بانہال //جمعرات کے روز قصبہ میں ہوئی آتشزدگی کی واردات کے دوران مبینہ طور پر تاخیر کرنے کیلئے محکمہ فائر برگیڈ کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا ۔ حالانکہ مابعد محکمہ فائر سروس اور فوج کے فائر برگیڈوں کی مشترکہ کوشش سے آگ پر قابو پایا گیا اور آگ کو مزید مکانوں تک پھیلنے سے پہلے ہی قابو کیا گیا۔لوگوں نے الزام لگایا کہ فائر انجن کو سٹارٹ کرنے میں وقت لگا اور تب تک آگ اپنا کام کر چکی تھی۔ تاہم فائر سروس محکمے کا کہنا ہے کہ لوگوں کی طرف سے کام کرنے کے دوران کی گئی مداخلت اور آگ بجھانے کیلئے پائیپوں کو محکمہ اہلکاروں سے چھیننے کی وجہ سے فوری طور پر آگ کو قابو نہیں کیا جا سکا تاہم بعد میں اسے قابو کیا گیا۔عینی شاہدین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آگ کی یہ واردات جمعرات کی دوپہر تقریباً ایک بجے پیش آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے گئی۔ مقامی لوگوں نے محکمہ فائر سروس کی طرف سے موقع پر پہنچنے میں کی گئی تاخیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور بعد میں بانہال میں فوج کی راشٹریہ رائفلز کے فائر سروس کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا ہے اور مقامی لوگوں کی مدد سے آگ کو مزید پھیلنے سے بچالیا گیا۔ مکان مالک غلام احمد گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اْن کے چار لاکھ روپئے کی نقدی رقم اور لڑکی کی شادی کیلئے سونے کے زیورات اور دیگرتمام مال اسباب اس واردات میں جل کر راکھ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حج بیت اللہ پر جا رہے ہیں اور اس کا پاسپورٹ ، دیگر دستاویزات اورحج کیلئے رکھی گئی نقدی رقم بھی آگ کی اس ہولناک واردات میں جل کر راکھ ہوگئی ہے ۔ اس مکان میں دو کرایہ داروں کا سامان بھی جل کر راکھ ہوگیا ہے۔ آگ کی خبر ملتے ہی بانہال پولیس ، فوج ، بانہال والینٹرز کے رضاکاراور مقامی لوگ جائے حادثہ پر پہونچ گئے اورمکان سے سامان نکلانے کی سخت جد و جہد کی لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے انہیں کامیابی نہیں ملی۔ بانہال والینٹرز کے صدر ادریس وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ سڑک حادثات ، آگ اور دیگر آفات کیلئے رضاکارانہ طور پراپنے ساتھیوں کے ہمراہ سالوں سے کام کرر ہے ہیں لیکن ان کے پاس ساز وسامان کی کمی کی وجہ سے ان کی طرف سے کی جانیو الی بچاو کاروائیاں موثر ثابت نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے رضاکار نہتے ہاتھوں سے آگ سے لڑتے رہے جس کی وجہ سے کئی رضاکاروں کو چوٹیں بھی آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن میں کام کرنے والے رضاکار ہر وقت انتظامیہ کی مدد کیلئے تیار بہ تیار رہتے ہیں لیکن ان کیلئے ساز وسامان کا کوئی انتظام سرکار نے نہیں کیا ہے۔ پولیس نے کیس درج کرکے آگ کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کارروائی شروع کی ہے۔