے کر آخری سفر تک بیان کیا ہے ۔اس باب کے بین السطور مطالعے سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پروفیسر محی الدین حاجنی ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کو کشمیریوں اور کشمیری زبان کے تئیں وقف کر دی تھی ۔اس باب میں شاکر شفیع صاحب نے کافی محنت سے کام لیا ہے اور مواد کی فراہمی کے لیے انہوں نے خون جگر صرف کیا ہے اور ایک حقیقی محقق کے اصول و ضوابط کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اپنی اس کا وش کو قیاس آرائی اور سنی سنائی باتوں سے بچائے رکھا اس طرح سے مصنف نے ایک بہترین انداز میں پروفیسر محی الدین حاجنی کے منفی اور مثبت دونوں پہلوئوں کو قارئیں کی نظر کردیا اور اپنے تحقیقی کام میں غیر جانب داری سے کام لیا ۔
باب دوم : اس میں انہوں نے پروفیسر محی الدین حاجنی کو بحیثیت محقق اور نقاد کے حوالے سے ان کے مقالات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی اور حقیقی معنوں میں مصنف نے ایک باذوق قاری کی حیثیت سے ان مضامین کا بغور مطالعہ کیا اور اپنے منفرد ڈکشن اور اسلوب کی بدولت ان مضامین کی جست کو قائین کے سامنے پیش کیا اور ساتھ ہی ساتھ کہیں کہیں تشریح اور تفسیر سے بھی کام لیا ۔پروفیسر محی الدین حاجنی نے علی گڑھ مسلم یونی وسٹی میں اپنی طالب علمی کے دوران لٹن کتب خانے میں ابالمغیث حسین ابن علی المنصور الحلاج جو تیسری صدی میں داراالسلام بغداد میں پیدا ہوئے ۔ان کی شہر آفاق تصنیف ’’کتاب الطواسین ‘‘ کی اردو تفسیراور ترجمہ کیاہے اس کتاب کو انہوں نے اپنے حافظے کی بدولت ترجمہ کیا ہے کیوں کہ اس کتاب کو لائبرری سے باہر لے جانا منع تھا لیکن پروفیسر محی الدین حاجنی نے یہ فرہاد والا کام اپنی ذہانت کے طور پر کیا اور ہر روز دس پندرہ صفحات پڑھ کر اپنے کمرے میں ان کا آسان اور سلیس ترجمہ اپنی یاداشت کے طور پر کرلیتے تھے اور اسی کتاب کا چربہ یہاں مصنف نے پیش کیا ہے اور بہت حد تک اس میں کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ دوسرا مضمون ’’پروفیسر حاجنی کے وہاب ‘‘ کے نام سے ایک اچھا مضمون ہے جس میں مصنف (شاکر شفیع) نے پروفیسر محی الدین حاجنی کے پانچ مضامین جو انہوں نے حاجن کے مشہور شاعر و ادیب وہاب پرے حاجنی کے تعلق سے قلم بند کیے تھے ان کا کراکس (crux)بیان کیا ہے اور ان مضامین کے بین السطور مطالعے سے ثابت کیا ہے کہ وہاب پرے حاجنی کو ’’فردوسئی کشمیر ‘‘ کا لقب کیوں دیا گیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ پروفیسر محی الدین حاجنی نے کشمیری ادیبوں اور شاعروں کو اردو زبان کے حوالے سے مشہور و معروف کردیا۔’’مولوی صدیق اللہ حاجنی ؔ ‘‘ کے نام سے ایک اور مضمون اس باب میں شامل ہیں جس میں مصنف نے اس بات کو بھاور کرانے کی کوشش کی ہے جہاں پر انہوں (پروفیسر محی الدین حاجنی) نے اپنے علاقے حاجن کے معروف شاعر کو شہرت دوام بخشنے میں ایک اہم رول ادا کیا وہیں دوسری طرف انہوں نے یہاں کے علمائے دین کی دینی خدمات کو بھی پیش کیا ہے ۔کشمیری لوک ادب کے حوالے اس میں ایک اہم مقالہ ہے جس میں مصنف نے پہلے لوک ادب کی بہترین تعریف و توضیح کی ہے اور پھر پروفیسر محی الدین حاجنی کے مضمون کی مختصر تفسیر بیان کی ہے ۔’’علامہ اقبال اور حلاج ‘‘ کے نام سے اس فصل میں ایک مضمون ہے جس میں ابالمغیث حسین ابن علی المنصور الحلاج اور علامہ اقبال کی زندگیوں کے بارے میں تاریخی شواہد کی بنیاد پر بات کی گئی ہے اور دوسری طرف پروفیسر حاجنی نے حلاج اور اقبال میں مماثلتیں دکھانے کی کوشش کی ہے اور علامہ کی ’’خودی ‘‘ اور منصور کی ’’ انانیت ‘‘ کو ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مماثل ٹھہرایا۔ بقول مصنف حاجنی ؔ نے ان دونوں کو اعلیٰ پائے کا عاشق رسول ﷺ قرار دیا ۔ اس باب کے آخری مضمون ’’ آگ اور مرزا عارف کی ایک رباعی ‘‘ کے نام سے شامل ہیں اس مضمون میں مصنف نے پروفیسر حاجنی ؔ کو ایک متنوع شخصیت قرار دیا ہے اور’’ہرفن مولا‘‘ کے لقب سے نوازا ہے کیوں کہ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی شعبہ کیوں نہ ہو حاجنی مہارت رکھتے تھے اور اس مضمون میں عارف کی ایک کشمیری رباعی کو حاجنی ؔ نے نئے منطقی اثباتیت کے حوالے سے جاننے کی از سر نو کوشش کی ہے۔
تیسرا باب : ’’تخلیق کار حاجنی ہے ‘‘ اس باب میں مصنف نے اپنی تخلیقی جادوبیانی سے کام لیا ہے اور پروفیسر حاجنی کو بحیثیت انشائیہ نگار ، صحافی اور مکتوب نگار کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی ہے پہلا مضمون ’’ پروفیسر حاجنی کی انشا ئیہ نگاری ‘‘ کے نام سے درج ہے جس میں مصنف نے انہیں ایک کامیاب انشائیہ اور طنزو مزاح نگار قرار دیا ہے اور ان کی زبان و بیان کو سادہ اور آسان ٹھہرایا ہے ۔دوسرا مضمون ’’ پروفیسر حاجنی ؔ اور اردو صحافت ‘‘ کے نام سے لکھا گیا ہے جس میں مصنف نے بہترین انداز میں کشمیر کی اردو صحافت کی تاریخ کو رقم کیاہیں اور ساتھ ہی ساتھ رسالہ ’’ گلریز‘‘ جس کی اشاعت ۱۹۵۰ء میں ہوئی تھی اس کی اہمیت و افادیت کو بھی بروئے کار لانے کی سعی کی ۔اوراس کے بعد پروفیسر حاجنی کی صحافی زندگی کو رسالہ ’’پرتاب ‘‘ اور رسالہ ’’ گلریز‘‘ کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی ہے ۔تیسرا مضمون جو اس کتاب کا آخری مضمون بھی ہے ’’پروفیسر محی الدین حاجنی ایک مکتوب نگار‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں مصنف نے ان کی مکتوب نگاری کا جائزہ لیا ہے اور اس بات پر افسوس کیا ہے کہ ان کے متعدد مکاتیب دستیاب نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ان مکاتیب کی ادبی اور علمی اہمیت کو غالب ، علامہ اقبال اور ابولکلام آزاد کے مکاتیب سے ہم پلا کیا ہے یہاں پر مصنف ذاتی عقیدت کا شکار نظر آتے ہیں ۔ آخر پر مصنف (شاکر شفیع ) نے ایک مفروضہ hypothesisقائم کی ہے جو ایک اچھے تحقیق نگار کی علامت ہیں اور انہوں نے بنیادی ماخذ کے علاوہ ثانوی ماخذ سے بھی استفادہ کیا ہے جو اس کتاب کی کتابیات سے پتہ چل جاتا ہیں ۔
مصنف ایک نامور ادیب ، سماجی مصلح ،مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف استاد کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں انہوں نے اس سے پہلے ایک کتاب ’’سرمایہ دین ‘‘ جو ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آچکی ہیں اور جہاں تک اس تازہ تصنیف کا تعلق ہے اس میں موصوف نے کافی محنت اور لگن سے کام لیا ہے کیوں کہ انہیں مواد کی فراہمی میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اور اس معروف شخصیت کے افکار و خیالات کو سمجھنا ایک باذوق قاری کی تلقین کرتا ہے اور پھر ان مقالات کا کراکسcrux پیش کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ اس کا اسلوب سادہ اور سیلس ہے اور ان کا ڈکشن بھی اپنی انفرادیت کا حامل ہیں اور رہی سہی اس کتاب کی معنویت کی بات تو یہ کتا ب اپنی علمی نوعیت کی بدولت ایک اضافہ ہے اور پروفیسر حاجنی کی فکر اور دانش کو سمجھنے کے لیے یہ ایک کامیاب کوشش ہے اور اس شخصیت کے حوالے سے نئے زاویے سامنے آئیں گے ۔ جہاں تک اس کتاب کی منفی رویے کا تعلق ہے اس میں کہیں ایسا دیکھنے کونہیں ملتا ہے ہاں البتہ مصنف نے کہیں کہیں Superlativesسے کام لیا ہے اور ان کی خطوط نگاری کو اردو ادب کے معماروں سے ہم پلا کرنے کی کوشش کی ہیں ۔میں ذاتی طورسے شاکر صاحب کو اس عمیق کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں !!!!!
���
ای میل۔ [email protected]
(ریسرچ سکالر ،شعبہ اردو ،یونی ورسٹی آف کشمیر )