سرینگر// حریت کانفرنس (ع)جس کی سربراہی غیر قانونی طور نظر بند رکھے گئے میر واعظ عمر فاروق کررہے ہیں، نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی ہلاکتوں میں حالیہ اضافہ کشمیر تنازعہ کے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے اور یہ سنگین صورتحال جس سے یہ خطہ دوچار ہے مسئلہ کو مستقل بنیادوں پرحل کرکے ہی قتل و غارتگری کو روکا جاسکتا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ خطے کی تیزی سے بدلتی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال بھی اس تنازع کے فوری حل کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔حریت (ع)نے کہا کہ حدمتارکہ پر بھارت اور پاکستان کے مابین بندوقیں خاموش رہنے سے ایل او سی کے قریب رہائش پذیر لوگوں کو امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جس سے ہندوستان پاکستان تعلقات میں سدھارکی طرف بھی اشارہ ملتا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے یہ بات ہمیشہ خوش آئند رہی ہے جب دونوں پڑوسیوں کے مابین مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے تنازع کشمیر کے حل کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم یہ بدقسمتی ہے کہ اس حوالے سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو اب تک اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ تو باہمی تعلقات میں کچھ زیادہ پیش رفت ہو رہی ہے اور نہ ہی زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں اور مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے کیونکہ سیاسی قیادت اور سینکڑوں سیاسی قیدی اور نوجوان جیلوں یا گھر میں نظربند ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگوں کی صحت کی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق محمد یاسین ملک ،جو دل کے مریض ہیں اور ان کے25سال پرانے دل کی Valve کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ شبیر شاہ کی طبیعت بھی جیل میں خراب ہوگئی ہے کیونکہ وہ بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔بیان میں کہا گیا کہCOVID-19کے قہر انگیز پھیلاو کے پس منظر میں انسانی بنیادوںپر سماج کے تمام طبقات اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی بار بار اپیلوں کے باوجود ، سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کو ابھی تک رہا نہ کیا جاناحد درجہ افسوسناک اور قابل تشویش ہے۔ حریت(ع) نے کہا کہ COVID-19 کے دوران بھی جموںوکشمیر کے عوام کو ڈرانے دھمکانے کیلئے مسلسل عوام کُش اقدامات کئے جارہے ہیں۔حریت (ع)نے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکومت ہند کی جانب سے یکطرفہ فیصلے کے تحت اگست 2019 میں دفعہ 370 اور35A کو منسوخ کرنے اور نئی دہلی کے زیر انتظام جموںوکشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ہی یہاں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مقصد سے متعدد قوانین نافذ کئے گئے جن کی وجہ سے ایک طرف یہاں کے عوام میںیہ خدشات پائے جارہے ہیں کہ یہ سب کچھ انکی شناخت کو ختم کرنے کی ایک گہری سازش ہے ،ان نئے قوانین کے نفاذ کے بعد ، روزگار کی ضمانتوں ، زمین کے حقوق اور بیرونی لوگوں کے ذریعہ قدرتی وسائل کے استحصال کے زیاں پر بھی سخت تشویش پائی جاتی ہے جس کے سبب لوگوں میں نفسیاتی بیماریوں میں زبردست اضافہ اور اس کے نتیجے میں خودکشی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ دوسری طرف شہری ہلاکتوں ، زیر حراست قتل، پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی ہلاکت اور عسکریت پسند نوجوانوں کی ہلاکتوںکے واقعات اور قتل و غارت اور خونریزی دراصل دیرینہ مسئلہ کشمیر کو معلق رکھنے کا سبب ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حریت (ع)ہمیشہ سے ہی خطے میں رہنے والے تمام باشندوں کیلئے امن اور ترقی کی نہ صرف حامی اور وکیل ہے بلکہ اسے پختہ یقین ہے کہ ہندوستان ، پاکستان ، جموں و کشمیر کے عوام کے امنگوں اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرسکتے ہیں اور اس کے لئے سازگار ماحول قائم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اور سنجیدہ باہمی مذاکرت کی شدید ضرورت ہے تاہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حکومت ہندکو چاہئے کہ وہ اگست 2019 سے جمہوریت کے نام پر یہاںکئے گئے تمام اقدامات اور ان تمام قوانین کو منسوخ کرے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے ناقابل قبول ہیں۔ نیز گرفتار کئے گئے تمام نوجوانوں ، سیاسی قیدیوںکو جیلوں اور حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق سمیت تمام نظر بندوںکو فوری طور رہا کرے۔