بھدرواہ//آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری اور ہلاکت پر حکومت کاانتہائی افسوس ناک رویہ پرناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھدرواہ میں آصیفہ کو انصاف دلانے اور قصورواروں کو پھانسی پر لٹکانے کے حق میں زبردست احتجاج کیا ۔سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سیول سو سائٹی بھدرواہ کے بینر تلے اس کے صدر نجمس ثا قب کی قیادت میں جمع ہوئے اور انہوں نے انصاف کے حق میں اور حکومت ، بی جے پی اور آر ایس ایس مخالف نعرے بلند کئے۔مظاہرین جامع مسجد بھدرواہ میں اکٹھے ہوئے جہاں سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے واپس جامع مسجد میں اختتام پذیر ہوئی۔مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں’ آصیفہ کو انصاف ملے،‘ملزموں کو پھانسی دو،زانیوں اور قاتلوں کی حفاظت نہیں کرو،ہم مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں ،آصیفہ ہم شرمندہ ہیں ،تیرے قاتل زندہ ہیں اور انصاف کی تخریب کاری برداشت نہیں کریں گے نعرے لکھے ہوئے تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ چند مفاد پرست لوگ اس ہولناک جرم کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر ملزموں کا بچانا چاہتے ہیںجو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نجمس ثاقب نے کہا کہ آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل شرم اور معاشرے کے خلاف جرم ہے۔ہر کسی کو آگے آ کر اس کی مذمت کرنے چاہے۔انہوں نے کہا کہ ملزموں کے حق میں کھٹوعہ کے وکیلوں کا احتجاج قابل مذمت ہے۔یہ دکھنے والی بات ہے کہ کیسے مجرموں کو بچانے کیلئے بی جے پی کے کیبنٹ وزیروں اور بعد میں بی جے پی حمایت یافتہ وکیلوں نے نا کام کوششیں کیں۔انہوں نے اس کیس میں غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لئے کرائم برانچ کو سراہا اور اب یہ کیس سی بی آئی کے سپرد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سیول سو سائٹی ممبر ریاض نجار نے کہا کہ ہم نے یہ کبھی دیکھا کہ مجرموں کے حق میں احتجاج کئے گئے ہوں ،یہ احتجاج سیدھے طور سے غیر جانب دارانہ تحقیقات میں دخل اندازی ہے۔