راجوری//الہدیٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین نے آصفہ قتل کیس میں وکلاء کے رویہ کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ کٹھوعہ عدالت میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کچھ لوگ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی عدلیہ کے احترام کا لحاظ نہیںکرتے ۔راجوری پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر محمد شمسی نے کہاکہ وکیل ایک ایسا طبقہ ہے جسے عوام کے لئے مسائل حل کرنے اور سماجی اور سیاسی معاملات میں خامیوں کو دور کرنے کے لئے جاناجاتاہے لیکن کٹھوعہ میں عدلیہ کے رکھوالوں نے جو شرمناک کھیل کھیلاہے ،اس سے انسانیت بھی شرماگئی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ آصفہ قتل معاملے کی پیروی کررہی وکیل کو دھمکایا جارہا ہے اورعدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں ۔ امیر محمد شمسی نے کہا کہ کرائم برانچ آزادانہ طور پر اپنی تحقیقات انجام دے رہی ہے جس پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے تاہم کچھ لوگ تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے مقصد سے کیس کی منتقلی چاہتے ہیں ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے پروفیسر بشیر احمد ماگرے نے کہاکہ ریاستی سرکار کو چاہئے کہ تحقیقات جموں یاپھر سرینگر ہائی کورٹ منتقل کیاجائے تاکہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے اور متاثرین کو انصاف مل سکے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ آصفہ قتل کیس کی پیروی کررہی وکیل کو تحفظ دے ۔