۔7ماہ کے بعد این سی ہیڈکوارٹر پر ڈاکٹر کمال کا پُرتپاک خیر مقدم

 سرینگر// نیشنل کانفرنس کے لیڈران، عہدیداران اور کارکنوں نے کل پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کا پُرتپاک خیر مقدم کیا، جو 7ماہ کی نظربندی سے رہائی پانے کے بعد پہلی بار پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح آئے۔پارٹی کے رکن پارلیمان شمالی کشمیر محمد اکبر لون کی قیادت میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے ڈاکٹر کمال کا پارٹی ہیڈکوارٹر پر خیر مقدم کیا جنہیں5اگست سے اپنے گھر میں مسلسل نظربند رکھا گیا تھا۔پارٹی کے کارکنوں کی ہمت اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ’’میں اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے نازک دور میں پارٹی کے پرچم کو اونچا رکھنے میں کلیدی رول نبھایا۔انہوںنے ملک کے اُن تمام صحیح سوچ رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں اور لیڈران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے سخت ترین دور میں کشمیریوں کی بات کی اور جموں وکشمیر کی حقیقی جمہوری آوازوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کے خاتمے اور رہائی خوش آئند قدم قرار دیتے دیتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ڈاکٹرفاروق کی رہائی اُس وقت تک نامکمل ہے جب تک نہ عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور علی محمد ساگر سمیت تمام سیاسی قائدین ، کارکنان ، طلباء ، ٹریڈ یونین لیڈران کو رہا نہیں کیا جاتا۔ اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ریاست میں ایک سازگار سیاسی ماحول کو یقینی بنائے اور یہ تب تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک نہ تمام نظربندوں کی رہائی عمل میں نہیں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے وابستہ افراد کو جوش و جذبہ دیکھنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نیشنل کانفرنس کی جڑیں ریاست کے تینوں خطوں میں پیوست ہے اور یہ یہاں کے عوام کی اپنی جماعت ہے۔اس موقعے پر صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار، صدرِ صوبہ خواتین ونگ انجینئر صبیہ قادری، ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد، یوتھ لیڈراحسان پردیسی، جگدیش سنگھ آزاد، خالد راٹھور اور دیگر عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔