عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی نے عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لئے ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے مقدمات کے نپٹارے کے لئے ایک جامع ایکشن پلان کا آغاز کیا ہے۔ اس اَقدام کا مقصد زیرِ اِلتوأ مقدمات کا بروقت فیصلہ، عدالتی بیک لاگ میں کمی اور عدالتی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔چیف جسٹس نے مقدمات کے اِلتوا ٔاور اِنصاف میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر فیصلوں کو یقینی بنانے کے لئے ایک کثیر جہتی حکمت عملی پیش کی ہے بالخصوص وہ مقدمات جو کئی برسوں سے زیرِاِلتوأ ہیں۔چیف جسٹس جموں و کشمیراور لداخ ہائی کورٹ نے مرحلہ چہارم اور پنجم کا افتتاح کرتے ہوئے عدالتی کارکردگی کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا،’’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے اور یہ ایکشن پلان تمام شہریوں کو بروقت اور قابلِ رسائی اِنصاف کی فراہمی کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘مرحلہ اوّل سے مرحلہ سوم تک کامیاب تکمیل کے بعد اَب مرحلہ چہارم (جولائی 2025ء تا دسمبر 2025ء) اور مرحلہ پنجم (جنوری 2026 ء تا جون 2026ء ) کا آغاز کیا جا رہا ہے جن کا مقصد پہلے مراحل کے اثرات کو مزید گہرا کرنا اور شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔یہ منظم اقدام ضلعی عدلیہ میں مقدمات کے مستقل بیک لاگ کو ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی، نگرانی اور عدالتی اِنتظامیہ میں بہترین طریقوں کے نفاذ پر مبنی ہے۔مرحلہ چہارم اور پنجم کی عمل آوری کی نگرانی ہائی کورٹ کی ارئیرز کمیٹی کرے گی اور تمام ضلعی و سیشن ججوں سے ماہانہ رپورٹس حاصل کی جائیں گی۔ کارکردگی کا جائزہ فیصلہ شدہ مقدمات کی شرح، اِلتوا ٔمیں کمی اور مقررہ وقت پر فیصلوں کی تکمیل جیسے قابلِ مقداری پیمانے کی بنیاد پر لیا جائے گا۔