اکثر یہ باتیں سنائی پڑتی ہیں کہ مدرسوں کو دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا جائے،حفاظ اکرام اور علماء اکرام بھی عصری تعلیم سے مزین ہو ،لیکن کیا کبھی یہ بات بھی ہوگی کہ اسکولوں اور کالجوں کے طالب علم بھی مذہبی تعلیم حاصل کریں اور مدرسے کے طلبا کی طرح نظم وضبط کے پابند بنے۔
پڑھ اپنے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا(سورہ۔العلق۔آیت۔1)
فرشتے نے جب حضور ﷺسے کہا کہ پڑھو، تو حضور ﷺنے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں آپ ﷺکے سامنے پیش کیے تھے اور پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں بولتا جاؤں آپﷺ اسی طرح پڑھتے جائیں، تو حضور ﷺکو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وحی کے آنے سے پہلے صرف اللہ تعالی کو اپنا رب جانتے اور مانتے تھے،اور دوسرا نقطہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا استاد صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے،سیدنا جبرئیل ؑصرف ایک پیغام بر ہیں۔ اسی لیے یہ کہنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آپ کا رب کون ہے، بلکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔ یہ نہیں کہا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اس سے خودبخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے، جس نے ساری کائنات کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے ۔
علم کبھی ذہن میں ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی ،واضح ہو کہ رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھامعلوم کرادیا۔ ایک اثر میں و ارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو، اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے (آل عمران: 18)
آپ ﷺ کا فرمان ہے !دورِ جاہلیت کے بہترین لوگ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں( متفق علیہ)
عِلم کا طَلَب کرنا ہر مسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے (سنن ابن ماجہ ج۱ ص۔146۔حدیث۔224،مشکوٰۃشریف)
ایک روز رسول ﷺ مسجدنبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ صحابہ کرام کے دو گروہ الگ الگ دو محفلیں منعقد کیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک محفل میں تسبیحات ہو رہی تھی اور دوسری محفل میں علمی مذاکرہ ہو رہا تھا۔ حضور پر نور ﷺدونوں کو دیکھ کر خوش ہوئے او رخود علمی مذاکرہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے (ابن ماجہ:94/1)
حسن بن الربیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھاکہ ارشاد نبوی ﷺ ’’علم کا سیکھناہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘ کا مطلب کیاہے؟تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے جواب دیا کہ اس سے وہ دنیوی علوم مراد نہیں جو تم حاصل کرتے ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دینی معاملہ میں مبتلاہو تو اس کے بارے میں پہلے جان کار لوگوں سے علم حاصل کرلے(آداب المتعلمین)
مردوعورت پر فرض ہے جس کے مشہور الفاظ یہ ہیں ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ‘‘ (مسند ابی حنیفہ) بعض احادیث طیبہ میں لفظ ’’مسلم‘‘ کی بجائے لفظ ’’مومن‘‘ آیا ہے اور بعض میں ’’العلم‘‘ کی جگہ ’’الفقہ‘‘ کا لفظ آیا ہے اور بعض میں ’’فریضہ‘‘ کے مقام پر ’’حق‘‘ اور بعض میں ’’واجب‘‘ کا لفظ آیا ہے (جامع بیان العلم)
طالب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ‘‘ بوجہ کثرت طرق و تعدد مخارج حدیث حسن ہے۔
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے
علمائے کرام نے علم کو امت پر مقرر کردہ فرائض میں سے شمار کیا ہے، اور اس حدیث کی تفسیر میں امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سے یوں آیا ہے: علم کا طلب اور جہاد کرنا مسلم جماعت پر فرض ہے،اور یہ فرض ان میں سے چند کے کرنے سے کافی ہوگا، اور انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:
ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں، ڈرائیں، تاکہ وہ ڈر جائیں۔ التوبہ: 122)
ابن مبارک فرماتے ہیں کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز پر اقدام نہ کرے سوائے علم کے بارے میں سوال وجانکاری حاصل کرنے کے، تو یہی علم حاصل کرنے والے لوگوں سے مطلوب ہے۔
اور امام احمد فرماتے ہیں کہ: جس سے نماز، روزہ،زکاۃ دین کے امور درست ہوسکیں اور اسلام کے شرائع تو ان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا ضروری ہے۔
علم کا ایک باب جسے آدمی سیکھتاہے میرے نزدیک ہزار رکعت نفل پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی طالب العلم کو علم حاصل کرتے ہو ئے موت آجائے تو وہ شہید ہے۔(الترغیب والترہیب، کتا ب العلم، رقم16، ج ۱، ص۔ 54)
تمہاراکسی کو کتابُ اللہ کی ایک آیت سکھانے کے لئے جانا تمہارے لئے سو رکعتیں ادا کرنے سے بہتر ہے اور تمہارا کسی کو علم کا ایک باب سکھانے کے لئے جانا خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تمہارے لئے ہزار رکعتیں اداکرنے سے بہترہے(سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، الحدیث ۹۱۲، ج ۱، ص۔142)
حضرت ِسیِّدُنا ابودَردَاء ؓ فرماتے ہیں’’علم کا ایک مسئلہ سیکھنا میرے نزدیک پوری رات قیام کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے‘‘ مزید فرماتے ہیں’’جو یہ کہے کہ علم کی جستجو میں رہنا جہاد نہیں اس کی رائے اور عقل ناقص ہے (المتجر الرابح فی ثواب العمل الصالح،ص۔22)
:گھڑی بھر علم دین کے مسائل میں مذاکرہ اور گفتگو کرنا ساری رات عبادت کرنے سے افضل ہے(الدرالمختاروردالمحتار،ج۔9،ص۔۔482)
حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ ہزار شب بیدار، روزہ دار عابدوں کا مر جانا ایسے عالم کی موت سے کم ہے جو خدا تعالیٰ کے حلال اور حرام کا ماہر ہو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے!جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے وہ قیامت کے دن علماء کی قدرومنزلت دیکھ کر اس کی تمنا کریں گے کہ کاش! اللہ تعالیٰ انہیں علماء کی صف میں اٹھاتا‘‘۔امام حسن ؒبصری کا قول ہے کہ علماء کی قلم کی روشنائی شہداء کے خون کے مقابلے میں تولی جائے تو علماء کے قلم کی روشنائی کا پلڑا بھاری نکلے گا۔حضرت ابو دردا ؓ فرماتے ہیں ’’جویہ سمجھے کہ علم کی جستجو میں آناجانا جہاد نہیں ہے،اس کی عقل اور رائے میں نقص ہے۔
ایک صحابی کاقول ہے کہ اگر علم کے حصول کی کوشش کے دوران طالب علم کی موت آجائے،تو وہ شہید ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
فون نمبر۔9968012976
�������