۔14گھنٹوں کے بعد شاہراہ بحال | بھاری پسی کی زد میں 4گاڑیاں دب گئیں

بانہال // سرینگر جموں شاہراہ پر چندرکوٹ اور کرول رام بن کے درمیان ایک بھاری پسی کے گر آنے کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت قریب14 گھنٹوں بعد اتوار کی صبح بحال کی گئی ۔ رام بن سے چھ کلومیٹر دور چندرکوٹ میں سی آر پی ایف کیمپ کے نزدیک شام دیر گئے قریب 8بجے پہاڑی سے بھاری پسی گر آئی جس کی زد میں آکرچار گاڑیوں کو شدید نقصان ہوا تاہم ان گاڑیوں کے ڈرائیور اور مسافر معجزاتی طور بچ نکلے ۔ جو چار گاڑیاں ملبے اور پتھروں کے نیچے دب گئیں تھیں ان میں کشمیر سے جموں جانے والی دو ٹاٹا موبائل ، ایک مقامی ڈمپر اور پسی سے تھوڑی دوری پر ایک زائیلو مسافر گاڑی شامل تھی تاہم ان گاڑیوں میں سوار تمام افراد ملبے کی زد میں آنے سے پہلے ہی جان بچا کر اپنی گاڑیوں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے۔شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مال اور مسافر گاڑیوں نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات شاہراہ کے مختلف مقامات پر گزاری جبکہ اتوار کی صبح  پسی کا ملبہ ہٹانے کے بعد گاڑیوں کوجموں سے کشمیر کی طرف جانے کی اجازت دی گئی تاہم انہیں سمرولی اور ادہمپور کے علاقوں میں روک دیا گیا ۔ پولیس کنٹرول روم رام بن نے کشمیر عظمی کو بتایاکہ سنیچر شام قریب8 بجے چندرکوٹ کے نزدیک ڈونگی پلی کے مقام پر بھاری پسی کی وجہ سے بند شاہراہ کو اتوار صبح نو بجے بحال کیا گیا۔ پتنی ٹاپ میں ایندھن سے لدھی گاڑیوں کو بھی اتوار دوپہر بعد سے وادی کشمیر کی طرف چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں جانے والی2000 کے قریب گاڑیاں رات بھر رام بن اور بانہال سیکٹروں میں درماندہ ہوکر رہ گئی تھیں۔