’یکساں کام کی یکساں ادائیگی‘ کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کی مانگ

سرینگر/ اشیاء ضروریہ کی چیزوں میں اضافے،بے روزگاری کے بڑھتے گراف اور مرکزی حکومت کی مزدور مخالف پالیسیوں کے خلاف دس مرکزی مزدور تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں سرینگر میں کارڈی نیشن کمیٹی آف ٹریڈ یونیز کے جھنڈے تلے احتجاج ہوا،جس کے دوران محنت کشوں سے متعلق تمام بنیادی قوانین کی عملداری اور کم از کم تنخواہ کو لاگو کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔منگل کو پرتاپ پارک میں بیسوں احتجاجی مظاہرین جمع ہوئے،جن میں خواتین بھی شامل تھیںنے احتجاجی مظاہرین نے پلے کارڈس اور بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔اس موقعہ پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کل ہند ریاستی گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے سیکریٹری اور سی سی ٹی یو کے صدر محمد مقبول نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار نے افراتفری کا ماحول پیدا کیا جس کی وجہ سے لوگوں بالخصوص محنت کش طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے موجودہ سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقے کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے کم از کم تنخواہ جو ماہانہ18ہزار سے کم نہ ہو کو لاگو کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے’’ یکساں کام کی یکساں ادائیگی‘‘ کے فیصلے کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے تمام محنت کشوں کیلئے سماجی تحفظ اور لیبر قوانین کوسخت سے لاگو کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بے روزگاری کے گراف میں بڑھتے اضافے کو ٹھوس اقدامات کے ذریعے کم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے محنت کش طبقے کومشکلات کا سامنا کرنا  پڑ رہاہے۔