آرمی کا پدیارنہ میں بچوں کے ساتھ تبادلہ خیال
اے آئی بٹ
کشتواڑ//آپسی رواداری کے جذبہ کو مستحکم بنانے کے لئے انڈین آرمی نے ضلع کے پدیارنہ میںمدرسہ جانے والے طلاب کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تاکہ خطہ میں امن و خوشحالی کو فروغ دیا جائے۔ کثرت میں وحدت ہمارے ملک کی ایک خصوصیت رہی ہے، جس نے تمام مذاہب کو انسانیت کے ایک رشتہ میں باندھ کے رکھا ہے۔ا س ا یوئینٹ سے مدرسہ جانے والے بچوں کو فوج کیساتھ تبادلہ خیال کرنے اور اپنا تجربہ بانٹنے اور مدرسوں کے موجودہ منظرکو پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔اس ایوئینٹ میں کل ملا کر 105 بچوںنے شرکت کی۔ اس موقعہ پر فوج نے اسٹیشنری اور کتابیں بھی تقسیم کی ۔مقامی لوگوں ،کیمونٹی لیڈروں،اور مدرسہ کے بچوں اور اساتذہ نے اس پہل کی ستائش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس پہل سے خطہ میںآپسی رواداری کو فروغ حاصل ہوگا۔
تین منشیات فروش گرفتار
ایم ایم پرویز
ایم ایم پرویز
رام بن //منشیات کے خلاف جاری اپنی مہم میں رام بن پولیس نے دو مختلف مقامات سے تین منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے ناشری کے مقام پر جموں کی جانب جا رہی ایک گاڑی زیر نمبر JK03B-8621 کو روکااور اسکے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کی تلاشی لی جس دوران انکے قبضہ سے26 کلو گرام فکی برآمد کی گئی جسے ٹرک میں چھپا کے رکھا گیا تھا۔پولیس نے ایک مصدقہ اطلاع پر یہ خصوصی کارروائی انجام دی۔گرفتار شدگان کی پہچان ڈرائیور عابد ولد منظور احمد اور کنڈکٹر عرفان ولد عبدل رحمان ساکناں بارہمولہ،کشمیر کے بطور کی گئی ہے۔اس سلسلہ میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ایک معاملہ درج کیا گیا ہے۔دریں اثناء بانہال پولیس نے ایک منشیات فروش مُظفر احمد ولد نذیر احمد کھٹانہ ساکنہ ڈولی گام بانہال کو 400گرام چرس کے سمیت ٹی چوک کے نزدیک گرفتار کیا۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایف آئی آر زیر نمبر59/2018درج کیا۔گرفتاری ایس ایچ او بانہال محمد اعجاز،ایس ڈی پی او بانہال دھیرج سنگھ ،ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر رام بن توصیف احمد اور ایس ایس پی رام بن موہن لعل کی زیر نگرانی انجام دی گئی۔
عطا اللہ خواجہ کے اعزاز میں الوداعیہ
ڈوڈہ //پی ایچ ای سب ڈویژن کے اسسٹنٹ لائن مین عطا اللہ خواجہ کے اعزاز میں ایک شاندار الوداعیہ دیا گیا ، جو 31 سال کی خدمات انجام دینے کے بعد پیر کے روز اپنے عہدہ سے سبگدوش ہو گئے۔اس سلسلہ میں ایک الوداعیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں محکمہ کے آفیسران اور عملہ کے علاوہ معزز شہریوں نے بھی شرکت کی۔اس موقعہ پر مقررین نے عطااللہ خواجہ کو ایک ایماندار، محنتی ملازم قرار دیا جنھوں نے ہمیشہ سے ہی لوگوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔مقررین نے اسے ریٹائرمنٹ کے بعد صحت مند اور خوشحال زندگی کی تمنا کی۔عطا اللہ نے اپنے خطاب میں اس شاندار پارٹی کا اہتمام کرنے پر شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ہر ہمیشہ لوگوں کی خدمت کے لئے دستیاب ہونگے۔
لیکچرار کے اعزاز میں شاندار الوداعیہ
ڈوڈہ //گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گرلز ڈوڈہ کے ریاضی لیکچرار محمد شریف بلوان محکمہ تعلیم میں 36برسوں کی خدمات کے بعد سبگدوش ہوگئے ہیں۔اُنہیں 1980 میں بطور استاد تعینات کیا گیا تھا بعدازاں ،انہیں ترقی دیکر لیکچرار بنایا گیا ۔اپنے 36برسوں کی سروس میں انہوں نے ضلع کے دور دراز علاقوں میں بطور ٹیچر، ماسٹر اور لیکچرار اپنے فرائض انجام دئے۔وہ ریاضی کے ایک ماہر استاد ہیں۔سکول احاطہ میں اس سلسلہ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔اے سی آر ڈوڈہ طارق حُسین نائیک اس موقعہ پر مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں سکول کے پرنسپل ٹی ا ے وانی، ایاض اقبال مغل،شاہد خان ، شائستہ، غیاث الحق اور سکول کا تمام سٹاف بھی موجود تھا۔
سروڑی نے قاہراہ ۔ٹانٹا سڑک پر تارکول بچھانے کے کا افتتاح کیا
ٹانٹا؍؍جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر و ایم ایل اے اندروال غلام محمد سروڑی نے قاہراہ تا ٹانٹا دس کلو میٹر سڑک پر تارکول بچھانے کے کام کا افتتاح کیا جس پر پی ایم جی ایس وائی کے تحت نو کروڑ روپئے صرف کئے جائیں گے ۔اس موقع پر سروڑی کے ہمراہ ایگزکیوٹو انجینئر محکمہ تعمیرات عامہ،پی ایم جی ایس وائی، آر ڈی ڈی،صحت عامہ، سی اے پی ڈی کے آفیسران اور کانگریس کارکنان موجود تھے۔سروڑی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقہ میں سڑکوں کی افادیت بیان کی اور کہا کہ ان سے قاہراہ ،ٹانتا اور گرد و نواح کی عوام کو راحت ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ بطور ایم ایل اے انہوں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے اورحلقہ انتخاب کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔اس دوران سروڑی نے ٹانٹا سے درمن میں سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا جو محکمہ آر اینڈ بی کے تحت آٹھ کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر ہو گی ۔انہوں نے قاہراہ ترہنکل سڑک کا بھی جائزہ لیا جس کو ایک ماہ کے اندر کھول دیا جائے گا ۔انہوں نے حلقہ انتخاب اندروال میں تمام سڑکوں کی اپگریڈیشن کی یقین دہانی بھی کروائی اور محکمہ ترہنکل سڑک کو صاف کرنے کیلئے ہدایات بھی جاری کیں۔موصوف نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں شمولیت اختیار کی جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہو سکیں۔اس دوران ایم ایل اے اندروال نے قاہراہ، ٹانتا، کشتھوا،گرتھ نالہ، گنونی،کوٹھال،دورسرے،دھنورا،تھریان،باگرن،ماگرے،وانی محلہ،بٹولہ،کینچھا،بنجورہ،باگدیر،ناگنی،کھانڈے،پرے،میر اور آستان آباد محلہ جات کے وفود سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ ان کے مطالبات کو ترجیح پر حل کیا جائے گا ۔بعد ازان سروڑی نے ٹانٹا میں مدرسہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے عوام،طلاب اور ان کے والدین کو مشورات سے نوازہ ۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ صرف مذہبی ضروریات کو ہی پورا نہیں کرتا بلکہ مفت تعلیم بھی فراہم کرتا ہے ۔موصوف نے کہا کہ اگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ اسلام کیا ہے تو قرآن پاک اور حدیث مبارک بہتر رہنمائی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں عظیم شخصیت آخری پیغمبر ؐہیںاور مدراس اسلامیہ دینی تعلیم فراہم کر رہے ہیں جس کیلئے انتظامیہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مدرسہ مستقبل میں بھی اپنے نمایاں کام انجام دیتا رہے گا۔
رہبرتعلیم اساتذہ کا یوم مئی بطور یوم سیاہ منانے کا فیصلہ
ایم ایم پرویز
ایم ایم پرویز
رام بن //آل جے اینڈ کے رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کے سینئر صدر نے ایس ایس اے اساتذہ کو گُذشتہ چار مہینوں سے ماہانہ تنخواہ ادا نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تنخواہ باقاعدہ طور سے ادا نہ کرنے کی وجہ سے انکے والدین کو دوائیں نہیں مل رہی ہیں اور وہ اپنے بچوں کو سکول کی فیس بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں جس سے انکو سکولوں میںپریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اجلاس میںایگزیکٹو ممبران و رام بن آر ای ٹی فورم کے عہدہ داروں نے بھی شرکت کی۔انہوں نے شکایت کی کہ فورم نے بار ہا محکمہ سے اس بارے میں رجوع کیا لیکن یقین دہانیوں کے بغیر کچھ نہیں کیا گیا اور تا دم ایس ایس اے اساتذہ کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔جے کے آر ای ٹی فورم یکم مئی منانے کے سلسلہ میں ایک تقریب کا انعقاد کر رہی ہے۔فورم کے صدر گل زُبیر نے تمام آر ای ٹی اساتذہ کو یہ دن بطور یوم سیاہ کے طور منانے کی اپیل کی ہے اور متعلقہ زیڈ ای اوز کو ایس ایس اے تنخواہوں اور ٹرانسفر پالیسی سے متعلق ایک یادداشت پیش کرنے کوکہا ہے تاہم انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے آر ای ٹی اساتذہ کی تنخواہ واگُذار کرنے کی ہدایت دے۔بصورت دیگر آر ای ٹی اساتذہ غیر معینہ مدت تک ہڑتال کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔
سڑک حادثہ میں تین زخمی
زاہد ملک
ریاسی /ضلع کے ڈیرہ بابا سے کٹڑہ کی جانب جا رہے ایک ٹپر زیر نمبر JK02AP-1101 نے سمبل چوک پر مخالف سمت سے آرہی ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری جس کی وجہ سے موٹر سائیکل کا ڈرائیور راکیش شرما ولد سبھاش چندر ساکنہ اگہر بالیاں ریاسی اور دو خواتین سوار سمرتی دختر تلک راج اور پروین دخترسبھاش چندر ساکناں اگہر بالیاں ریاسی زخمی ہوئے ہیں۔پولیس بیان کے مطابق نا معلوم ٹپر ڈرائیور ٹپر کو غفلت شعاری اور تیز رفتاری سے چلا رہا تھا جسکی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ڈپٹی ایس پی ہیڈ کوارٹر ریاسی نکھل گوگنا کے مطابق پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 95/2018 درج کیا ہے۔زخمیوں کو ضلع ہسپتال ریاسی معالجہ کے لئے منتقل کیا گیا ہے۔
جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ
قابضوں کامحکمہ کے اہلکاروں پرجان لیوا حملہ
زاہد بشیر
گول// گول کے تناگلی علاقے میں محکمہ جنگلات کے ملازموں پرجنگلات کی اراضی پرناجائز قبضہ کرنے والوں نے جان لیوا حملہ کیا ہے جس میں محکمہ کے اہلکار بال بال بچ گئے۔ فارسٹر اور بیٹ گارڈ گول سے پانچ کلومیٹر دور تناگلی علاقے کمپارٹمنٹ 34میں عبدالرشید نائی نامی شخص نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں پر حملہ کیا جب کی محکمہ جنگلات کی اراضی پر اس نے دو سال سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔اسی ہفتے محکمہ جنگلات کی ٹیم موقع پر گئی تھی جنھوں نے اْس وقت یہ مانا تھا یہاں پر کلوزر لگایا جائے مگر اْس کے بعد اْس نے قبضہ نہیں چھوڑا ۔محکمہ کے سمجھانے کے باوجود بھی غیر قانونی قبضہ جما رکھا۔جب محکمہ جنگلات کی ٹیم پھر موقع پر پہنچی تووہاں پر اْس نے کھدائی کی ہوئی تھی اور پتھر لگائے تھے۔ اہلکاروں نے جب پتھر اٹھانے شروع کیا تب اچانک عبدالرشید اور اس کے گھر والوںنے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں پرحملہ کیا جس میں وہ بال بال بچ گئے ۔ اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کا چیف کنزرویٹر نے گول کا دورہ کیا ۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ہم نے اْس اراضی پر کلوزر کسی بھی حالت میں لگانا ہے اور قابضوں نے جو محکمہ پر حملہ کیا ہے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مزید کارروائی جاری ہے اور یہ حملہ افسوس ناک ہے۔ محکمہ جنگلات محکمہ مال کے ہمراہ جلد ہی اس اراضی کی نشاندہی کرے گی۔
نیشنل کانفرنس لیڈران کا دوروزہ دورہ خطہ چناب
تفرقہ ڈالنے والے عناصرریاست کی وحدانیت کیلئے خطرہ
عظمیٰ نیوز
جموں//جموں وکشمیر کی وحدت، انفرادیت ،اجتماعت، مذہبی رواداری اور کشمیریت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے اتحاد و اتفاق کی ضرورت کیساتھ ساتھ ایسے عناصر کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانا لازمی ہے، جو تقسیمی سیاست کے ذریعے لوگوں میں مذہبی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تفرقہ ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔یہاں موصولہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، علی محمد ڈار، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، خالد نجیب سہروردی، سجاد کچلو، قیصر جمشید لون،ڈاکٹر بشیر احمد ویری اور سجاد شاہین نے خطہ چناب کے دو روزہ دورے کے دوران مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات اور پارٹی کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علی محمد ساگر نے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ ریاست کی وحدت، انفرادیت اور اجتماعیت کیساتھ ساتھ تینوں خطوں کی یکساں تعمیر و ترقی کی علمبردار رہی ہے اور اسے ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ کی مشعل بردار جماعت کا طرہ امتیاز حاصل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہی ریاست میں عوامی حکومت قائم کی ، جس کی بدولت ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے اور ہمیشہ تینوں خطوں کے ساتھ مساوات اور برابری کا سلوک روا رکھا۔ نیشنل کانفرنس کی حکومتوں میں ہمیشہ تینوں خطوں اور ہر طبقے کے لوگوں کو نمائندگی دی۔ ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ریاست کو شخصی راج کی غلامی سے نجات دلانے کے بعد نیشنل کانفرنس نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں ہر طرف انصاف، مساوات، بھائی چارہ، مذہبی ہم آہنگی ، خوشحالی اور ترقی کا بول بالا رہالیکن موجودہ دور میں ریاست کی باگ ڈور ایسے عناصر کے ہاتھ میں آگئی ہے جو نہ صرف ریاست کے ٹکڑے کرنے پر تلے ہیں بلکہ اس منفرد ریاست کی پہچان، خصوصی پوزیشن اور انفرادیت ختم میں پیش پیش ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کے عوام میں تفرقہ ڈالا جارہا ہے۔ لیڈران نے کہا کہ موجودہ نازک موڑ پر نیشنل کانفرنس کو ایک اہم رول ادا کرکے ریاست جموں و کشمیر کی پہچان بچانے، ریاست کے ٹکڑے ہونے اور عوام میں دوریاں بڑھنے کے عمل پر روک لگانی ہے۔ تاکہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، مذہبی رواداری، کشمیریت اور خصوصی پوزیشن برقرار رہ سکے۔