غیر قانونی طو ر لگا یا گیا، پلانٹ بند کرنے کیلئے10دن کا نوٹس دے دیا گیا : تحصیلدار
گول//سنگلدان بستی کے بیچ میں ہاٹ مکسنگ پلانٹ موت کا کنواں کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ جس اراضی پر ہاٹ مکسنگ پلانٹ نصب کیا گیا ہے وہ ریلوے کی جانب سے لی گئی اراضی ہے اور ریلوے کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ زبردستی سے اس اراضی پر یہ پلانٹ نصب کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں پولیس کے پاس بھی ایک درخواست دی گئی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہاٹ مکسنگ پلانٹ یہاں بستی کے بیچ نصب کیا گیا ہے وہ زور زبردستی اور انتظامیہ کی ہدایت سے ہی نصب ہوا ہے ۔ محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے جو این او سیز دی گئی ہیں اُس کے بر خلاف یہ پلانٹ نصب ہوا ہے اور کیا دیکھ کر ان محکموں نے یہ اسناد دی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تمام رشوت کے زور پر ہی چلتا ہے ۔اس پلانٹ کے صرف پچاس میٹر کی دوری پر ایک گیس پلانٹ بھی ہے جہاں پر باہر سے گیس لے کر یہاں پر ذخیرہ کیا جاتا ہے وہیں ساتھ میں ہی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا بھی گھر ہے اور یہاں اس پلانٹ سے صرف سو میٹر کی دورہ پر بازار ہے اور ناردرن ریلوے کا آفس بھی ہے ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جو این او سی دی گئی اس میں ایک کلو میٹر (ہوائی) تو تحریر کیا گیا ہے لیکن زمینی سطح پر تین سو میٹر بھی نہیں ہے وہیں محکمہ جنگلات بھی کی خاموشی بھی اس پر سوال اٹھاتی ہے جہاں ایک طرف سر سبز جنگل بھی ہے ۔ اس ہاٹ مکسنگ پلانٹ سے چوبیس گھنٹے زہریلی دھواں نکلتا رہتا ہے اوریہ دھواں پوری بستی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور دوسرے اداروں کو بھی گھیرتی ہے ۔ تحصیلدار گول نے اس بارے میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ اراضی سرکاری ہے اور اس وقت ریلوے نے لی ہے اور ریلوے ہی اس اراضی کو کئی سالوں سے استعمال کرتی آئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ہاٹ مکسنگ پلانٹ کیوں کر لگا اور یہ غیر قانونی طو رپر لگا ہے۔ اس کے لئے دس دن کا نوٹس دے دیا ہے اور اس کو ایک دو دن کے اندربند کردیا جائے گا۔تحصیلدار گول کاکہنا ہے کہ یہ پلانٹ سرکاری اراضی پر غیر قانونی طو رپر لگا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’’اس کا کوئی کور ٹ کا مسئلہ چل رہا تھا جس بناء پر ایف آئی آر درج نہ ہو سکی اور اس کو اے سی آر نے حال ہی میں بند کر دیاتھا ‘‘۔ محکمہ مال اور پولیس کے بیانات اگر چہ اس پلانٹ کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں لیکن اس کو اس غیر قانونی کام کروانے کے لئے کوئی روکنے کے لئے آگے نہیں آ رہا ہے ۔ اس پلانٹ سے نہ صرف ایک شخص بلکہ پورے سنگلدان کو جانی خطرہ ہے اور انتظامیہ بھی ان تمام حالات سے با خبر ہے لیکن اس کے با وجود یہ پلانٹ چل رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر یہ پلانٹ غیر قانونی ہے تو انتظامیہ کو چاہئے کہ بناء کسی ٹال مٹول کے اسے بند کر دے اور لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے اُسے روکا جائے اور اس طرح کے اقدامات اٹھانے والوں سے جواب طلب کیا جائے ۔