۔19ویں صدی کے آخر میں امیروں کے دیوان خانوں کی زینت لکڑی کی پنجراکاری ماہر کاریگروں کی کمی، نئی نسل میں عدم دلچسپی،لکڑی کی آسمان چھوتی قیمتیں زوال کا سبب

 بلال فرقانی

سرینگر// ماہرکاریگروں کی کمی، آسمان کو چھوتی کشمیر ی لکڑی کی قیمتیں اوربیرون ریاستوں سے ریڈی میڈ نقش نکاری کی در آمدکے نتیجے میں وہ خوبصورت پنجراکاری ، تقریباً قصہ پارینہ بن گئی ہے،جس نے دہائیوںسے کشمیر کی مساجد، درگاہوں، مکانات اور نجی وسرکاری کو ٹھیوں کو رونق بخشی تھی۔نئے کاریگروں کی جانب سے اس فن کاریگری کو ا پنانے میں ہچکچاہٹ بھی پنجراکاری کے زوال کا باعث بن رہی ہے تاہم چند ایک کاریگروں کی امید افق ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ اس قدیم ہنر کو مرنے نہیں دیا جائے گا۔(لکڑی پرجالیوں کے کام کا ہنر)جسے مقامی طور پر پنجراکاری کے نام سے جانا جاتا ہے، کشمیر میں دم توڑ رہی ہے کیونکہ کوئی بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔کشمیر میں اندرونی ڈیزائننگ کی سب سے پیچیدہ دستکاریوں کے زوال کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ محنت طلب اور مہنگی ہے۔

 

پنجرکاری کی ہنر کافی حد تک(ختم بند) سے ملتی جلتی ہے، جس میں چھت کو لکڑی کے چھوٹے تختوں کے ساتھ مختلف ڈیزائنوں میں جوڑا جاتا ہے۔پیچیدہ ڈیزائنوں میں لکڑی کی جالی بنانا کشمیرکی منفرد ہنر رہی ہے۔پائین شہر کے عالی مسجد کے رہائشی آفتاب احمد، پنجرا کاری کاریگر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کھڑکیوں پر پنجرا کاری کرنا اب قابل عمل کام نہیں رہا کیونکہ یہ بہت مہنگا ہے۔آفتاب کہتے ہیں’’پنجراکاری اب اندرونی سجاوٹ کی جمالیات کو بڑھانے تک ہی محدود ہوگئی ہے‘‘۔انکا کہنا ہے کہ پہلے زمانے میں مکان کی کھڑکیوںپر لکڑی کی جالی لگائی جاتی تھی ، جو باہر کی طرف کھلتی تھی۔یہ بہت خوبصورت نظر آتی تھی اور عام طور پر ہر ایک مکان میں اس طرح کیا جاتا تھا۔انکا کہنا ہے کہ پنجراکاری کے زوال کیساتھ ساتھ انکی جگہ مچھروں سے بچنے کیلئے کھڑکیوں پرجالیاں لگانے کا دور آگیا ، چونکہ یہ لکڑی پر جالی بنانے سے سستا اور آسان ہے ،لہٰذا سبھی لوگوں نے اسی کو اپنانے کو ترجیح دی۔وادی میں بہت پرانی مساجد اور درگاہوں و آستانوں میں خوبصورت پنجرا کاری کا کام اب بھی موجود ہے۔لسجن سرینگر سے تعلق رکھنے والے حاجی بشیر احمد نجار، جو پنجرا کاری سے بخوبی واقف ہیں، کہتے ہیں کہ کشمیر میں بہت کم پنجرا بنانے کے کاریگر موجود ہیں کیونکہ کچھ فوت ہوچکے ہیں اور کچھ نے یہ کاریگری چھوڑ دی ہے۔نجار نے کہا کہ ہم نے نہ صرف کاریگروں کو کھو یا ہے بلکہ اس فن کی سمجھ بھی کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جیومیٹری کا استعمال خوبصورتی اور کمال کی سطح کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا تھاجو ہم اب بھی روایتی کام میں پاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں 100 سے زیادہ مختلف پنجراکاری ڈیزائن ہیں اور کچھ استاد کاریگروں نے جدت کے ساتھ شاندار ڈیزائن تیار کئے ہیں۔ حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ ’گل آفتاب اور( دولے کوندورے) جدید دور کے کاریگروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر بنائے گئے نمونے ہو سکتے ہیں، لیکن چنگس خانی، شاشتز، موج، موج حیدر، کندور، کریپ کوندرے، دعوز گرڈ، دعوزنجک، پنچ مرابہ، دیہہ تیز، دعوز دیہ، سہاش پہلو بھی بہت مقبول ہیں۔پنجرا کاری کے نمونوں کا نام زیادہ تر فارسی میں رکھا گیا ہے اسے عربی میں مشربیہ کہتے ہیں۔فن کے احیاء کو مشکل قرار دیتے ہوئے، نجار نے کہا’’ہنر سیکھنے کے لیے جس صبر کی ضرورت ہوتی ہے وہ کام کرنے کے علاوہ بہت زیادہ محنت طلب اور صارفین کے لیے مہنگا ہوتا ہے۔‘‘روایتی طریقے میں پنجراکاری مقامی طور پر دستیاب دیودار لکڑی پر کی جاتی تھی۔ پنجرے کو ہندسی شکلوں میں زیادہ تر’تنون‘ اور مخصوص قسم کے جوڑوں کا استعمال کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا جسے مقامی طور پر ’کرپ واٹھ اور تر تہ ترام‘ فارمیٹ کہا جاتا ہے۔رام باغ کے محمد عباس نامی پنجرا کاریگر کا کہنا ہے کہ آج کل زیادہ تر کاریگراسے ٹھیک کرنے کے روایتی طریقے پر جانے کے بجائے مضبوطی حاصل کرنے کے لیے لکڑی کے جوڑوں میں گوند کا استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج کل پنجراکاری کاریگر، سابقہ ڈیزائنوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ ڈیزائن مختلف سادہ سائنسی طریقوں کی پیداوار تھے جنہوں نے اس طرح کے پیچیدہ نمونے تیار کیے تھے۔حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ اس کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ماسٹر کاریگروں کی کمی ہے‘‘۔محمد عباس نے کہا کہ اس فن کو مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لکڑی کافی مہنگی ہے اور ہم مصنوعات کی لاگت کو کم کرنے کے لیے کم قیمت کی عام لکڑی کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’ اگر حکومت مناسب نرخوں پر اچھی لکڑی فراہم کرے تو تجارت کو نفع بخش طریقے سے چلایا جا سکتا ہے‘‘ ۔پنجرا کاری کیلئے پہلے ہمالیائی سلور فر، بلیو پائن، اخروٹ، اور دیودار کی لکڑی کا استعمال ہوتا تھا‘‘۔ بیرون ریاستوں سے ریڈی میڈ پنجروں کی درآمد بھی مقامی طور پر اس فن کیلئے سم قاتل ثابت ہو رہی ہے۔مشینوں پر تیارہ کردہ ان پنجروں کی قیمتیں مقامی پنجرای کاری کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہیں،جس کیلئے خریدار اب بیرون ریاست پنجروں کو ہی خریدنا ترجیح دیتے ہیں۔ جموں کشمیر میںپنجراکاری کا آغاز 1373 عیسوی میں اسلام کی آمد سے ہوا۔ شاہ ہمدانؒ کشمیر تشریف لائے اور ان کے ساتھ آنے والے پنجرا کاری کاریگر جنوبی کشمیر کے علاقے گڑمیں آباد ہوئے جو بجبہاڑہ اور اننت ناک کے درمیان کوئی جگہ ہے۔کچھ علاقوں میں انہوں نے پتھر پر پنجراکاری میں کمال حاصل کیا تو یہاں لکڑی کا استعمال کرکے اپنی پہچان بنائی اور اسے ہر نئی مسجد اور خانقاہ کی زینت بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔یہ 19ویں صدی کے آخر میں امیروں کے گھروں کا حصہ بن گئی۔ڈوگرہ دور میں، پنجراکاری کا استعمال مختلف عمارتوں میں ہوتا تھا لیکن اس کے بعد سے اس میں مسلسل کمی واقع ہوئی، حالانکہ یہ ہنر اب بھی سیاحتی ہٹوں اور کچھ سرکاری عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے۔کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے اس دم توڑتی دستکاری کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انکی کوششیں رائیگاں ہی ثابت ہوئیں۔