راجوری //راجوری ضلع کے اکثر مقامات سیلاب زدہ علاقوں میں آنے کے باوجود ابھی تک محکمہ آبپاشی اور سیلاب کنٹرول کی جانب سے صرف 4 انتباہی پوئنٹس قائم ہی کئے جاسکے تاہم قائم کردہ پوئنٹس نے ابھی تک کام کرنا شروع ہی نہیں کیا ہے ۔غور طلب ہے کہ انتباہی پوئنٹس ایسی جگہوں پر نصب کئے جاتے ہیں جہاں پر سیلاب کا خطرہ ہو اور مذکورہ پوئنٹس کی مدد سے انتظامیہ علاقہ میں پانی کے بہا ئو کا اندازہ لگا کر دریائوں کے قریبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو ہدایت جاری کرتی رہتی ہے ۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول راجوری کے ایک آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع میں ابھی تک محض 4ہی ایسے پوئنٹس قائم کئے جاسکے ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک کام کرنا شروع نہیں کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پوئنٹس بیلہ راجوری ،ٹھالکہ نوشہرہ ،راجل تیتھی نوشہرہ اور قصبہ بیلہ میں قائم ہو سکے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پوئنٹس کے کام نہ کرنے کی وجہ سے اس وقت ضلع میں سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی بھی سسٹم نہیں ہے ۔متعلقہ آفیسر نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے کئی مرتبہ مذکورہ جگہوں پر پوئنٹس قائم کرنے کے سلسلہ میں ہدایت جاری کی گئی ہیں لیکن ان کو قائم کرنے کیلئے ابھی تک فنڈز ہی فراہم نہیں کئے گئے ۔اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ نے محکمہ اطلاعات کے ذریعہ کے بتایا کہ ضلع میں اس وقت پانی کی پیمائش کے لئے چھ پوئنٹس قائم کئے گئے ہیں تاکہ سیلاب سے متعلقہ جانکاری حاصل کی جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پوئنٹس ٹوپہ درہال،سیلانی پل راجوری ،نوشہرہ توی اور بیری پتن توی وغیرہ علاقوں میں قائم کئے گئے ہیں ۔راجوری کے مکینوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ راجوری میں سیلابی کی وجہ سے اکثر مقامات پر املاک کا نقصان ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ کی جانب سے کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔غور طلب ہے کہ راجوری کو سیلاب زدہ علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں پر 2014کے سیلاب کے دوران لوگوں کی املاک کو بھاری نقصان پہنچا تھا ۔ضلع میں چھ مین دریا ہیں جن میں آنس ،راجوری توی ،ناری توی ،ٹھنڈا پانی اور بیری پتن شامل ہیں ۔اس کے علاقہ ضلع میں 15کے قریب نالے بھی بہتے ہیں او ر اسی وجہ سے انتباہی پوئنٹس قائم کرنا اشد ضروری ہے ۔