یو ٹی کا پہلا میزانیہ پیش

 آمدن کا تخمینہ 11,326کروڑ،5462کروڑ روپے کی آمدن ٹیکس سے متوقع

 
 نئی دہلی //مرکزی سرکار نے یو ٹی جموں وکشمیر کیلئے نئے مالی سال کا میزانیہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منگل کو پیش کیا۔یہ مرکزکے زیر انتظام جموں کشمیر کا پہلا بجٹ ہے جو 1لاکھ کروڑ روپے پر مشتمل ہے۔بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ سنگھ ٹھاکر نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت ریاست جموں وکشمیر کی تقسیم کے بعد زیر انتظام علاقوں کی ترقی پر خاص دھیان دے رہی ہے اور بجٹ 2020.21کے تحت جموں وکشمیر کیلئے 1 لاکھ کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں جو اب تک کا سب سے بڑا بجٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے رواں مالی سال کے آخری پانچ ماہ کیلئے 55,317.81 کروڑ روپے بھی مختص رکھے ہیں ۔ انوراگ سنگھ ٹھاکر نے راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے دونوں ایوانوں میں بتایا کہ سرمایہ اخراجات کیلئے 23,910.95اورمالی  اخراجات کیلئے 31,406.86کروڑ روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے  سال 2019.20کیلئے اضافی 208.70کروڑ روپے مخصوص رکھنے کا بھی  اعلان کیا جو جموں وکشمیر کے محدود فنڈس سے 7ماہ کیلئے لئے گئے ہیں ۔اس بجٹ کیلئے آج لوک سبھا میں ووٹنگ ہو گی ۔یار رہے کہ جموں وکشمیر کو یوٹی کا درجہ 31اکتوبر 2019سے ملا تھا ۔اس سے قبل سابق مرکزی وزیر خزانہ نرملہ سیتا رمن نے سال2019.20کیلئے 88,911کروڑ روپے کے بجٹ کا علان کیا تھا ۔
انہوں نے کہا تھا کہ جموں وکشمیر کیلئے سال2020.21کا بجٹ پہلی بار 1لاکھ کروڑ سے تجاوز کر جائے گا جس سے جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کی نئی شروعات ہو گی ۔وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بجٹ جموں وکشمیر کی تاریخ میں سب سے بڑا بجٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال کیلئے کل بجٹ 1,01,428 کروڑ رکھا گیا ہے جس میں سے38,764 کروڑ تعمیر وترقی کیلئے خرچ کئے جائیں گے اور گذشتہ سال کے بجٹ کے مقابلے میں اس میں 27فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر کی تیز تر ترقی کی اُمید ظاہر کرتے ہوئے GSDPمیں 11فیصد اضافہ کی اُمید ظاہر کی ہے ۔سابق ریاست جموں وکشمیر سے الگ کی گئی مرکزی زیر انتظام لدخ کیلئے سال2019کے پچھلے پانچ ماہ کیلئے5,754  کروڑ روپے مختص رکھے گئے تھے، جبکہ اب سرمایہ اخراجات کیلئے 4,618.35اور مالی اخراجات کیلئے1,135.65 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سال2020.21میں جی ایس ڈی پی کیلئے 201054کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11فیصد زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2020.21  میں یوٹی کے تہذیبی وثقافتی مقامات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے 100 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں ۔سیاحتی شعبہ کو بڑاھائو ادینے کیلئے 1000کروڑ ، دیہی ترقی کیلئے 5,284 کروڑ ، سکول اور اعلیٰ تعلیم کیلئے  2,392  کروڑ ،50ہزار خالی پڑ ی اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے 2,000کروڑ ،محکمہ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیلئے  1,268 کروڑ ، صنعتی ڈھانچہ کی بہتری کیلئے 494 کروڑ روپے مختص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370کی منسوخی اور ریاست کی تنظیم نو کے بعد پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور مغربی پاکستان کے رفیوجی شہری حقوق حاصل کرنے کے مستحق ہو چکے ہیں جنہیں 1947سے ان حقوق سے محروم رکھا جا رہا تھا اب مزکورہ افراد کو ملک کے باقی شہریوں کی طرح ہی شہریت کے حقوق مل سکتے ہیں اور حکومت اس بات کی پابند ہے کہ ان کی بازآبادکاری کی ضروریات پوری کی جائیں ۔انہوں نے جموں وکشمیر کی اقتصادیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی مقامی آمدن کا تخمینہ 11326کرورڑروپے لگایا گیا ہے جس میں 5462کروڑ روپے کی آمدن مرکزی ٹیکس سے متوقع ہے ۔