سرینگر//گزشتہ سال حکام کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے اگرچہ یہ بات صاف کر دی تھی کہ گرمیوں کے موسم میں روسی سفیدوں سے نکلنے والے گالوں سے کورونا کا کوئی خطرہ نہیں البتہ کمیٹی نے مادہ درختوں کی کٹائی اوران کو لگانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔تاہم ابھی تک اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا ہے اور شہر سرینگر سمیت وادی کے اکثر علاقوں میں مادہ روسی سفیدے ابھی تک موجود ہیں۔ گذشتہ سال حکام نے اس معاملے پر سخت کارروائی شروع کی تو بڑی جگہوں پر لوگوں نے ان کو کاٹنے کا سلسلہ شروع کیا لیکن ابھی بھی وادی کے ہر جگہ پر روسی سفیدے موجود ہیں اور ان سے نکلنے والے روئی کے گولے جب نکلنا شروع ہوجاتے ہیں تو وادی میں ہر طرف گلے میں الرجی، چھاتی خراب ہونا، آنکھوں میں جلن اور ناک بہنا معمول بن جائے گا۔یہ وہ علامات ہیں جو کورونا کی بھی علامات ہوتی ہیں اور دونوں میں فرق کرنا بہت مشکل بن جاتا ہے۔
محکمہ سوشل فارسٹری کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی لوگوں کو مادہ روسی سفیدوں کو کاٹنے او ر ان کی شاخ تراشی کرنے کیلئے ایڈوائزریاں جاری کی ہیں اور نجی نرسری مالکان سے مادہ سفیدوں کو نرسریوں میں اگانے اور بازاروں میں مادہ پودوں کو فروخت کرنے کی ممانعت کر رکھی ہے۔انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کر کے ہی گھروں سے باہر آیا کریں۔معلوم رہے کہ گذشتہ سال لوگو ں کو خدشہ تھا کہ مئی کے مہینے میں روسی سفیدوں سے نکلنے والی روئی کے گالے ایک اور مصیبت پیدا کرنے کے موجب بن سکتے ہیں اور کورونا کی علامت اور روئی کے ریشوں سے ہونے والی الرجی کے مابین فرق کرنا انتہائی مشکل بن جائے گا۔ لوگ کہتے تھے کہ جموں وکشمیر میں موسم گرما شروع ہوتے ہی سفیدوں سے نکلنے والے روائی کے گالے کم سے کم ایک ماہ تک وادی کے طول وعرض میں ہر ایک شہری کیلئے وبال جان بن جاتے ہیںاور ان مادہ روسی سفیدوں سے نکلنے والے گالوں سے گلہ خشک اوربند ہو جاتا ہے۔ناک بہنے لگتی ہے اور گلے میں خراشیں محسوس ہوتی ہیں۔ بخار بھی ہونے لگتا ہے اور اسی طرح کی علامات کورونا وائرس میں مبتلا ہو جانے کے بعد بھی ہوتی ہیں۔لوگوں کے خدشات کے بعد جموں وکشمیر ہائیکورٹ کی پھٹکار پر حکام نے اعلیٰ افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ماہرین کی کمیٹی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ سفیدوںکے گالوں سے نکلنے والے روئی سے کورونا نہیں پھیلتا ہے۔کمیٹی نے تاہم اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں کے گردونواح سے مرحلہ وار درختوں کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور مادہ درختوں کو لگانے پر بھی پابندی عائد کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔کمیٹی کے رپورٹ میں معالجین کی ٹیم نے کہا تھا کہ اس سے کورونا نہیں پھیلتا لیکن الرجی ہو سکتی ہے۔ محکمہ صحت کے ممبران نے کہا تھا کہ 92 فیصد لوگوں کو گھرکی دھول ، 73فیصدلوگوں کو صحن میں موجود گھاس کے گردوغبار ، 63فیصد لوگوں کو دیودار کے درختوں کے گالوں، 59.3لوگوں کو چنار کے درختوں کے گالوں اور 18.2فیصد لوگ سفیدے کے درختوں کے گالوں سے الرجی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔محکمہ سوشل فارسٹری کے ریجنل ڈائریکٹر زبیر احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس حوالے سے محکمہ نے میڈیا کے ذریعہ ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مکانوں خصوصاًعوامی اہمیت کے حامل جگہوں کے گردونواح میں مادہ سفیدے لگانے سے گریز کریں کیونکہ عدالتی حکم ہے۔انہوں نے ایڈوائزری میں یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کو خود ان کو کاٹ دینا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ سفیدے لگانے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ ان سے روئی کا اخراج نہیں ہوتا۔اس دوران نجی نرسری مالکان سے مادہ سفیدوں کو نرسریوں میں اغانے اور بازاروں میں مادہ پودوں کو بیچنے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے۔مارچ اور اپریل کے مہینے میں ان مادہ پودے کی شاخ تراشی کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مادہ سفیدوں کی پہنچان گوچھیوں کی بنیاد پر کریں اور اس کیلئے محکمہ سوشل فارسٹری سے تکینکی مشوارے حاصل کریں ۔انہوں نے کہا کہ مادہ سفیدوں سے نکلنے والی روائی کو پولن کے ساتھ منسوب نہ کریں ۔ روئی کو پولن کے ساتھ منسوب کرنا بلکل بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔اپریل اور مئی کے مہینے میں ماسک کا لازمی استعمال کریں۔روائی سے الرجی ، کھانسی زکام یا اور کوئی مرض لاحق نہیں ہوتا اس لئے لوگوں کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔زبیر احمد شاہ نے کہا کہ اس تعلق سے انہوں نے ڈی سیز اور محکمہ ا?ر اینڈ بی کو بھی متعلقہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف شاہرائوں پر محکمہ ا?ر اینڈ بی کے درخت ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ نشاندگی کر کے ان کی شاخ ترشی کریں۔محکمہ سوشل فارسٹری کا کہنا ہے وادی میں ان کی زیر نگرانی جتنے بھی مادہ روسی سفیدے تھے ان کا خاتمہ کیا گیا ہے اور دیگر محکمہ جات کی نگرانی زیر استعمال اراضی میں سفیدوں کی شاخ تراشی کیلئے انہیں وقت وقت پر مطلع کیا جاتا ہے۔