مینڈھر//مینڈھر کیلئے علیحدہ ضلع کی مانگ پر مینڈھر میںایک بار پھر احتجاج کیاگیا جس کی وجہ سے مینڈھر جموں شاہراہ پر تین گھنٹے تک گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی ۔ احتجاج کی قیا دت آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ممبر پروین سرور خان نے کی۔اس موقعہ پر پروین نے کہاکہ مینڈھر تحصیل 1950میں بنی ہے جس کی اب تین تحصیلیں اورچھ نیابتیں بن چکی ہیں جبکہ آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ بہت وسیع ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی عدم توجہی کے باعث مینڈھر ترقیاتی سطح پر بہت پسماندہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ مینڈھر کو ضلع کادرجہ دیاجائے کیونکہ یہ علاقہ اس کیلئے سب سے زیادہ حقدار ہے ۔پروین نے کہاکہ سب ڈویژن مینڈھر کا بیشتر علاقہ سرحد پر واقع ہے جہاں ہندوپاک کشیدگی کی مار بھی لوگوں کو جھیلناپڑتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مینڈھر کو ضلع کادرجہ دینے پر کوئی بات نہیں کرتا اور لیڈران بھی خاموش ہیں ۔احتجاجی دھرنے کی وجہ سے تین گھنٹے تک جموں مینڈھر سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی ۔اس احتجاجی دھرنے میں راجہ وسیم احمد خان،سردار بابو سنگھ،مولوی محمد عارف،حاجی ظہیر احمد خان، حاجی امتیاز احمد خان، محمد رزاق خان پروین ریٹائرڈ لیکچرار،عالی داد خان ، آزاد خان ،دلشاد جٹ،محمد فرید میر،دویندر کمار ٹنڈن،محمد فاروق عرف منا بھائی وغیرہ بھی شامل تھے۔اس دوران دیگر مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا ۔ مقررین نے کہاکہ خشک سالی سے پینے کا پانی نایاب ہوچکاہے جبکہ سڑکوں کی ابتر حالت ہے اور صفائی ستھرائی کا بھی کوئی انتظام نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔دھرنے کو دیکھتے ہوئے تحصیلدار مینڈھر شہزاد خان نے موقعہ پر پہنچ کر یقین دلایا کہ وہ مطالبات حکومت تک پہنچادیںگے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں حکو مت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہوئی ہے جس میں کئی اعلیٰ افسران شامل ہیں اورانہیں امید ہے کہ کمیٹی مینڈھر کا نام بھی ضرور ضلع کے طور پر پیش کرے گی ۔