ڈوڈہ //ضلع ڈوڈہ کی سڑکوں پر اس سال بھی سڑک حادثات کا سلسلہ جاری ہے اورہر ماہ ان سڑک حادثات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ذرائع سے معلوم ہواہے کہ رواں سال کے چار ماہ جنوری ، فروری، مارچ و اپریل کے دوران ضلع میں کل 70سڑک حادثات کے دوران 31افراد ہلاک اور 85زخمی ہوئے ہیں۔محکمہ ٹریفک کے اعداوشمار کے مطابق ضلع کی سڑکوں پر جنوری کے مہینے میں 17سڑک حادثات کے دوران 2لوگوں کی موت ہوئی اور28زخمی ہوئے ہیں۔ فروری کے مہینے میں اس ضلع میں 17سڑک حادثات کے دوران 7 افراد ہلاک اور 16زخمی ہوئے ہیں۔محکمہ کے اعداوشمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں ضلع میں 28سڑک حادثات کے دوران 10لوگوں کی موت ہوئی اور 27زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں ماہ اپریل میں 8 الگ الگ سڑک حادثات میں 13 افراد ہلاک و 14 زخمی ہوئے ہیں۔ سیول سوسائٹی و مختلف سیاسی جماعتوں نے ڈوڈہ خطہ میں بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کیلئے ناتجربہ کار ڈرائیور ،خستہ حال سڑکوں، ناکارہ و پرانی گاڑیوں و ٹریفک کی عدم توجہی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔سابق قانون ساز کونسل رکن نریش کمار گپتا کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کے معاملے کو متعدد بار انہوں نے دونوں ایوانوں میں اٹھایا جس پر اسوقت کی حکومت نے محمد یوسف تاریگامی کی قیادت میں قانون سازیہ ارکان کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی جنہوں نے خطہ کا تفصیلی دورہ کرکے اپنی سفارشات حکومت کو بھیجی تھی جس میں کرش بیرئر لگانے، سڑکوں کی مرمت کرنے، ایس آر ٹی سی بسوں کی تعداد بڑھانے، پرانی و ناکارہ گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے، ٹریفک قوانین کی عمل آوری کو یقینی بنانا شامل تھا۔انہوں نے کہا کہ اس پر موجودہ حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی اور وادی چناب کی سڑکیں دن بدن خستہ حال ہورہی ہیں جو کہ سڑک حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ڈی ڈی سی ممبر معراج ملک کا کہنا ہے کہ سڑکوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں و عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری لانے، تجربہ کاری کی بنیاد پر لائسنس فراہم کرنے و مسلسل ٹریفک چیکنگ کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ ڈوڈہ ضلع کی سڑکیں ٹریفک کی نقل حرکت کیلئے محفوظ نہیں ہیں جہاں ان سڑکوں پر پرانی گاڑیوں کے چلنے پر کوئی روک نہیں ہے ،وہیں کم عمر لڑکے گاڑیاں چلاتے ہیں یہی نہیں کہ گاڑیوں میں موبائل فون کا زیادہاستعمال بھی ضلع میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ ہے۔