۔85سالہ بزرگ کی گرفتاری سیاسی عناد کا نتیجہ:تحریک حریت

سرینگر//تحریک حریت نے تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایا اور عمر عادل ڈار کی پچھلے دو دن سے مسلسل خانہ وتھانہ نظربندی، جبکہ تحریک حریت کے 85سالہ بزرگ لیڈر شاہ ولی محمد (سوپور) کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے انتقام گیرانہ پالیسی قرار دیا ہے۔ تحریک حریت نے کہا کہ شاہ ولی محمد 85سال کی عمر کے بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی عارضوں میں مبتلا ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ موزی مرض کینسر میں مبتلا ہے، جبکہ اس کی بیٹی بھی اپاہج ہے اور گھر میں ان مہلک امراض میں مبتلا عمر رسیدہ اہلیہ اور بیٹی کی تیمارداری کرنے کے لیے کوئی تیسرا فرد موجود نہیں اور گھر کی ساری ذمہ داری شاہ صاحب خود ہی نبھاتے تھے۔ تحریک حریت نے کہا کہ پولیس کی سنگ دلی اور بے رحمی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ 85سال کا یہ بزرگ جو خود بھی دوسروں کی خدمت کا محتاج ہے، مگر پیرانہ سالی میں بھی موصوف کو دو دو بیماروں کی تیمارداری کرنا پڑتی تھی اور مجبوری اور بے بسی کی حالت میں بھی یہ بزرگ ہنسی خوشی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اُن کی تیمارداری کرتا تھا، لیکن جموں کشمیر ایک پولیس اسٹیٹ ہے اور خاص کر سوپور جو تحریکِ آزادی اور اسلام کا گھڑ مانا جارہا ہے، وہاں لوگوں پر ظلم وستم ڈھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو ختم کرنے کے لیے بڑے بڑے منصوبے اپنائے جارہے ہیں، تاکہ سوپور کے عوام کو اسلام اور آزادی سے دور کرکے شراب اور کباب میں مست ہوکر فحاشیت، عریانی اور بداخلاقی کو فروغ دیا جاسکے۔ تحریک حریت جموں کشمیر نے قائدین کی فوری رہائی پر زور دیا ہے اور کہا کہ ایسے حربے تحریک حریت کے وابستگان کو اپنے مقدس اہداف اسلام، آزادی اور اتحادِ ملّت کی آبیاری کرنے سے روکنے میں مائل نہیں ہوں گے۔