کپوارہ میں 161کووِڈ- 19کے فعال مریض
کپواڑہ// سرینگر، اننت ناگ اور کپواڑہ کے ڈپٹی کمشنروں نے لوگوں سے کووِڈ ۔19پر قابو پانے کے لئے کووِڈ مناسب طرز عمل ( سی اے بی ) اور ایس او پیز ماسک کا استعمال اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا جاری رکھنے کی اپیل کی۔اِن باتوں کااظہار انہوں نے میڈیا اَفراد کو ضلع میں کووِڈ موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دینے کے دوران کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کہا ہے کہ کورونا مخالف ٹیکہ کاری مہم کے دوران جمعہ کوضلع سرینگر میں مزید تیزی لائی گئی ہے اور اب تک ضلع میں 4لاکھ 46ہزار 153افراد کو ٹیکہ لگائے گئے ہیں۔ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے ان باتوں کا اظہار سرینگر میں کورونا صورتحال پر ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت سرینگر شہر میں 651سرگرم معاملات موجود ہے۔ تفصیلات دیتے ہوئے اعجاز اسد نے بتایا کہ کورونا صورتحال کے تمام عوامل میں بہتری آرہی ہے اوراسکی کو مد نظر رکھتے ہوئے صورتحال کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کورونا وائرس کی تیسری لہر سے نپٹنے کیلئے ہمیں تمام قوائد و ضوابط پر عمل کرنا چاہئے۔ ڈی سی نے بتایا کہ پبلک پارکوں میں آنے والے افراد کی ٹیکہ کاری کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور بغیر ویکسین آنے والے افراد کی ٹیکہ کاری کی جارہی ہے اور ایسے افراد کیلئے کورونا ٹیسٹ کرایا جاتا ہے۔ ڈی سی سرینگر نے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قوائد و ضوابط میں عمل کرکے خود اور اپنے اہل عیام کو محفوظ بنائیں اور دوسرے لوگوں کو بھی اسکی ترغیب دیں۔ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال میں صحتیابی کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ضلع میں مثبت معاملات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین اور کووڈ مناسب طریقہ کار وائیرس کو روکنے اور خاص طور پر ان لاک مرحلے کے دوران انفیکشن میں کسی بھی طرح کی بحالی روکنے کیلئے بہت ضروری ہے ۔ ڈی سی نے یہ باتیں کووڈ 19 کے منظر نامے اور ضلع میں اس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کے بارے میں بریفننگ دیتے ہوئے کہیں ۔ لوگوں کو فوری طور پر ویکسین کی تاکید کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگلا نے کہا کہ کووڈ ویکسین کی افادیت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہو چکی ہے اور یہ وبائی بیماری کی ایک اور لہر کو قبل از وقت ختم کرنے کیلئے ایک اہم امر بن گیا ہے ۔ تفصیلات دیتے ہوئے ڈی سی نے بتایا کہ صحت یابی کی شرح مزید 98 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ گذشتہ 7 دنوں کے دوران مثبت شرح 0.5 فیصد سے کم ہے ۔ ویکسی نیشن پروگرام پر بات کرتے ہوئے ڈی سی نے کہا کہ اب تک مختلف فائدہ اٹھانے والوں کیلئے 3.38 لاکھ سے زیادہ خوراکیں فراہم کی جا چکی ہیں ۔ ڈاکٹر سنگلا نے یہ بھی بتایا کہ پہلگام میں انتظامیہ کی طرف سے کووڈ کے معاملات میں اضافے کو روکنے کیلئے زائرین اور سی اے بی کے نفاذ پر پابندیوں جیسے ٹھوس اور فعال اقدامات کئے گئے ہیں ۔ صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کی لگن کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈی سی نے ان پر زور دیا کہ وہ وبائی صورتحال کو موثر طریقے سے دستک دینے کے عزم کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔اُنہوں نے ضلع کپواڑہ کے عوام کا کووِڈ سی اے بی پر عمل کرنے کے لئے شکر اَدا کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے ایک بار پھر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ وبائی مرض کے خلاف حفاظت کو کم نہ کریں ۔ڈپٹی کمشنر کپوارہ نے کہا کہ ضلع میں مثبت معاملات کی شرح 0.5 فیصد رہ گئی جبکہ صحتیابی کی شرح 98 فیصد ہوگئی ہے جو ضلع کے لئے اطمینان بخش ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ضلع میں اِس وقت 161 سرگرم معاملات ہیں۔اُنہوں نے ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں کہا کہ 45 برس عمر سے زیاہ عمر تک کے لوگوں کوا 69.35 فیصد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے جاچکے ہیں جبکہ ضلع میں ابھی تک 18برس عمر سے 44 برس عمر تک کے لوگوں میں 17.80 فیصد اَفراد کو کووِڈ مخالف ٹیکے لگائے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کووِڈسے بچنے اور قابو پانے کا واحد ہتھیار یہ ہے کہ کووِڈ مناسب طرز عمل پر عمل کیا جائے اور کووِڈ مخالف ٹیکے لگائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ ہسپتال کپواڑہ میں او پی ڈی سروس دوبارہ شروع کی گئی ہے تاکہ لوگو ںکو صحت سہولیت میسرہوں۔اِس موقعہ پر چیف میڈیکل آفیسر کپواڑہ کوثر اَمین اور نوڈل آفیسر کووِڈ غلام نبی شیخ موجو د تھے۔