۔400طلاب ،لیکچراروں کی 11میںسے 9 اسامیاں خالی، دیگر عملہ بھی ندارد

عاصف بٹ
کشتوااڑ//ضلع کشتواڑ کے علاقہ بونجواہ میں قایم گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بنون کے طلباء نے سکول میںتدریسی عملہ کی تمام منظور شدہ خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے خلاف سکول میں احتجاج کیا۔قابل ذکر ہے کہ سکول میں لیکچراروںسمیت دیگر تدریسی عملے کی تمام اسامیاں گزشتہ بیس سال سے خالی پڑی ہیں۔ گورنمٹ ہائرسکینڈری سکول بنون وادی چناب کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے جہاں 2002 سے تدریسی عملہ و لیکچرار ہی موجود نہیں ہیں اور حکام گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بنون کی ہائیر کلاسوں کیلئے لیکچرار تعینات کرنے میں ناکام ہیں جسکے سبب بچوں کا مستقبل تاریک ہورہاہے۔سکولوں میں مارچ میںتعلیمی سیشن شروع ہوچکا ہے  لیکن آج تک اس سکول میں لیکچرارنہیں بھیجے گئے اور یوں تدریسی عمل مفلوج ہے ۔گیارہویں جماعت کے  طالب علم نے بتایا کہ وہ پہلے ہی گزشتہ دو سال سے کووڈ کی وجہ سے اور بونجواہ میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے محروم تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوںنے ابھی تک مختلف مضامین کا ایک بھی سوال نہیں پڑھا ہے کیونکہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن و چیف ایجوکیشن آفیسر کشتواڑ کی طرف سے لیکچراروں کی کوئی تقرری نہیں کی گئی اوران کامستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔عدیبہ تبسم نامی طالبہ نے کہا’’ کیا یہ ہمارے ساتھ انصاف ہے۔ایک طرف وزیر عظم نریندر مودی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگاتے ہیں جبکہ دوسری جانب یہاںہمارے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہاہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ آج وہ تدریسی عملے کی کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ہائرسکینڈری بنون کے انچارج پرنسپل شبیر احمدبٹ نے بتایا کہ سکول میں لیکچراروں کی 11 اسامیاں منظور ہیں جن میں سے صرف 2 مستقل بنیادوں پر تعینات ہیںاور باقی تمام لیکچراروں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں جن میں انگلش، فزیکس، زالوجی، باٹونی، کیمسٹری، میتھامیٹکس ، پولیٹیکل سائنس، ایجوکیشن اور اکنامکس شامل ہیں۔انہوںنے کہا کہ سکول میں 9ویں سے 12ویں جماعت تک 400 سے زائد طلباء نے داخلہ لیا ہے جن میں 190 طلاب11ویں اور 12ویں کلاس میں ہیں۔ طلاب نے لیفٹیننٹ گورنر و ڈائریکٹرسکول ایجوکیشن جموں سے ذاتی مداخلت کا مطالبہ کیا اور اپیل کی کہ لیکچراروں کی تمام خالی اسامیوں کو جلد از جلد مستقل بنیادوں پر پْرکیا جائے بصورت دیگر وہ دوبارہ احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔