راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے نرسنگ اور بائیو میڈیکل سائنسزکے زیر اہتمام پیشہ نرسنگ کی سالانہ حلف وفاداری کی تقریب کا آغاز شمع چراغاں سے کیا گیاجس میں باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے زیر انتظام وزیر نگرانی نرسنگ کالج کشتواڑ،جموں اور راجوری کی زیرتعلیم و تربیت کُل90 طالبات نے شرکت کی ۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق اس تقریب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نرسنگ میں زیر تعلیم طالبات کو عصری دور میں نرسنگ کی اہمیت وافادیت اور اس میں مستقبل میں نئے معاشی وسائل کے روشن امکانات سے مکمل واقفیت کروائی جائے تاکہ آنے والے وقت میں وہ اپنے پیشے سے مانوس ہونے کے ساتھ اس میں نہایت ایمانداری اور ہمدردی سے کام کرنے کا عزم لے کر آگے بڑھیں ۔تقریب میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔اس دوران راج محمد سی ای اووقف کونسل جموں وکشمیر نے بھی شرکت کی ۔تقریب میںپروفیسر اقبال پرویز رجسٹرار بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ،تمام شعبہ جات کے ڈین،صدور، تدریسی عملہ، انتظامیہ کے ملازمین اور طلبہ وطالبات بھی موجود تھے۔پروفیسر جاوید مسرت نے کہاکہ 1871میں انگریزوں نے ہندوستان میں نرسنگ کے پیشے کو ایک تعلیمی ادارے کی صورت میں عوام کو متعارف کروایا ۔انہوںنے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نرسنگ ایک ہمہ جہت اور ترقی پذیر پیشہ ہے جس میں ترقی اور خوشحالی کے کئی روشن امکانات مضمر ہیں ۔انہوںنے اس بات پہ زور دیا کہ ریاست جموں وکشمیر کی نوجوان نسل کو اس پیشے میں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ اس پیشے کا براہ راست تعلق حفظان صحت سے ہے۔پروفیسر اقبال پرویز نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی کہ جو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کی چانسلر بھی ہیں ،کی مالی معاونت سے ہماری یونیورسٹی ترقی کررہی ہے ۔انہوںنے حج اور اوقاف کے وزیر عبدالرحمن ویری کا بھی شکریہ ادا کیا ۔اس موقعہ پر راج محمد نے جموں نرسنگ کالج کے لئے 30 لاکھ روپے کا چیک دیا۔