۔ 80ہزار میں سے محض 18ہزارکروڑ روپے واگذار

پروجیکٹوں کی عمل آوری نہ ہونے کے برابر، پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش

 
نئی دہلی// وزارت داخلہ کے متعلق پار لیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزیراعظم ترقیاتی پیکیج  کے شوروغا سے پردہ اٹھایا ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ اڑھائی برسوں کے دوران ریاست کوکل 80ہزارکروڑروپے میں سے محض 18 ہزار کروڑہی واگزارکئے گئے ہیں ، جوکہ کل رقم کا صرف 22فیصد بنتا ہے۔سابق وزیرخزانہ پی چدمبرم کی سربراہی والی کمیٹی نے مختلف ترقیاتی اورتعمیراتی پروجیکٹوں کیلئے درکاررقومات کی فراہمی پرمرکزکوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ بے روزگاری کاسدباب ہوا،نہ مہاجرپنڈتوں اورمغربی پاکستان کے رفیوجیوں کی بازآبادکاری عمل میں لائی گئی اورنہ ہی ریاست کی مالی ،معاشی اوراقتصادی بدحالی دورکرنے کیلئے کوئی کارگراقدامات اُٹھائے گئے ۔وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج میں سے اب تک صرف 22فیصد رقم ریاست جموںوکشمیر کو واگزار ہوچکی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش کی گئی ہے۔رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کوریاست کی تعمیر و ترقی کے استعمال میں بڑی سست رفتاری کے ساتھ عملایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے بارہ مہینوں میں اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 80,068کروڑ والے پیکیج میں سے اگر چہ 67,046کروڑ کی رقم واگزار کی گئی تھی مگر اب تک ریاست میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے ریاستی حکومت کو صرف 17,913کروڑ کی رقم ادا کی جاچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے کئی منصوبوں پر ہورہے کام کی سست رفتاری پر تشویش کا اظہا کیا ہے جن میں روزگار کے ذرائع پیدا کرنا، پنڈتوں کے لئے علیحدہ کالونیاں قائم کرنا،مغربی پاکستان کے 36384 کنبوں کی بازآبادکاری کے علاوہ انڈین ریزرو بٹالین کا قیام شامل ہیں۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والے سال کے اندر اندر تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل تک لے جانے میں اپنا ذمہ داروں کو پورا کریں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ  میںاس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وزارت داخلہ پیکیج پر صرف اخراجات کی مدمیں تفصیلات بیان کریں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی پاکستان کے شرنارتھیوں کی بازآبادکاری کے علاوہ سرحدی علاقہ چھمب سے بے گھر ہوئی آبادی کی بازآبادکاری کے حوالے سے جانکاری فراہم کریں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی سفارش کی ہے کہ وزارت داخلہ ریاستی حکومت کے ساتھ بہتر تال میل کے ذریعے وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت دردست لئے گئے منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر اندر مکمل کریں۔ خیال رہء وزیراعظم ہندنریندرمودی نے 7نومبر2015کوکرکٹ اسٹیڈیم سری نگرمیں اسوقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید مرحوم کی موجودگی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیرمیں ترقیاتی اورتعمیراتی عمل میں نئی روح پھونکنے ،یہاں بے روزگاری کے سنگین مسئلے کاازالہ کرنے ،جموں میں مقیم مہاجرپنڈتوں اورمغربی پاکستان کے لاکھوں رفیوجیوں کی بازآبادکاری عمل میں لانے کیلئے 80ہزارکروڑروپے مالیت کے پیکیج کااعلان کرتے ہوئے کہاتھاکہ بہت جلدجموں وکشمیراوریہاں کے لوگوں کی مالی ،معاشی اوراقتصادی حالت میں بہتری آئیگی ۔