چھاترو // کٹھوعہ میں نابالغ لڑکی کی عصمت دری و قتل کے خلاف امام مرکزی جامع مسجد چھاترو مولانا عبدالواحد کی قیادت میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ میں لوگ بڑی تعداد میں شامل ہوئے مظاہرین نے ہاتھوں میں موم بتیاں لی ہوئی تھی جبکہ کئی لوگوں نے ہاتھوں میں تختیاں لی ہوئی تھی جن پر نابالغ لڑکی کے حق و انصاف کے نعرے درج تھے جبکہ قتل و عصمت دری میں شامل لوگوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقعہ پر کینڈل مارچ میں لوگوں نے نابالغ متاثرہ بچی کے حق میں فوری انصاف اور ملوثین کو سزائے موت کے نعرے لگا رہے تھے اس موقع پر امام جامع مسجد چھاترو مولانا عبدالواحد نے کہا کہ نابالغ لڑکی کے ساتھ ایسی درندگی نہایت ہی افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح کئی لوگ ان مجرموں کے بچاو میں سامنے آئے ہیں یہ قابل قبول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ نابالغہ کی عصمت کو تار تار کرہے کے درندگی سے قتل کیا گیا جو کہ غیر انسانی غیر اخلاقی امرہے۔ انہوں نے کہا کہ نابالغ لڑکی انصاف دلانے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریپ جیسے جرائم کو کوئی سماج یا مذہب جائز نہیں ٹھرا سکتا نہ ہی ان جرائم میں ملوث افراد کا کوئی مذہب ہو سکتا ہے لہذا مجرم کو مذہبی چشمے سے دیکھنا انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مذہبی رنگت دینا افسوسناک ناک ہے انہوں نے مزید کہا کہ بار ایسوسی ایشن جموں و وکلاء کی جانب سے اس معاملے میں منفی سوچ سمجھ سے بالا تر ہے کیوں کہ وکلاء انصاف دلانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سرکار سے مانگ کرتے ہیں کہ نابالغہ کو فوری طور پر انصاف کے لئے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جانی چاہے تاکہ ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچا کر سخت سزا دے کر مثال قائم ہو سکے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سامنے نہ آ پائیں۔ انہوں مزید کہا کہ وہ تحقیقاتی ایجنسی سے مطمئن ہیں امید ہے کٹھوعہ عصمت دری میں ملوث افراد کو جلد از جلد سخت سزا دی جائے گی اس موقعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔