ڈوڈہ// ڈوڈہ سول سوسائٹی کی طرف سے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی کی عصمت ریزی اور قتل، اسے فرقہ وارانہ رنگت دینے اور اس میں ملوث افراد کو بچانے کی مذموم کوششوں کے خلاف ہفتہ کے روز زبردست احتجاج کیا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کر کے مجرمین کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین صبح ڈوڈہ کے پرانے بس اسٹینڈ میں جمع ہوئے اور وہاں سے ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے ایک جلوس کی شکل میں نعرہ بازی کرتے ہوئے مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے واپس بس اسٹینڈ پہنچے جہاں دھرنا دیا گیا اور مختلف مقررین نے مظاہرین سے خطاب کیا۔مقررین نے ریاستی و مرکزی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے کہا کہ حکومت کے’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘کے نعرے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں،خواتین کی عصمت تار تار کی جا رہی ہیں یہاں تک کہ معصوم بچیوں کے ساتھ ایسابہیمانہ سلوک کیا جا رہا ہے جس کی تاریخ میں شاید کوئی مثال نہیں ملتی۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ اب جرم کو بھی فرقہ وارانہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور مجرمین کو بچانے کے لئے مظاہرے کئے جا رہے ہیں اور انصاف کے حصول میں معاونت کرنے والے قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں اْڑا رہے ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سماجی کارکن اشتیاق احمد دیو نے کہا کہ ملک میں امن کی فضا کو تار تار کرنے کے لئے فرقہ پرست طاقتیں اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگت دے کر مجرمین کی پشت پناہی کر رہی ہیں جس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے گا۔اْنہوں نے اس کو جموں سے باہر فاسٹ ٹریک عدالت میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں اور کٹھوعہ میں یہ لوگ معصوم بچی کو انصاف دلانے کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ عبدالقیوم زرگر نے کہا کہ واقع انتہائی شرمسار کرنے والا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔کیوں کہ انسانیت کے دشمنوں نے معصوم بچّی کے ساتھ جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں اْس کی مثال شاید تاریخِ انسانی میں نہ ملین۔انسانیت شرمسار ہے کہ آٹھ لوگوں نے مل کر آٹھ سالہ معصوم بچی کی کئی روز تک عصمت دری کی اور پھر قتل کر دیا اور وہ بھی ایک مندر میں جہاں لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت کرتے ہیں۔ ایڈوکیٹ حسان بابر نہرو نے کہا کہ یہ انسانیت سوز واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ معاملہ کسی مخصوص طبقہ کا نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ ہے۔ آج رسانہ میں ہوا ہے کل یہاں بھی ہو سکتا ہے اس لئے جموں بار ایسوسی ایشن اور کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے بند اور احتجاج کی کال انتہائی افسوس ناک ہے اور اس رویہ سے حالات کوئی بھی موڑ لے سکتے ہیں۔اس لئے ملزمان کو عبرتناک سزا دی جانی طاہیے۔نہرو نے کہا کہ وکلاء برادری کو ایسی حرکت کرنے سے قبل اپنے گھر کی طرف دیکھنا چاہیے تھا۔لیکن باوجود اس کے اْنہوں نے ملزمان کی حمایت کرکے حق و انصاف دلانے اور قانون کے اس شعبہ پر بدنما داغ لگایا ہے اْنہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن جموں کے صدر سلاتھیہ نے کھلے عام بندوق و بم گرانے کی باتیں کیں مگر اْن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہ کی گئی جب کہ بنیادی حقوق کی مانگ کرنے والے نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔چناب سٹیزن فورم کے صدر محبوب احمد ٹاک،سینئر صحافی نصیر احمد کھوڑا،شوکت علی مغل ،محمد حسین شاہین ،عبدالمنان بانڈے و دیگران نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔