۔10فیصد ریزرویشن بھاجپا کا الیکشن کارڈ

جموں// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ انتخابی برس میں مالی طور پسماندہ اعلیٰ ذات کو ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 10فیصد ریزرویشن کا اعلان مرکزی سرکار کا چناوی فیصلہ ہے ، جس کا مقصد ووٹ بٹورنا ہے۔یہاں منعقدہ پارٹی کے یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ وادی کے نوجوان مایوسی میں بندوق اٹھا رہے ہیں کیوں کہ پی ڈی پی بی جے پی سرکار نے ان کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کا نوجوان بی جے پی سے خفا ہے تو وادی میں پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار سے ٹھگا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی کانگریس سرکار کے دور میں صرف 15-20مقامی جنگجو تھے لیکن پی ڈی پی بی جے پی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہر ماہ اوسطاً20نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ نوجوانوں کی طرف سے بندوق اٹھانے کو باجواز ٹھہرا رہے ہیں، عمر نے کہا کہ اگر چہ وہ ان نوجوانوں سے اتفاق نہیں رکھتے لیکن ہمیں ان کے غصہ کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی مذاکرات کے ذریعہ ہی تلاش کیا جا سکتا ہے ، اگر آپ اس کے سیاسی پہلو کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہ ملی ٹینسی کی بنیادی وجوہات کا انکارہوگا جس کے نتیجہ میں ایسے حالات پیدا ہونا قدرتی امر ہے ۔
ریزرویشن پرعمر عبداللہ نے کہاکہ مودی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اس ا قدام کا مقصد اگر فی الواقع ہی اقتصادی طور پچھڑے طبقہ کی بہبود تھا تو انہیں پارلیمان میں یہ بل لانے میں ساڑھے چار برس کیوں لگ گئے ، لیکن لگتا ہے کہ چنائوسے عین قبل ریزرویشن دینے کا مقصد صرف سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے ۔ عمر نے کہا کہ ’راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں شکست فاش کے بعد بی جے پی نے اعلیٰ ذاتوں کے لئے ریزرویشن کا کارڈ کھیلا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کے پس پردہ سیاسی محرکات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ما بعدمیڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’ہمیں اس بل کو لانے کے لئے چنے گئے وقت اور نیت پر اعتراض ہے ۔ اگر مرکز کی منشا غرباء کی بھلائی ہے تو اس بل کو بہت پہلے متعارف کروادیا جانا چاہئے تھااور اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا لازم تھا۔فاروق عبداللہ کی طرف سے ایودھیا معاملہ میں دئیے گئے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر نے کہا کہ سینئر عبداللہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ، ہمارا موقف ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ، ہم عدالتی فیصلہ کا احترام کریں گے۔ بی جے پی پر دوغلے پن کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سہ طلاق پر بھگوا جماعت عدالت کی ستائش کرتی ہے لیکن سبری مالا مندر پر کورٹ کا فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔
اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات ایکساتھ کروانے کے بارے میں این سی نائب صدر نے کہا کہ وزیر داخلہ نے بارہا پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا ہے ، اگر یہ نہیں ہوپاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو گمراہ کیا تھا۔اس کے علاوہ کئی سیاستدان اور بیروکریٹ بھی ریاست میں جلد اسمبلی انتخابات کروانے کے حق میں نہیں ہیں۔گورنر کی طرف سے جموں کشمیر کو ملک کی دوسری ریاستوں کے برابر قرار دئیے جانے کے بارے میں دریافت کرنے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ’میں ان سے اتفاق نہیں رکھتا، جموں کشمیر ملک کی دیگر ریاستوں کی طر ح نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو پھر یہاں دفعہ370اور35Aکے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟ ہمیں خصوصی اور منفرد درجہ حاصل ہے ، ہماری ریاست تین ٹکڑوں میں تقسیم ہے ، ایک حصہ پاکستان تو دوسرا چین کے ساتھ ہے ، کیا ہندوستان کی کوئی دوسری ریاست بھی یوں منقسم ہے؟ریاست کے خصوصی درجہ کی حفاظت کا ذکر کرتے ہوئے عمر نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے مقرر کردہ قانونی ماہرین کی ٹیم اس کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کی طرف سے دئیے گئے حالیہ بیانات کے بارے میں پوچھے جانے پر این سی نائب صدر نے کہا کہ ’نعیم اختر زوال پذیر پی ڈی پی کے مقابلہ میں نیشنل کانفرنس کے بارے میں اتنے متفکر کیوں ہیں؟اور اگر وہ نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کے متمنی ہیں تو ہم اس پر غور کریں گے ، اگر نہیں تو انہیں اپنی پارٹی کو بچانے کی فکر کرنا چاہئے ۔