مینڈھر//گذشتہ مہینے کٹھوعہ میں پیش آئے آصفہ قتل و عصمت ریزی معاملہ پر مینڈھر کی سول سوسائٹی نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچی کے ساتھ ظلم و ستم کیا گیا لیکن کچھ لوگ ملزمان کے حق میں دھرنا دینا بڑے افسوس کی بات ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی سرکار کو فوری طور ان لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہیے جو لوگ ملزمان کے حق میں دھرنے پر بیٹھ کر معاملہ کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔مینڈھرکے لوگوں نے کہاکہ آٹھ سالہ بچی کے ساتھ عصمت ریزی معاملہ پر ان لوگوں کو جو دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کو بھی احتجاج کرکے آصفہ کے حق میں جلوس نکالناچاہیے تھا کہ اس کے ملزمان کو فوری طور گرفتار کرکے پھانسی کی سزا دی جائے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان غنڈہ عناصر کے حق میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ سی بی آئی سے انکوائری کروا کر عصمت ریزی و قتل کرنے والے غنڈہ عناصر کو بری کروایا جائے۔ ان کا کہنا تھا سرکار فوری طور ان لوگوں کو حراست میں لے کر کاروائی کرے جو لوگ اس معاملہ میں بار بار خلل ڈال رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو مبارک باد دیتے ہیں جنھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس معاملے کی انکوائری کرائم برانچ ہی کرے گی انھوں نے ریاستی وزیر اعلی سے کہا کہ ان وزیروں کے خلاف بھی کروائی کی جائے جنھوں نے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا اور سی بی آئی کی انکوائری کی اور کرائم برانچ کے سپرد معاملہ کئے جانے کی مخالفت میں مظاہرہ کروایا اس سے صاف طاہر ہے کہ اس معاملہ میں ان وزیروں کا بھی کلیدی رول ہوسکتاہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکار جلد از جلد کوئی لائے عمل بنا کر اسمبلی میں بل پاس کرکے ان غنڈہ عناصر کو پھانسی کے تختے پر لٹایاجائے جو معصوم بچی کی قتل و عصمت ریزی معاملہ میں ملوث ہیں ورنہ اگر یہ غنڈہ عناصر ان کے حق میں احتجاج کرتے رہے تو یہ احتجاج پوری ریاست میں پھیل جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں ریاستی وزیر اعلی کے اہم رول ادا کرنے کے بعد لوگ خاموش ہو گئے لیکن اگر یہ معاملہ اسی طرح رہا تو ریاست کے زیادہ تر لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔