بانہال // رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوتے ہی ضلع رام بن کے قصبوں اور مارکیٹوں میں پھل فروٹ اور سبزی فروشوں نے لوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مارکیٹ میں بکنے والی چیزوں کی قیمت من مرضی سے وصولی جا رہی ہے۔ بانہال قصبے میں مختلف علاقوں میں مختلف چیزوں کی الگ الگ قیمتیں مقرر رکھیں گئی ہیں اور ایک ہی چیز کے قیمتوں میں تضاد اور تفاوت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سبزی اور پھل فروٹ بھیجنے والوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ضلع حکام کی طرف سے رمضان کیلئے کئے جانے والے اقدامات ، میٹنگیں اور دعوے ، جھوٹ اور گمراہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سبزی منڈی بانہال میں الگ الگ دکانداروں نے سبزی اور پھلوں کے علاوہ کھجوروں کی الگ الگ قیمت لگا رکھی ہے اور من مرضی سے غریب خریدار کو لوٹا جارہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ریڈیو ، ٹی وی اور اخباروں میں ماہ مبارک کے دوران قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے بڑے بڑے دعوی کئے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر دکاندار ، سبزی اور پھل بیچنے والوں نے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال اس لوٹ کو انجام دینے کیلئے رمضان کا مہینہ خصوصی طور پر منتخب کیا جاتا ہے اور غریب لوگ رمضان کے دوران گراں فروشی کی وجہ سے افطاری ا ور سحری کیلئے ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے دکانداروں کو اس لوٹ سے باز رکھنے کیلئے کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے۔ بانہال کے علاوہ ایسی ہی خبریں کھڑی ، رامسو ، مگرکوٹ ، اْکڑال ، پوگل پرستان ، رام بن ، میترہ وغیرہ کے علاقوں سے بھی موصول ہورہی ہیں۔ ضلع رام بن کے بازاروں میں ماہ مبارک کے دوران گراں فروشی کا معاملہ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر امورصارفین و عوامی تقسیم کاری رام بن غلام رسول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ جمعہ کو جموں میں اسی سلسلے میں منعقد ہوئی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں شامل تھے اور دو دن کے اندر اندر نئے نرخ ناموں کو پورے ضلع رام بن کی مارکیٹوں میں مشتہر اور نافذالعمل کریا جائے گا تاکہ گراں فروشوں کی لوٹ کھسوٹ کو بند کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پھل ، سبزی ، گوشت ، مرغ اور دودھ ، دہی وغیرہ کا تازہ نرخ نامہ آئیندہ دو روز تک جاری کیا جائے گا اور اسے زمینی سطح پر سختی سے عملایا جائے گا ۔