پالی تھین پرپابندی کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں
۔10 مئی تک تمام تاجر ، میوہ فروش اور مرغ فروش مومی لفافوں کا متبادل ڈھونڈ لیں : ڈی سی راجوری
منیر خان
راجوری //راجوری انتظامیہ نے مومی لفافوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اس معاملے میں ضلع انتظامیہ نے ایک حکمنامہ زیر نمبر SPCB/LS/300/2017/14-84/23-12-17کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولوشن کنٹرول بورڈ کی طرف سے ہدایات جار ی کی گئی ہیں کہ ہائی کورٹ جموں کشمیر کی ہدیت پر عمل کرتے ہوئے مومی لفافوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ ڈپٹی کمشنر راجوری نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس مئی تک تمام دوکاندار اور دیگر تاجر مومی لفافوں کا متبادل تلاش لیں اور کے وی آئی بی سے اس معاملے میں متبادل تلاشنے میں مدد لیں ۔ واضح رہے کہ راجوری میں حال ہی میںواحد کئیری بیگ کا ایک نیایونٹ بھی قائم کیا گیا ہے جو راجوری ضلع انتظامیہ کی معاونت سے فتح پور میں کھولا گیا ہے تاکہ راجوری ضلع کو مومی لفافوں سے پاک کیا جاسکے ۔ اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر راجوری نے میونسپل کمیٹی کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ مومی لفافوں کا استعمال کرنے والے تاجروں کے خلاف دس مئی کے بعد بغیر کسی نوٹس کارروائی کریں اور مومی لفافے لیکر آنے والی گاڑی کو بھی ضبط کیاجائے ۔میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ مومی لفافوں والا کوڑا کرکٹ نہ اٹھائیں۔
۔51گاڑیوں کے چالان، 3500جرمانہ وصول
جاوید اقبال
مینڈھر//ٹریفک پولیس پونچھ نے مینڈھر میں مختلف جگہوں پر ناکے لگا کر 51گاڑیوں کے چالان کاٹے جبکہ 3500روپے جرمانہ وصول کیاگیا ۔ اس دوران چار گاڑیوں کو ضبط بھی کیاگیا ۔ڈسٹرکٹ ٹریفک انچارج معروف بڈھانہ نے جمعہ کو مینڈھر کی کئی جگہوں پر ناکے لگا کر گاڑیوں کے کاغذات چیک کئے اور ڈرائیور طبقہ کو ہدایت دی کہ گاڑیوں کے کاغذات کے علاوہ اپنے لائسنس مکمل کئے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ بغیر کاغذات کسی بھی گاڑی کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوںنے کہا کہ ائور لوڈنگ کے سلسلہ کو فوری طور بند کیا جائے اوراگر کوئی بھی گاڑی ائور لوڈنگ کرتے ہوئے پائی گئی تو اس پر باضابطہ مقدمہ درج کرکے کارروائی ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ بغیر کاغذات کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ان کاکہناتھاکہ ڈرائیور قوانین کی پاسداری کریں اور اس کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں اور نہ ہی ناجائز کرایہ وصول کیاجائے۔
روڈ سیفٹی ہفتہ :بس اسٹینڈ راجوری میں تقریب
منیر خان
راجوری//روڈ سیفٹی ہفتہ کے پانچویں روز محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک نے نیو بس اسٹینڈ راجوری میں تقریب کا اہتمام کیا جس میں مہمان خصوصی ڈی سی راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری تھے۔ اس موقعہ پر ایک نکڑ ناٹک بھی پیش کیا گیاجس کا مقصد ٹریفک قوانین کی عمل آوری کا پیغام دیناتھا ۔ڈپٹی کمشنر نے اس موقعہ پر کہاکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری قیمتی جانوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے جس کے لئے پورے ملک میں بیداری مہم چلائی جارہی ہے تاکہ گاڑی چلانے والے لوگ سیٹ بیلٹ اور موٹرسائیکل سوار ہیلمٹ کا استعمال کرکے اپنی قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ راہگیروں کو بھی تحفظ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی چلانے والے کو اپنا اوراپنے اہل خانہ کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ نہ کسی راہگیر کو اس سے نقصان پہنچے اور نہ اس کے گھروالوں کو صدمہ پہنچے ۔انہوںنے کہاکہ ٹریفک حادثات سے بچنے کا واحد حل ٹریفک کے اصولوں کو اپناناہے۔ اس موقعہ پر اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر ، انسپکٹر ٹرانسپورٹ و دیگر افسران بھی موجو دتھے ۔
گورسائی میں این سی کارکنان کا اجلاس
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے گورسائی علاقے میں سابق سرپنچ و نیشنل کانفرنس بلاک صدر حاجی محمد رشید عرف حاجی پلو کی قیادت میں ایک اجلاس منعقد ہوا ۔اس موقعہ پر کارکنان نے ممبراسمبلی مینڈھر جاوید رانا کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے چنائو کے دوران کئے گئے وعدوں کو ایفا کرنے میں کوئی کمی نہیں باقی رکھی ۔ انہوںنے کہاکہ وہ ممبراسمبلی کے شکر گزار ہیں کہ انہوںنے مینڈھر اور سرنکوٹ کی حدود پر ڈنہ شاہستار میں سینکڑوں کنال زمین یونیورسٹی کے نام منتقل کروائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس سے قبل مینڈھر میں اکلاویہ ماڈل سکول قائم ہوا اور گورسائی کا ماڈل ولیج کا درجہ دیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ ممبراسمبلی مینڈھر کو ماڈل حلقہ بنانے کیلئے دن رات کام کررہے ہیں ۔
فیزیکس کا قومی سطح کا امتحان
تھنہ منڈی کالج کی طالبہ ریاست سے اول پوزیشن پر رہی
تھنہ منڈی//گورنمنٹ ڈگری کالج تھنہ منڈی کی ایک طالبہ فیزیکس کے گریجویٹ سطح کے قومی امتحان میں ریاست سے اول پوزیشن پر رہی ۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شکیل احمد رینہ نے چھٹے سمسٹر کی سہریش زبیر کو انڈین ایسو سی ایشن آف فیزیکس ٹیچرز کی طرف سے منعقد ہ اس امتحان میں جموں و کشمیر سے پہلا مقام حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔یہ امتحان 21جنوری کو منعقد ہواتھا جس میں ملک بھر سے 13ہزار 924اور ریاست سے 204طلباء نے حصہ لیا ۔شکیل رینہ نے شعبہ فیزیکس کے صدر ڈاکٹر ارون شرمااور پروفیسر رضوان احمد کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے یہ کالج کیلئے فخر کا مقام ہے ۔
سیری نوشہرہ میں پانی کی ہاہاکار
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ کے گائوں سیری میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو بھاری مشکلات کا سامناکرناپڑرہاہے ۔مقامی رہائشیوں ستیش کپور ، رنکو گپتا وغیرہ نے بتایاکہ گزشتہ ایک ماہ سے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور گائوں کے لوگ محکمہ پی ایچ ای کی لاپرواہی کی وجہ سے مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ وہ دردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں لیکن محکمہ کوٹس سے مس نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہواہے اور اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا۔ انہوںنے حکومت و محکمہ کے وزیر سے اپیل کی کہ پانی کی سپلائی فراہم کی جائے ۔
نئے انتظامی یونٹوںکا قیام عوامی مفاد میں
منجاکوٹ کے عوامی مطالبات پورے کئے جائیں :بخاری
سرنکوٹ //نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر و سابق وزیر سید مشتاق بخاری نے منجاکوٹ کے لوگوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عوامی مفاد میں ہے اور ضرورت کے مطابق حکومت کو نئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دفاتر قائم کرنے چاہئیں ۔انہوںنے کہاکہ راجوری اور پونچھ اضلاع وسیع و عریض علاقوں پر پھیلے ہوئے ہیں جہاں ایک ڈپٹی کمشنر کیلئے پورے ضلع کوچلاپانا ممکن نہیں ۔ بخاری نے کہاکہ اگر پونچھ کی ہی بات کی جائے تو وہ کئی سو کلو میٹر تک پھیلاہواہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں تو دوسری طرف پیر گلی تک ضلع شوپیاںسے اور منڈی کی طرف سے ضلع بارہمولہ سے ۔ انہوںنے کہاکہ اتنے وسیع و عریض علاقے پر پھیلے ضلع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کا قیام عوامی مفاد میں ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح سے ضلع راجوری کی آبادی بھی پھیلی ہوئی ہے اور منجاکوٹ کا علاقہ بھی ایک سو کلو میٹر پر محیط ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ ، مینڈھر اور منجاکوٹ جیسے علاقوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفاتر قائم کئے جائیں اور دیگر مطالبات بھی پورے کئے جائیں ۔ ان کاکہناتھاکہ منجاکوٹ کے لوگوں کا مطالبہ حق بجانب ہے اور وہ اس کی حمایت کرتے ہیں ۔
کٹھوعہ ملزمان کے وکلاء کا بیان جاہلانہ :سنی یوتھ
حسین محتشم
پونچھ// کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے آٹھ میں سے پانچ ملزمان کے کیسوں کی پیروی کر رہے وکلاء کے متنازعہ بیان کی سنی یوتھ ونگ کے ریاستی صدر خواجہ اعجاز احمد مدنی نے شدید مذمت کی ہے ۔یہاں جاری پریس بیان میں انہوں نے شرما کے اس بیان کو جہالت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وکیل اگر ایسا مجرمانہ ذہن رکھتا ہو توپھر سماج میں امن کیسے قائم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گجر بکروال طبقہ کے خلاف جو زہر انہوں نے اگلا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی کی بھول ہو گی کہ اس طبقہ پہ ظلم و جبر کر کے اسے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائیگا کیونکہ سارے ملک کے مسلمان کٹھوعہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اس لئے انہیں اکیلا نہ سمجھا جائے۔مدنی نے مزید کہا کہ کٹھوعہ انتظامیہ کو ایسے مجرمانہ ذہنیت والے افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے کیونکہ ایسے افراد صوبہ جموں میں جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انکور شرما نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو بکواس کی ہے وہ برداشت سے باہر ہے اور اسلام کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے والے اس وکیل کو تعلیم کی اشد ضرورت ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بھی اپیل کی ہے کہ انکور شرما جیسے شخص کوبھی ان مجرموں کے ساتھ ہی جیل میں بند کیا جائے تاکہ صوبہ جموں میں پھیل رہی دہشت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح کا کوئی بیان کسی مسلمان نے دیا ہوتا تو وہ اس وقت تک جیل کی ہوا کھا چکا ہوتا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انتظامیہ کی موجودگی میں اور ریاست میں ایک حکومت کے ہوتے ہوئے بھی کوئی سنگین جرم کا ارتکاب کرے اور اس کے باوجود اس پر کوئی کاروائی نہ کی جائے ،اس سے بڑھ کر دوہرا معیار اور کیا ہو سکتا ہے۔
خطہ پیر پنچال کی ترقی پی ڈی پی کی دین :وسیم خان
مینڈھر//پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور سابق سرپنچ سردار وسیم خان نے کہا ہے کہ خطہ پیر پنجال کے عوام پر پی ڈی پی کے کئی بڑے احسانات ہیںجن میں مغل روڈ، بابا غلام شاہ بادشاہ یوینورسٹی، ڈگری کالج مینڈھر، ڈگری کالج سرنکوٹ ،ضلع پونچھ براستہ منڈی گلمرگ سرینگر سے جوڑنا ، ہند و پاک کے مابین پرمٹ پر آمدورفت ،جموں وکشمیر میں امن بحالی جیسے بڑے فیصلے قابل ذکر ہیں ۔اپنے ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ کئی دہائیوںتک ریاست پر حکومت کرنے والے اور خود کو قائد کہلانے والوںنے اس خطے کے عوام کے ساتھ صرف استحصال کیا اور ایسا کوئی تاریخی کارنامہ انجام نہیں دیاجس کو ہمیشہ عوام یاد رکھ سکے ۔ان کاکہناتھاکہ ان کی ستر سالہ حکمرانی پر تین سالہ مفتی محمد سعید کی حکومت بھاری پڑی جنہوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں خطہ کے عوام کے دل جیت لئے اور تاریخ کے اوراق میں اپنا نام درج کروایا۔ان کاکہناتھاکہ پی ڈی پی نے مرحوم کی نقش قدم پر چلتے ہوئے اکلاویہ ماڈل سکول مینڈھر، ماڈل ولیج گورسائی مینڈھر اور جموںیونیورسٹی کیمپس سرنکوٹ جس کا قیام ڈنہ شاہستار میں لایا گیا ،کی منظوری دے کربہت بڑاکام کیا اوراس کا سہرا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو جاتاہے ۔
سیول سوسائٹی مینڈھر بار کونسل کی رپورٹ پر برہم
جاویداقبال
مینڈھر//سیول سوسائٹی مینڈھر نے بار کونسل آف انڈیا کی جموں اور کٹھوعہ بار ایسو سی ایشن سے متعلق رپورٹ کو مستر د کرتے ہوئے اسے غیر حقیقی اور یکطرفہ قرار دیاہے ۔یہاں جاری پریس بیان میں سیول سوسائٹی ارکان نے کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بار کونسل کو یہ قانونی و آئینی اختیار نہیں ہے کہ وہ کٹھوعہ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کی سفارشات کرے ۔انہوں نے کہاہے کہ کمیٹی نے بغیر حقائق جانے یہ رپورٹ تیار کی ہے اور جس طرح سے بار ایسو سی ایشن جموں اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کو بری الذمہ قرار دیاگیاہے ، اس پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کمیٹی نے وکلاء پر لگے سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ طور پر تحقیقات نہیں کی اور فورم سمیت متعدد حلقوں کی طرف سے اٹھائے گئے حقائق پر مبنی معاملات کو بھی نظرانداز کردیا ۔انہوںنے کہاکہ یہ حقائق ویڈیوز اور دستاویز کی شکل میں دنیا بھر میں عام ہوئے مگر بدقسمتی سے کمیٹی کو کچھ نظر نہیں آیا ۔انہوں نے کہاکہ کٹھوعہ وکلاء کی طرف سے کرائم برانچ کو چارج شیٹ پیش کرنے سے روکنے کے واقعہ پر پوری دنیا نے یہ تماشہ دیکھا اور ذرائع ابلاغ میں بھی اس کی مذمت ہوئی اوراسی طرح سے جموں بار کا رول بھی سب پر واضح ہوگیا تاہم کمیٹی نے ان سب واقعات پر آنکھیں موندھ لیں اوراس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ،جیساکہ سپریم کورٹ نے وکلاء کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیاتھا۔سیول سوسائٹی کاکہناہے کہ رپورٹ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور اسے مسترد کیاجاتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ دن دہاڑے بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ کے وکلاء نے چالان روکنے کی کوشش کی جبکہ بار ایسو سی ایشن جموں کے صدر نے روہنگیائی مسلمانوں کو بزور طاقت بدر کرنے کی دھمکی دی مگر ان کو کلین چٹ دے دی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ایسے ہی حالات رہے توریاست کا امن خطرے میں پڑ سکتاہے اس لئے مرکزی و ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کٹھوعہ واقعہ اوراس کے بعد کے حالات پر فوری کارروائی کرے۔