۔ 8برس قبل ٹیر گیس شیل کا شکار ہوئے طفیل متو کی 8ویں برسی

سرینگر//2010میں پولیس کی طرف سے مبینہ ٹیر گیس شلنگ کے دوران غنی میموریل اسٹڈیم کے نزدیک جان بحق ہوئے سرینگر کے سعدہ کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے کمسن طالب علم طفیل متو کی8 ویں برسی پر انکے والدین کو آج بھی آس ہے کہ انکے لخت جگر کی مبینہ قتل میں ملوث اہلکاروں کو اگر اس دنیا میں سزا نہیں ملی تو اُس دنیا میں ضرور ملے گی۔11جون 2010کو شہر خاص میں نویں جماعت کے طالب علم طفیل متو کو راجوری کدل میں غنی میموریل اسٹڈیم کے نزدیک مبینہ طور پر سر پر ٹیر گیس شل مار کر ہلاک کیا گیا تھا،جس کے بعد وادی کے جنوب و شمال میں کئی ماہ تک احتجاجی لہر جاری رہی،جس میں قریب120افراد جان بحق ہوئے تھے۔ طفیل متو کے والدین کی بیٹے کی موت کے بعد کمر ہی ٹوٹ گئی،اور انکے اکلوتے لخت ہائے جگر کے جانے سے انکی دنیا ہی لٹ گئی۔8برس گزرجانے کے باوجود بھی ابھی تک طفیل متو کے والدین کو انکی خلش اور کسک،دیدہ تر کر رہی ہے،مگر طفیل اس دنیا سے چلا گیا ہے،جہاں سے کوئی بھی لوٹ نہیں آتا۔ جان بحق نو عمر طالب علم طفیل متو کے والد محمد اشرف متو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو جرم بے گناہی کی پاداش میں موت کی نیند سلادینے والوں کے خلاف اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف میرے لخت جگر کی شہادت کا معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ برسوں ہوئی گرمائی ایجی ٹیشنوں کے دوران 400سے زیادہ معصوم نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بناکر موت کی نیند سلا دیا گیا اور جن لوگوں نے بے گناہ اور معصوم نوجوانوں کی زندگیاں چھین کر ان کے اہل خانہ کو تا عمر کیلئے درد دیا ہے ، ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے قانونی جنگ جاری رکھی جائیگی ۔ انہوں نے کہا’’ قانون کے محافظ ہی جب رہزن ثابت ہو تو انصاف کی توقع بہت کم ہوتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچوں کو پیلٹ،گولیوں اور ٹیر گیس سے مارنے کا سلسلہ جہاں جاری ہے،وہی بچوں کو فورسز و پولیس گاڑیوں کے نیچے کچلنے کا نیا طریقہ کار اپنایا جارہا ہے۔