سوئوچھ بھارت مشن میں ناقص کارکردگی
بلاک ڈیولپمنٹ افسر کالاکوٹ معطل
راجوری //ضلع انتظامیہ راجوری نے سوئوچھ بھارت مشن میں ناقص کارکردگی پر بلاک ڈیولپمنٹ افسر کالاکوٹ کو معطل کردیاہے ۔ ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کی طرف سے سوئوچھ بھارت مشن کی عمل آوری کا جائزہ لیاگیا جس دوران بی ڈی او میٹنگ میں نہیں آئے البتہ ضلع پنچایت افسر کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق بلاک میں صرف انیس فیصد انفرادی بیت الخلائوں کو جیو ٹیگ کیاگیا ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی سال تیرہ مارچ کو وزیر اعظم نے چیف سیکریٹریوں اور ڈپٹی کمشنروں کی ویڈیو کانفرنس لی جس دوران یہ پایاگیاکہ جموں و کشمیر اس سکیم کی عمل آوری میں پانچ سب سے نچلے درجے والی ریاستوں میں شامل ہے اور اوپن ڈیفیکیشن فری کا درجہ پانے کیلئے کارکردگی میں بہتری کی ضرورت ہے ۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر راجوری نے تمام بلاک ڈیولپمنٹ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اوڈی ایف کادرجہ پانے کیلئے دن رات محنت کریں اور سکیم کو کامیابی سے ہمکنار کرائیں۔
مینڈھر میں چار ملازم غیر حاضر پائے گئے
جاوید اقبال
مینڈھر //بلاک میڈیکل افسر مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمد خان نے ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے چار ملازمین کو چارج شیٹ کرتے ہوئے انہیں اپنے دفتر اٹیچ کردیاہے ۔بی ایم او کے مطابق ان میںسے تین ملازمین گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سنٹر دھارگلون کے ہیں جبکہ ایک ملازم گورنمنٹ پرائمری ہیلتھ سنٹر منکوٹ کا ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ ڈیوٹی سے غیرحاضر پائے گئے عبدالحنیف سپرفارماسسٹ ، سفینہ اختر جونیئر سٹاف نرس ، محمد اشرف دواساز اور نزرین اختر جے ایس این این ایچ ایم کے خلاف چارج شیٹ کیاگیاہے ۔
حکومت مسائل حل کرنے میں ناکام :این سی یوتھ لیڈر
مینڈھر//یوں تو سرکار اپنی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرتے تھکتی ہی نہیں ہے۔آئے روز طرح طرح کی حصولیابیوں کا تذکرہ کرکے معصوم عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن زمینی حقائق سے ان تمام دعووں میں کوئی صداقت نہیں۔مخلوط قیادت کے اقتدار میں عوام کی پریشانیوں کی کوئی حد ہی نہیں ہے خشک سالی کی وجہ سے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہونا قدرتی مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوان روزگار کی خاطر در د کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یوتھ نیشنل کانفرنس کے صوبائی سکریٹری ذیشان جاوید رانا نے پریس بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ریاست اقتصادی و معاشی بحران سے گزر رہی ہے اورمالی خسارے میں بکثرت اضافہ کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے تعمیر و ترقی کے تمام منصوبے روبہ زوال ہوتے جا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مزدوروں کی اجرتیں واجبُ الادا ہیں، دیہی علاقوں میں مناسب سڑک رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے، گذشتہ ایک سال سے مسلسل خشک سالی نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ذیشان رانا نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے یہاں کی پسماندگی میں بے پناہ اضافہ ہو اہے اور سرحد پر گولہ باری کی وجہ سے نہ تو یہاں کا کسان وقت پر اپنی زمینوں میں فصل بو سکتا ہے ،ایسے ماحول میں نہ ہی دوسرا کاروبار کیا جانا ممکن ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کشیدہ ماحول میں یہاں کے تعلیمی ادارے سال ہا سال تک بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے تعلیمی نظام پر نہائت ہی بر ے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ذیشان رانا نے کہا کہ موجودہ سرکار نے نئی بھرتی پالیسی متعارف کروا کر ریاست کی نوجوان نسل کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے جس کی وجہ سے ریاست کی نوجوان نسل کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں فرقہ واریت زور پکڑ رہی ہے ،نفرت عروج پر ہے اور سماجی قدورت اور بے راہ روی اتفاق و اتحاد جو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے جو کہ معزز سماج کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
تھنہ منڈی ۔ شاہدرہ راستہ
ناجائزتجاوزات ہٹانے کا مطالبہ
طارق شال
تھنہ منڈی // تھنہ منڈی سے شاہدرہ زیارت پر جانے والے قدیم راستہ کو واگزار کرانے کے لئے لوگوںنے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے رجوع کیا ہے۔ہسپلوٹ اور تھنہ منڈی کے مقامی لوگوں نے زیارت حضرت با با غلام شاہ بادشاہ شاہدرہ شریف کو جانے والی پگڈنڈی جسکی چوڑائی 10 سے 15 فٹ بتائی جاتی ہے،کو واگزار کرنے کی مانگ کی ہے ۔ سڑک کی تعمیر سے قبل اسی راستہ سے زائرین پیدل سفر کیا کرتے تھے جبکہ شاہدرہ شریف اورمجہور کے لوگ اور اسکولی طلبا اسی راستہ سے تھنہ منڈی آتے تھے اور اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو جاتے لیکن ملحقہ داروں اور زمینداروں نے اس راستہ پر قبضہ کر لیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زا ئرین کو اس راستے پر چلنے میں کافی دقت ہوتی ہے اس لئے ڈپٹی کمشنر مداخلت کرکے راستے پر کئے گئے قبضہ کو ہٹوائیں ۔
فیلو شپ پروگراموں کی مدد سے تحقیقی مواقع
راجوری یونیورسٹی میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال
راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انڈیا ایجوکیشنل فائونڈیشن کے تعاون سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال کا سیشن منعقد کیا ۔اس سیشن کا مقصد طلباء ، سکالروں اور عملے کو یو ایس آئی ای ایف کے تحت چلائے جارہے مختلف فیلو شپ پروگراموں کے بارے میں جانکاری فراہم کرنا اور انہیں مواقع فراہم کرناتھا۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ان پروگراموں کی مدد سے طلباء مختصر مدت اور طویل مدت تک کیلئے امریکہ میں جاکر تحقیقی کام کرسکتے ہیں ۔اس پروگرام میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے طلباء اور عملے نے شرکت کی ۔اس دوران شرکاء نے کئی طرح کے سوالات بھی اٹھائے جن کا ماہرین نے جواب دیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی نے 2018کے لئے داخلوں کا اعلان کردیاہے اور یونیورسٹی تمام شعبوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی پیشکش کررہی ہے ۔ اپنے خطاب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے کہاکہ اس پروگرام سے تحقیقی کاموں میں مدد ملے گی ۔اس موقعہ پر پروفیسر اقبال پرویز ڈین اکیڈمک افیئرس و رجسٹرار نے ماہرین کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طلباء پر زور دیاکہ وہ فیلو شپ پروگراموںسے فائدہ اٹھائیں ۔
حکومت 5684این وائی سیز کی خدمات حاصل کرے گی:انصاری
جموں/ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، تکنیکی تعلیم ، امور نوجوان و کھیل کود کے وزیر عمران رضا انصاری نے کہا کہ حکومت ریاست میں بے روزگاری میں کمی لانے کی وعدہ بند ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ریاست کے 22اضلاع میں 5684 نیشنل یوتھ کارپس کے علاوہ 388 نیشنل یوتھ کیندراس کی خدمات دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ریاست میں بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے تمام طرح کے اقدامات اٹھانے کے لئے سرگرم ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹر کا حوصلہ بڑھانے اور نوجوانوں کو خود روزگار یونٹ قائم کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے کوششیں انجام دی ہیں۔انصاری نے کہاکہ وزیرا علیٰ اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں کو اس دیرینہ مانگ پورا کرتے ہوئے بے حد خوشی ہوئی ہے جب این وائی سیز کی خدمات دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر نے امید ظاہر کی کہ ای وائی سیز اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور خلوص سے انجام دیں گے۔
کوٹرنکہ میں شبانہ نقب زنی کی واردات
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ بکوری میں رات کو چوری کی واردات انجام دی گئی۔ رات کو لگ بھگ 23:2 منٹ پر ریاض راتھر اور محمد شریف کی دوکانوں کے شٹر توڑ کر چوری کی واردات انجام دی گئی ۔اس دوران محمد ریاض راتھر کی دوکان میں سے لگ بھگ تین لاکھ کاسامان چوری کرلیاگیا۔اس سلسلے میں مقامی تاجروں کے ایک وفد نے پولیس سٹیشن کنڈی کے ایس ایچ او کوٹرنکہ منظور احمد کوہلی سے ملاقا ت کرکے نقب زنوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا۔ وفد نے ایس ایچ او کو بتایا کہ یہ واقع پہلی بار نہیں ہوابلکہ ایسے کئی واقعات ماضی میں بھی رونماہوچکے ہیں ۔وفد نے پولیس سے نقب زنوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ایس ایچ او نے یقین دلایاکہ نقب زنوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔اس ضمن میں پولیس نے ایف آئی آر زیر نمبر2018/35زیر دفعات 457/480 کے تحت کیس درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔
آسمانی برق گرنے سے ایک زخمی
راجوری //راجوری کے درہال علاقے میں ایک شخص آسمانی برق گرنے سے زخمی ہوگیا جسے ہسپتال میں زیر علاج رکھاگیاہے ۔یہ واقعہ کرہڈ درہال میں پیش آیاہے جس کی وجہ سے غلام مصطفی ولد محمد یوسف شدید زخمی ہوا۔ اسے فوری طور پر ضلع ہسپتال راجوری منتقل کیاگیاجہاں وہ زیر علاج ہے ۔قابل ذکر ہے کہ منگل کے روز قریب ایک ہفتہ کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش پڑی جس دوران کئی مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ساتھرہ میں عوام کا محکمہ پی ایچ ای کے خلاف احتجاج
حسین محتشم
پونچھ//ساتھرہ بلاک صدر مقام پر عوام ساتھرہ کی جانب سے پانی کی عدم دستیابی پر محکمہ پی ایچ ای کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ ساتھرہ بلاک صدر مقام کے ساتھ ساتھ بلاک ساتھرہ کے سبھی دیہاتوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ متعلقہ محکمہ اس ضمن میں غفلت شعاری سے کام لے رہا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ سجاد حسین کاظمی بلاک صدر سول سوسائٹی ساتھرہ کی صدارت میں منعقد کیا گیا جس موقعہ پر بیوپار منڈل ساتھرہ کے صدر حفیظ اللہ خان، سول سوسائٹی کے نائب صدر ممتاز ریشی، خزانچی محمد اسلم، جنرل سیکریٹری شاہ حسین شاہ، غلام حسین اور کئی دیگران موجود تھے۔ مظاہرین کی جانب سے ساتھرہ صدر مقام سے منڈی پونچھ سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت کو دو گھنٹے تک کیلئے بند رکھا گیا ۔بعد ازآں ایس ایچ او منڈی سوم ناتھ موقعہ پر پہنچے جنہوں نے متعلقہ محکمہ کے ساتھ بات کرکے عوام کو یقین دلایا کہ جلد پانی کی سپلائی کو بحال کیا جائے گا۔ لوگوں نے اس انتباہ کے ساتھ مظاہرہ ختم کیا کہ اگر دو دنوں میں پانی کی سپلائی کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو جمعہ کے روز پھر سے احتجاج کیا جائے گا۔
پولیس افسر کے اعزاز میں الوداعیہ تقریبات
بختیار حسین
سرنکوٹ//سرنکوٹ میں بطور ایس ڈی پی او فرائض انجام دینے والے اصغر علی ملک کے تبادلے پر ان کے اعزاز میں تقاریب کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سلسلے میں سرنکوٹ یوتھ کی جانب سے ایک نجی ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں سابق ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک کے کام کاج کی سراہنا کی گئی۔اس موقعہ پر یوتھ لیڈر شوکت پروانہ،طاہر مرزا،مختار زرگر،جمیل احمد ،ڈاکٹر اشتیاق وغیرہ نے اصغر علی ملک اوکی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے ایسے کام انجام دیئے جن کی بدولت انہیں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ اسی سلسلہ میں دوسری تقریب بس سٹینڈ سرنکوٹ پر منعقد کی گئی۔ یہ تقریب بیوپار منڈل اور ٹرانسپورٹروں نے مشترکہ طور پر منعقد کی جس میں ڈھول بجائے گئے اور سابق ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک کو ہار بھی ڈالے گئے۔مقررین نے ایس ڈی پی او کے کام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ایماندار آفیسر بہت کم ملتے ہیں۔انہوں نے پولیس افسر کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔اس موقعہ پر بیوپار منڈل سرنکوٹ جانب سے طارق منہاس ،حمید منہاس ،افضل منہاس ،اظہر منہاس، عظیم خان، سید شبیر حسین شاہ وغیرہ بھی موجو دتھے ۔