عظمیٰ ویب ڈیسک
زوجیلا/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز زوجیلا ٹنل میں ہونے والی اہم پیش رفت کو ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطہ برقرار رکھنے کا دیرینہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے لداخ کے عوام کو مبارکباد پیش کی اور مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری اور اُن کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس منصوبے کو اس مقام تک پہنچایا جہاں اب ہر موسم میں رابطہ ممکن ہونے کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ سردیوں کے دوران زوجیلا شاہراہ کی بندش سے عوام کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اس ٹنل کی تکمیل سے تعلیم، صحت، سیاحت، تجارت اور کاروبار کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’اس ٹنل کے حقیقی اثرات مقامی لوگوں، طلبہ، مریضوں اور تاجروں کی زندگیوں میں نظر آئیں گے۔ یہ منصوبہ ایسی تبدیلی لائے گا جس کا مکمل اندازہ آج لگانا مشکل ہے۔‘‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ کام بھی جلد مکمل ہوگا اور کہا کہ یہ پیش رفت خطے کی ایک اہم خواہش کی تکمیل ہے۔تاہم وزیر اعلیٰ نے کرگل کے عوام کے ایک اور دیرینہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے نتن گڈکری سے اپیل کی کہ وہ خطے کے لیے باقاعدہ فضائی رابطہ بحال کرنے میں مدد کریں۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کیں لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ میں گڈکری صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کرگل کے عوام کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں تعاون کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ بہتر فضائی رابطہ خطے کی ترقی اور انضمام کو مزید فروغ دے گا۔
زوجیلا ٹنل میں پیش رفت دیرینہ خواب کی تعبیر: عمرعبداللہ