ڈوڈہ//کٹھوعہ میں آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل میں ملوث درندوں کو قرارِ واقعی سزا دلوانے کے لئے احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور ہڑیالوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے اور پیر کے روز بھی ضلع کے مختلف مقامات احتجاجی مظاہرے کئے گئے، بیشتر بازار بند رہے اور طلباء و طالبات نے احتجاجی ریلیاں نکال کر مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ قصبہ ڈوڈہ میں سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد گذشتہ روز خواتین نے بھی زبردست مظاہرہ کیا جس میں تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بھاری تعداد نے حصہ لیا اور بعدہ شام کو ایک کینڈل مارچ کا اہتمام کیا گیا۔پیر کے روز ڈگری کالج ڈوڈہ اور قصبہ کے مختلف اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلباء و طالبات نے ضلع صدر مقام پر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور ایک ریلی نکالی۔ڈگری کالج کلہوتران،ڈگری کالج بھدرواہ،ڈگری کالج ٹھاٹھری اور ضلع کے بہت سارے ہائر اسکنڈری اور ہائی اسکولوں کے طلباء نے بھی احتجاجی مظاہروں اور ریوں کے ذریعہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور مجرمین کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔وہ اس قسم کے واقعات پر روک لگانے کے لئے سخت سے سخت قوانین بنانے بنانے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے قصبہ ڈوڈہ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔مظاہرین طلباء نے اناؤ اتر پردیش، گجرات اور ملک کے دوسروں حصوں میں عصمت دری اور قتل کے واقعات پر اپنی شدید تشویش کا بھی اظہار کرتے ہوئے متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ضلع پولیس نے بھاری تعداد میں حفاظتی ساز و سامان سے لیس پولیس اہلکاروں کو تعینات کیاگیا تھا اِن احتجاجی طلباء نے اترپردیش کے اناؤ میں بنت حوّا کو مقامی ایم۔ایل۔اے کے ہاتھوں عصمت دری اور انصاف کے لئے اس کے باپ کا قتل اور گجرات میں دس سالہ معصوم کا درندوں کے ہاتھوں جنسی استحصال اور قتل و دیگر واقعات پر بھی شدید غم و غصّہ کا اظہار کیا صدر مقام ڈوڈہ میں صبّح و شام مختلف بازاروں گلی کوچوں سیول لائن میں مظاہروں نعرہ بازی اور ناراضگی اور سخت قانون سازی کا مطالبہ بھی زوروں پر ہے۔ضلع کے مختلف مقامات پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے طلباء و طالبات مقررین نے کہا کہ معصوم طالبہ کے سایھ پیش آئے بہیمانہ واقعہ نے طلباء برادری کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور اْن میں عدمِ تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ وہ اپنی معصوم بہن کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں اور جب تک ہے جب تک مجرموں کو اْن کے انجام تک نہ پہنچایا جائے گااحتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔اْنہوں نے کہا کہ اس بہیمانہ واقع نے نہ صرف ریاست اور ملک کو ہلا کے رکھ دیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی شدید مذمت کی گئی ہے اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی انسانیت کو شرمسار کرنے والا اس قسم کا واقع پیش نہ آئے۔طلباء و طالبات نے ایڈوکیٹ دپیکا سنگھ راجوت کو مجرموں کے حمایتی گروہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پوری طلباء برادری موصوفہ کے ساتھ ہے اور اْن کا کوئی بال بھی بیکا نہ کر سکے گا۔ادھر ٹھاٹھری، کاہرہ، گندو وغیرہ میں مکمل ہڑتال رہی اور تمام کاروبارے ادارے بند رہے۔