راجوری +پرویز خان //ریاستی حکومت کی طرف سے ڈگری کالجوں کے قیام میںد رہال اور منجاکوٹ کو پھر سے نظرانداز کردیاگیاہے جس پر مقامی لوگوںنے دونوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے شروع کردیئے ہیں ۔درہال کے لوگوںنے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا ۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس بات کا عزم کیاہے کہ یہ احتجاج درہال کو کالج ملنے تک جاری رہے گا۔مقامی لوگوںنے جمعہ کے روز مین چوک میں جمع ہوکر حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور درہال کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ۔انہوںنے کہاکہ احتجاج کالج ملنے تک جاری رہے گا۔کمیٹی کے کنوینئر ایڈووکیٹ زاہد سرفراز ملک نے کہاکہ درہال ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ ہے جس میں غریب لوگ رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مقامی طلباء کو کالج کی تعلیم کیلئے راجوری جاناپڑتاہے جو ان کیلئے کافی مہنگا ثابت ہوتاہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلباء ترک تعلیم پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت درہال کے لوگوں کی جائز مانگ کو نظرانداز کررہی ہے ۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر محمد اقبال ملک نے کہاکہ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ڈگری کالج درہال کا حق ہے جو اسے ملناچاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ دیرینہ مانگ ہے جس کو پورا کیاجائے ۔ کمیٹی کے چیئرمین حافظ محمد سعید نے سولہ اپریل کو راجوری چلو کی کال دی ہے ۔وہیں منجاکوٹ کے لوگوںنے بھی کالج کے معاملے پر نظرانداز کرنے پر احتجاج کیا ۔اس دوران انہوںنے جموں پونچھ شاہراہ کو آدھے گھنٹے تک ٹریفک کیلئے بھی بند رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ اس موقعہ پر مولانا گلزار،فاروق خان، شفاعت حسین،تصدق حسین،ایڈووکیٹ قادر خان،ایڈووکیٹ مظہر علی خان وغیرہ نے کہاکہ منجاکوٹ میں کالج کیلئے کئی عرصہ سے مانگ کی جارہی ہے اور انہیں امید تھی کہ اس بار اس علاقے کو اس کا حق ملے گاتاہم ایسا نہیں کیاگیا اور منجاکوٹ پھر سے نظرانداز ہوگیا ۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں کالج نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی پڑھائی نہیں ہوپاتی ۔انہوںنے کہاکہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ دیگر علاقوں میں کہاںکہاں کالج دیئے جارہے ہیں مگر منجاکوٹ کے ساتھ انصاف ہوناچاہئے اور جلد کالج کی منظوری دی جائے نہیں تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔