منڈی //نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے دورے کے پیش نظر ڈاک بنگلہ منڈی میںپارٹی کارکنان ایک اجلاس منعقد ہوا۔اس موقعہ پر ڈاکٹر فاروق کے دورہ ٔ منڈی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا اوران کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی۔مقررین نے کہا کہ اس وقت صرف پی ڈی پی ورکران کے ہی کام ہورہے ہیں اور باقی عوام ترس رہے ہیں ۔ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کہ اس وقت ہمیں اگر زندہ رہنا ہوگا تو اپنی تحریک کو بچاناہوگا کیوں کہ کشمیر میں قتل عام ہورہا ہے اور سرحدوں پر بھی تنائو ہے ،ایسے میں صرف واحد نیشنل کانفرنس ہی کشمیری عوام کی رہنمائی کرسکتی ہے۔اپنے خطاب میںسابق ایم ایل اے اعجاز احمد جان نے کہا کہ آج تک جموں صوبہ میں کبھی بھی کسی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند نہیں کیا مگر اس حکومت کے ناقص دور اقتدار میں یہاں بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا اوروہ بھی مسلمان نے نہیں بلکہ غیر مسلم نے بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید کا نعرہ تھا کہ گرینیڈ سے نہ گولی سے بات بنے گی بولی سے لیکن ریاست کی وزیر اعلیٰ کا نعرہ ان کے بالکل برعکس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کشمیر میں سنگین حالات ہیں اور محترمہ دلی میں بیٹھی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ سات مارچ کوپارٹی کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ منڈی آرہے ہیں جن کے جلسے میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ شرکت کریں ۔