! یہ میرا کشمیر نہیں ہوسکتا

توبہ شاہ
 قدرتی مناظر سے بھرپور، بہتی ہوئی ندیوں، چمکتے جھرنوں اور شاندار جھیلوں کی مدہم سی موسیقی، گُل ِ لالہ اور شاندار چنار کے درختوں کی خوشبو، برف پوش پہاڑوں، سبز چراگاہوں اور گھاس کے میدانوں کی خوبصورتی،پُرفتن بنگس وادی اور گریز، گلمرگ اور پہلگام کی وادیاں، زبروَن پہاڑیوں کے دامن میں واقع مغل باغات کا سکون، یعنی کشمیر ہر کسی کو مسحور کر دیتا ہے۔ وادی کشمیر کی حقیقی خوبصورتی بیان سے بالا تر ہے، پھر بھی بہت سے شاعروں، مصنفین اور فلسفیوں نے اس جگہ کی شان کو الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کشمیر کی دیدہ زیب خوبصورتی امیر خسرو کے مشہور فارسی شعر’’اگر فردوس بار روئے زمین است۔ ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است‘‘۔ قدرت نے کشمیر کو جس لازوال خوبصورتی سے نوازا ہے، اس کو بجا طور پر ’زمین پر جنت‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یکساں طور پر’’پیر وا >ر‘‘ کے بطور بھی جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے صوفیوں اور اولیاء کا مسکن، جس میں صوفیانہ خوشبو کی ایک مخصوص چمک ہے جو سب کے دلوں کو چھو لیتی ہے۔ اس میں اور بھی بہت کچھ ہے جو اس شاندار جگہ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور اسے اور بھی خوشگوار اور اطمینان بخش بناتا ہے، یعنی اس قدیم سرزمین کے باشندے جن کا اندرون اور بیرون خوبصورتی سے بھر پور ہے۔ کشمیر اپنے لوگوں پر فخر کرتا ہے کہ وہ مہربان، گرمجوش، مہمان نواز، مددگار، ملنسار، محبت کرنے والے اور بار بار کی ہنگامہ آرائیوں کے باوجود ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں، میں نے کچھ اور ہی محسوس کرنا شروع کر دیا ہے اور اسی طرح کوئی بھی ہمارے اِرد گرد کے حالات پر غور کرتا ہو گا، جو پہلے سے زیادہ پریشان کن ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے ہاتھ کانپتے ہیں کچھ لکھنے کے لیے جو’’کشمیری‘‘ ،جو انسانیت کا مظہر ہے، کے لیے نامعقول ہو۔ مرکزی شہر میں پیش آنے والے حالیہ لرزہ خیز واقعات یہاں کی آبادی کی ہمدردانہ فطرت کے پیش نظر کسی بھی باشندے کو یہ کہنے کے لیے کافی ہیں کہ ’یہ میرا کشمیر نہیں ہو سکتا!‘۔ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ نرم اور پرہیزگار دل میفیسٹوفیلین اور متشدد سروں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

صبح کے اوقات میں، دو بہن بھائیوں کی جانب سے اپنے والد کو قتل کرنے کی خبر میرے موبائل کی سکرین پر نمودار ہوئی اور مجھے نیند سے یک دَم جھٹک دیا۔ میں بالکل گرجتا ہوا کھڑا ہوا، اپنی آنکھیں موندتی ہوئی دوبارہ چیک کرتا رہا کہ آیا میں نے اسے صحیح طریقے سے پڑھا، اور صدمے سے اپنا فون گرا دیا، اس خواہش سے کہ یہ اندوہناک خبر میری آنکھوں سے نہ گزرے۔ کم از کم مقتول(باپ) نے کبھی سوچا ہوگا کہ قصاب اس کی اپنی بانہوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ کچھ دن بعد، ایک اور وحشیانہ واقعے میں، ایک میوہ فروش نے ایک گاہک کو تربوز کی کوالٹی پر جھگڑے کے بعد چھرا گھونپ دیا ،جو وہ بیچ رہا تھا۔ دونوں واقعات میں ایک چیز مشترک تھی، جیسا کہ جرائم کی نوعیت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے’’ رقمی تنازعہ‘‘۔ مجھے یہ بات اب بھی ناقابل یقین لگتی ہے کہ میرے کشمیر کے لوگ محض چند پیسوں کے لیے اپنے عزیزوں یا ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے اتنے نچلے درجے تک جا سکتے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے ہولناک واقعات ماضی میں بھی ہو چکے ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور میں اس کے بارے میں لکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہوں، یہاں تک کہ اسے سچ بھی نہیں مانتا ہوں۔ میں اپنے پیر واری کے مجرموں کے ٹھکانے میں تبدیل ہونے کے بارے میں کیسے لکھوں گا؟ میری قوم کے بارے میں جو مادی دولت کے حصول میں اپنا صبر اور انسانیت کھو رہے ہیں؟ میری قوم کے بارے میں جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہوئے غلط راستے پر گامزن ہیں؟ میرے لوگوں کے بارے میں جو فرشتوں کے چہروں کے آڑ میں شیطان بن رہے ہیں؟ نہیں! میں نہیں لکھ سکتا کیونکہ یہ وہ نہیں ہے جو میں نے اپنے وطن اور اس کے لوگوں کے بارے میں جانا اور دیکھا ہے۔ یہ لل دید، نند ریشی اور حبہ خاتون کا کشمیر نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ کشمیر نہیں ہو سکتا، جس کا تصور ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا اور جسے آغا شاہد علی اور رسول میر نے اپنی نظموں میں بُنایا تھا۔

یہ کہاوت کہ کبھی دیر نہیں ہوتی، سچ ہے تاہم ہمیں بہتر سے بہتر تبدیلی لانے کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کو بدلنے کی طاقت ہمارے اندر موجود ہے۔ ہم سب انسان ہیں، لیکن ایسا نہ ہو کہ ہم یہ بھول جائیں کہ عظمت انسان ہونے میں ہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے عظیم کشمیری شاعر مہجورؔ کی طرف دھیان دیں، جنہوں نے کہا تھا،’’والو ہا باغوانو نوبہارُک شان پیدا کر۔ پھو لن گل گتھ کرَن بلبل تِتھی سامان پیدا کر۔

 ہم اپنی سرزمین کے باغبان ہیں اور اس کی پرورش اور محبت، امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کے مشعل راہ بننا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس سرزمین اور اس کے لوگوں کی رونق اور اسے بحال کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں جو اسے زمین پر’’جنت‘‘ بناتے ہیں نہ کہ ایک زندہ جہنم بنانے میں حصہ دار بنتے ہیں۔

[email protected]