جموں//پی ڈی پی کے نوجوان لیڈر و ممبر قانون ساز کونسل فردوس احمد ٹاک نے کہاہے کہ اقتدارکی کرسی چھن جانے کے بعدسابق وزیر چوہدری لعل سنگھ بوکھلاہٹ کاشکار ہوگئے ہیں اور وہ عوامی مقامات پر ایسے اشتعال انگیز اور متضاد بیانات دے رہے ہیں جس سے امن و امان خطرے میں پڑ سکتاہے ۔ کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے فردوس ٹاک نے کہاکہ لعل سنگھ کل تک خاموش تھے لیکن کرسی چھن جانے کے ساتھ ہی انہوںنے حکومت کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا شروع کردیاہے اور وہ عوامی مقامات پر ایسے بیانات دے رہے ہیں جو امن و بھائی چارے کیلئے خطرہ ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ لعل سنگھ کے بیانات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ کرسی چھن جانے کے بعد وہ بوکھلاہٹ کاشکار ہوگئے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ سابق وزیر کے متضاد بیانات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ ایک مخصوص فرقہ کے خلاف مہم چلارہے ہیں اور جموں میں امن و امان کے ماحول کو خراب کرنے کیلئے کوشاںہیں ۔فردوس ٹاک نے کہاکہ پہلے وہ کانگریس میں سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر گوجر اور بکروالوں کی بات کرتے تھے لیکن آج ایسی سیاست کررہے ہیں جس سے ان کی ذہنی فکر سب کے سامنے عیاں ہوچکی ہے ۔ٹاک نے کہاکہ گوجر بکروال اور خطہ چناب سے تعلق رکھنے والے لوگ جموں صوبہ کا بڑا حصہ ہیں اور ان کے خلاف باربار عوام میں بیانات دینا امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہوںگے ۔ انہوںنے حکومت خاص طور پر بھاجپا قیادت پر زور دیاکہ وہ سابق وزیر کے خلاف کارروائی عمل میں لائے ۔