۔9اپریل: ایک سال قبل آج ہی کے دن بڈگام و گاندربل اضلاع لہو سے تر ہوئے

سرینگر//بڈگام کے مختلف علاقوں کو ایک سال قبل لہو لہان کرنے کی تلخ یادیں،متاثرہ شہریوں کے دلوں میں اب بھی تازہ ہے اور متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ 9 اپریل  کی اس خونی اتوار کو وہ کھبی فراموش نہیں کرسکتے،جب ان کا سب کچھ اجڑ گیا۔والدین اب بھی انصاف کے متلاشی ہیں،جبکہ انکے ہونٹوں پر ایک ہی سوال ہے کہ کیا انصاف غالب ہوگا اور ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے گی؟۔سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے گزشتہ برس9اپریل کو یوم الیکشن انسانی لہو میں تبدیل ہوا جس کے دوران بیروہ،پکھرپورہ،چاڈورہ،رٹھسونہ ,کائو سہ اور گاندربل میں8 نوجوان فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ جبکہ گولیوں ،پیلٹ اور شلنگ سے قریب 200افراد زخمی ہوئے ۔پارلیمانی ضمنی انتخابات کے دوران دن بھر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ دن کے آ غاز میں ہی وسطی کشمیر کے پکھر پورہ ڈھلون علاقے میں ایک کمسن نوجوان فیضان احمد ڈار ساکن راتھر پورہ ڈھلون جاں بحق ہوا۔اس واقعے میں گولی سے زخمی ہوا ایک اور نوجوان عباس جہانگیر ولد فتح محمد بھی بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔بیروہ کے رٹھسونہ علاقے میں اس وقت ایک نوجوان جاں بحق ہوا جب پولنگ مرکز کے نزدیک احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے۔اس دوران فورسزنے گولیاں چلائیں جس سے نثار احمد ولد غلام محمد ساکن رٹھسونہ ، جو  پیشہ سے قالین بافی کا کام کرتا تھا، جاں بحق ہوا۔بڈگام کے مختلف علاقوں میں ہر سو ماتم ہی ہو رہا تھا کہ شبیر احمد بٹ ولد غلام محمد ساکن دولت پورہ نامی22برس کے نوجوان کی موت کی خبر بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ شبیر احمد بٹ گھر کے باہر مقامی قبرستان کے باہر بیٹھا ہوا تھا اور وہاں پر اسے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔شبیر احمد بٹ بینڈ سا پر کام کرتا تھا۔ ضلع میں ہورہی ہلاکتوں کی وجہ سے بیروہ سے لیکر چاڈورہ تک آہ و فغاں کا عالم تھا اور ہر سو ماتم کی فضا قائم تھی اورہر سو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔اس دوران کاوسئہ خالصہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے  پیلٹ بندوق کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں عادل فاروق شیخ ولد فاروق احمد کے جسم پر کئی پیلٹ پیوست ہوئے اور اسپتال پہنچاتے پہنچاتے ہی دم توڑ بیٹھا۔  مذکورہ نوجوان12ویں جماعت کا طالب علم تھا۔ شام ڈھلتے ڈھلتے چرمجرو بیروہ کے عقیل امین(عاقب) کی ہلاکت کی خبر بھی پہنچ گئی ۔ آتنہ بیروہ میں احتجاجی مظاہروں کے دوران فورسز نے گولیاں چلائی جس کے نتیجے میں عقیل امین زخمی ہوا اور وہ پی ایچ سی گوندی پورہ میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ بڈگام اس وقت پھر سے خون میں غلطان ہوا جب ڈاڈہ ونپورہ چاڑورہ میں عامر منظور ولد منظور احمد بھی گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔ عامر منظور نامی12ویں جماعت کا طالب علم اپنے ننہال سوگام چاڑورہ میں ٹیوشن کے حوالے سے رہائش پذیر تھا اور اس دوران وہاں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں عامر منظور زخمی ہوا اور سب ڈسڑک اسپتال ناگم میں زخموںکی تاب نہ لاکر چل بسا۔ضلع میں صرف لاشیں اور جنازوں کے مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے،جبکہ آہ و فغان اور ماتم کی لہر پوری وادی میں پھیل گئی۔ ضلع گاندربل کے کرہامہ میں احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا جس کے دوران فورسزنے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں2نوجوان زخمی ہوئے۔جنہیں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیا جہاں محمد فاروق گنائی ساکن بارسو نامی ٹپر ڈرائیور جاں بحق ہوا۔اس واقعے میں زخمی ہوا،نوجوان کئی دنوں تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جاں بحق ہوا۔دن بھرانتخابی مظاہروں کے دوران فورسز کی کارروائی میں200کے قریب نوجوان زخمی بھی ہوئے۔ایک سال گزر جانے کے بعد بھی مقامی لوگوں کیلئے یہ جیسے کل کا ہی واقعہ ہو۔ان واقعات میں جاں بحق ہوئے افراد کے والدین کا کہنا ہے ’’ایک سال گزر جانے کے باوجود ابھی بھی قصور واروں کو کوئی سزا نہیں دی گئی،جبکہ حصول انصاف کیلئے برسر جدوجہد رہیں گے‘‘۔والدین نے امید ظاہر کی کہ ان کے گلشن کو ویران کرنے کے بعد ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا،جنہوں نے معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگ دیا‘‘۔