ہم دیکھتے ہیں کہ آج مسلم معاشرہ بغض وحسد ، کینہ وکپٹ ، عداوت ودشمنی ، ترک تعلق اور اس طرح کی بے شمار برائیوںکی لعنت میں جکڑا ہوا ہے، جس کے اسباب صرف دنیوی اغراض اور مادی منفعت ہوتے ہیں، معاشرہ تو بہت سے خاندانوں سے مل کر وجود میں آتا ہے، اور اس کے اندر اس طرح کی برائیاں خاندانی عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، خاندان کے اندر جب انارکی پیدا ہوتی اور بگاڑ اپنا پنجہ گاڑ لیتا ہے تو اس کااثر اس معاشرہ پر پڑتا ہے جس معاشرہ کا یہ خاندان ایک حصہ ہے، خاندانی انتشار ہی کی وجہ سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ گھر گھر نافرمانیاں ہورہی ہیں، ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے درپے آزار ہے، تعلقات منقطع ہیں اور بسا اوقات ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ صلہ رحمی ناپید ہوتی جارہی ہے اور اس کی جگہ قرابت داروں کی حق تلفی اور قطع رحمی نے لے لی ہے۔ آپسی الفت ومحبت مفقود ہوتی جارہی ہے، اور رحم وکرم ، ایثار وقربانی اور خیر خواہی کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے، اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں، اسلامی اخلاقیات سے نا آشنا ہوگئے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو پس پشت ڈال دیاہے، ہم نے اپنا شیوہ خوش اخلاقی کی جگہ بداخلاقی کو بنا لیا ہے، حالانکہ متعدد قرآنی آیتیں اور بے شمار احادیث نبوی بصراحت قطعی رحمی، آپسی رنجش ، بغض وحسد، کینہ وکپٹ رکھنے اور قطع تعلق کرنے کی حرمت پر دلالت کررہی ہیں، مگر ہم یا تو اس کا علم رکھتے ہوئے بھی اس سے اعراض کئے ہوئے ہیں یا لا علمی وجہالت کی وجہ سے غیر اسلامی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ جنت کے دروازے پیر اور جمعرات کے دن کھولے جاتے ہیں اور ہر ایسے بندے کی مغفرت کی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والا نہیں ہوتا البتہ ایک ایسا شخص بھی ہے جس کی مغفرت نہیں کی جاتی اور یہ وہ شخص ہے جس کے اندر اپنے بھائی سے کینہ اور بغض وحسد ہوتا ہے ، ان کے بارے میں کہا جاتاہے کہ انہیں چھوڑ ے رکھو یہاں تک کہ یہ اپنے بھائی سے مصالحت کرلے، انہیں چھوڑدو یہاں تک کہ یہ اپنے بھائی سے مصالحت کرلے۔ انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے بھائی سے مصالحت کرلے۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ )
شرک کی برائی اتنی خطرناک اور بھیانک ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کردے مگر شرک اکبر کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کرتے، اس کی صراحت سورئہ نساء ،سورئہ حج، سورہ لقمان، سورئہ زمر اور اس کے علاوہ بہت سی سورتوں اور آیتوں میں موجود ہے، اس قدر بھیانک جرم کے ساتھ ملاکر کینہ وکپٹ کا ذکر کرنا اس کی خطرناکی کو ظاہر کرتا اور شرک ہی کی طرح اس سے بچنے کی تاکید کرتا ہے، اسی لئے اللہ کے نبی صلعم نے فرمایاہے:
لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاثۃ ایام کہ کسی مسلمان کے لئے حلال وجائز نہیں کہ وہ تین دنوں سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع تعلق کرے۔
حافظ ابن عبدالبر نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلعم نے اپنی ان احادیث کے ذریعہ اہل ایمان سے ترک تعلق ، بغض وعداوت اور کینہ کپٹ رکھنے کے گناہ کو ظاہر کیا ہے کیونکہ ایمان کا تقاضہ ہے کہ لوگوں کا خون ان کے اموال اور ان کی آبرو محفوظ رہے اور اس کے شر سے دوسرے محفوظ رہیں، اس لئے کسی مسلمان کے لئے حلال وجائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے، ان سے بغض وعداوت رکھے بلکہ ایمان کا تقاضہ ہے کہ ایمان والوں کے درمیان الفت ومحبت کی فضا قائم ہو اور آپسی اعتماد کا ماحول معاشرہ میں پھیلے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے حقوق کو خود معاف کرنے کے بجائے صاحب حق بندوں کی معافی پر محول کردیا ہے، اور شاید اسی لئے اس حدیث کے اندر کہا گیا ہے کہ کینہ رکھنے والے بندوںکو چھوڑ دو، یہاں تک کہ وہ خود آپس میں صلح کرلیں، اور آپس میں معافی تلافی کرلیں، اگر وہ آپس میں اپنے حقوق کا معاملہ صاف کرلیتے ہیں تو باقی حقوق جس کا تعلق اللہ سے ہے وہ اسے معاف کردے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’انما المومنون اخوۃ ‘‘یعنی ایمان والے سب کے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’واعبدوا اللہ ولاتشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا ‘‘ یعنی اللہ کی عبادت کرواور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار مت دو، اور والدین کے ساتھ اچھا برتائو کرو، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں ،پڑوسیوں، ہم سفروں ، مسافروں اور غلاموں وباندیوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اللہ تعالیٰ اکڑنے والوں اور فخر ومباہات کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء)
اس آیت کے اندر اقارب کا عطف والدین پر کیا گیا ہے اور اس پر یتیم ومسکین ، پڑوسی ، بیویاں، مسافرین اور باندیوں کا عطف کیا گیا ہے ، ان تمام کو شامل کرتے ہوئے حسن سلوک کی تائید اس لئے کی گئی کہ اس کا فائدہ پورے معاشرے کو پہنچے اور سب لوگ امن وامان ، حسن اخلاق اور باہمی الفت ومحبت کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا آپس میں نہ بغض رکھو، نہ حسد کرو ، نہ ایک دوسرے کے درپے آزار ہو، اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائو ، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے۔ (ترک تعلق کرے۔ (متفق علیہ)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین شب سے زیادہ ترک تعلق کرے کہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں تو یہ ادھر رخ پھیر لے اور وہ ادھر رخ پھیرلے، دونوں میں بہتر وہ شخص ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (متفق علیہ )
کتب حدیث کے اندر بے شمار ایسی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جس میںنبی کریم صلعم نے لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے الفت ومحبت کرنے، ہمدردی وخیر خواہی کا معاملہ کرنے ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنے، باہمی تعاون کو فروغ دینے پر ابھارا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی مانند ہے۔ جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت پہنچاتا ہے، (متفق علیہ)
ایسی ہی ایک روایت حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا ، آپس میں محبت کرنے اور ہمدردی ورحمدلی کرنے میں ایمان والوں کی مثال جسم واحد کی طرح ہے کہ جب اس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بخار و بے خوابی میں اس کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم درد محسوس کرتا اور سر میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (متفق علیہ)
اگر ہم اہل ایمان ہیں، محمد عربی کی امت میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور آپ صلعم سے محبت والفت کا راگ الاپتے ہیں تو اس کا تقاضہ ہے کہ ہم زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر اسلام کی صحیح وسچی تعلیمات سے آگہی حاصل کریں، اور اپنی زنگی اپنے مقتدی اور رسول حضرت محمد مصطفی صلعم کے اقوال کے مطابق گذارنے کی کوشش کریںاور بطور خاص اس مبارک ماہ میں صلہ رحمی کریں، آپس میں جذبہ الفت ومحبت کو پروان چڑھائیں، رحم دلی اور ہمدردی کو اپنا شعار بنائیں، اور اگر ہمارے دل میں کسی سے کینہ وکپٹ ہے تو اللہ کے واسطے اپنا دل صاف کرلیں، کسی سے دنیاوی ومادی اغراض کی بنیاد پر اگر بغض وعناد ہے تو اسے دور کرتے ہوئے صلح ومصالحت کی طرف آگے بڑھیں، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں اور عام لوگوں سے اگر کسی وجہ سے ترک تعلق ہے تو اسے پس پشت ڈال کر بھائی چارگی اختیار کریں تاکہ اس دنیا سے ہم اس طرح رخصت ہوں کہ ہمارا دل سبھوں سے صاف ہو اور ہمارے اوپر کسی کا حق باقی نہ رہے اور ہمیں اللہ کے نیک بندوںمیں شامل کرلیا جائے اور ہماری مغفرت کردی جائے ۔
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلعم صحابہ کرام کو درس ے رہے تھے اور اچانک اپنا درس روک کر فرمایا کہ دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو جنتی ہوگا ، تین دن تک رسول اللہ صلعم صحابہ کو یہی کہتے رہے اور ایک ہی شخص آتا رہا ، جسیلوگ عام آدمی سمجھتے تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے عمل کو دیکھنے کیلئے ان کے گھر مقیم ہوگئے اور تین دن تک دیکھتے رہے کہ ان کے پاس رات کی کوئی خاص عبادت تو نہیں ہے ، پھر بعد میں جب پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی خاص عمل نہیں البتہ میرا دل ہر ایک سے بالکل پاک وصاف ہے۔ کسی کے بارے میں ان کے دل کے اندر کدورت وغیرہ نہیں ہے۔
ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ ہم جس دین ومذہب کے ماننے والے ہیں وہ ہم سے متقاضی ہے کہ آخرت کی کامیابی کیلئے ہم آپس میں بیر نہ رکھیں اور اپنے اندرون خانہ سے بیرون او رپورے معاشرہ تک اپنے تعلقات اچھے رکھیں۔
���
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔0091-9393128156