یو این آئی
نئی دہلی//مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل نے نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن سے ملاقات کر کے وزارت کے اہم ندی جوڑو پروجیکٹوں اور حکومت کی پانی کے تحفظ کی مختلف پہلوں کی پیش رفت سے واقف کرایا۔نائب صدر کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں پاٹل کے علاوہ جل شکتی کے وزیرِ مملکت راج بھوشن چودھری اور محکمہ آبی وسائل، ندیوں کی ترقی و تحفظِ گنگا کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ افسران نے نائب صدر کو وزارت کے مختلف پروجیکٹوں اور پروگراموں کی معلومات فراہم کیں۔ نائب صدر کو جل سنچے جن بھاگیداری مہم کی کامیابیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ افسران نے بتایا کہ جے ایس جے بی 2.0 کے تحت ملک بھر میں 1.55 کروڑ سے زیادہ پانی کے تحفظ اور زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے (گرانڈ واٹر ریچارج) کے ڈھانچوں کی معلومات درج کی گئی ہیں، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔اس موقع پر رادھا کرشنن کو کین-بیتوا لنک پروجیکٹ، پاروتی-کالیسندھ-چنبل لنک پروجیکٹ اور گوداوری-کاویری لنک پروجیکٹ سمیت اہم ندی جوڑو پروجیکٹوں کی پیش رفت کی معلومات بھی دی گئیں۔ مسٹر رادھا کرشنن نے ان کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے تحفظ کو عوامی تحریک بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ندیوں کا باہمی رابطہ پانی کے بحران اور خشک سالی کے مسئلے کو کم کرنے، آبپاشی کی صلاحیت بڑھانے اور متوازن علاقائی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ رادھا کرشنن نے مشورہ دیا کہ کین-بیتوا جیسے قومی اہمیت کے آبی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے منصوبوں کی دستاویزی شکل تیار کی جانی چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں ملک کی تعمیر کی ان کوششوں کو سمجھ سکیں اور ان پر فخر کر سکیں۔ انہوں نے ندی جوڑو مہمات کی حمایت میں اپنی سابقہ پد یاترا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروجیکٹوں کے نفاذ میں فنڈز کی کمی سب سے بڑا چیلنج نہیں ہے، بلکہ ذہنیت اور سیاسی نقطہ نظر سے جڑی رکاوٹیں زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے پانی کے انتظام کے شعبے میں دور اندیش اور تعاون پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر برائے جل شکتی اور وزیرِ مملکت نے نائب صدر کو ستمبر 2026 میں منعقد ہونے والے انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک-2026 میں شرکت کی دعوت بھی دی۔