نوشہرہ //حکومت کی طرف سے ضلع راجوری میں 4ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وں کی تعیناتی کو منظوری دینے کے دوسرے روز نوشہرہ میں جاری احتجاج پرتشدد رخ اختیار کرگیا جس کے نتیجہ میں ڈپٹی کمشنر راجوری ، دو ایڈیشنل سپرانٹنڈنٹ آف پولیس ، دو ڈی وائی ایس پی ، مقامی ایس ایچ او ،ایک صحافی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی نوشہرہ کے ممبران سمیت تیس افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان پانچ گھنٹے تک جھڑپیں رہیں جس دوران ایک ایمبولینس ، کئی پولیس گاڑیاں اور کاروں کو نقصان پہنچاجبکہ دیگر گاڑیوں اور سرکاری دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی جس کو پولیس نے ناکام بنادیا ۔گزشتہ روز نوشہرہ کیلئے علیحدہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوسٹ کی منظوری دیئے جانے کے فیصلے کو مقامی لوگوںنے مسترد کرتے ہوئے الگ ضلع کا درجہ دینے یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر پوسٹ کی منظوری کے حق میں36روز سے جاری احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ لیا ۔روزانہ کی طرح سنیچر کو بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں لوگ پٹیل چوک میں جمع ہوئے جہاںسے انہوںنے ایس ڈی ایم دفتر کیلئے ریلی نکالناشروع کیا تاہم جب وہ بس اڈہ چوک پر پہنچے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔اسی دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مظاہرین نے پولیس و سی آر پی ایف پر پتھرائو شروع کردیا جس کے جواب میں پولیس لاٹھی چارج کیاگیا ۔ذرائع نے بتایاکہ مظاہرین نے پولیس اور سی آر پی ایف پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں لاٹھی چارج اور ٹیئر گیس شلنگ کی گئی اور مین مارکیٹ میں جھڑپوں کا یہ سلسلہ تین سے زائد گھنٹے تک جاری رہا ۔جھڑپوں کے نتیجہ میں تیس افراد زخمی ہوئے جس میں ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری، ایس ایچ او نوشہرہ انسپکٹر کرن چلوترہ ، ایڈیشنل ایس پی راجوری محمد یوسف ، ایڈیشنل ایس پی نوشہرہ ماسٹر پاپسی ، ایس ڈی پی او نوشہرہ محمد خالق ، ایس ڈی پی او منجاکوٹ امتیاز احمد ، سب انسپکٹر اشیش چوہدری اورپولیس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں ۔ ان میںسے ایس ایچ او نوشہرہ کرن چلہوترہ ،سلیکشن گریڈ کانسٹبل سنجیو کمار ، سلیکشن گریڈ کانسٹبل راجیش کمار ، سلیکشن گریڈ کانسٹبل محمد شفیع کو گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیاہے ۔اس دوران کئی مقامی لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایڈیشنل ایس پی نوشہرہ کی گاڑی سمیت کئی پولیس گاڑیوں ، ایک ایمبولینس اور درجنوں نجی گاڑیوںکو نقصان پہنچاہے ۔اس بات کی بھی اطلاعات ہیں کہ دوران جھڑپ کچھ لوگوںنے سرکاری دفتر اور سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اس کوشش کوناکام بنادیا۔آخری اطلاعات کے مطابق علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں ۔