یونسو ہندوارہ سانحہ: فائرنگ کی زد میں جاں بحق خاتون کی برسی

کپوارہ//یونسو ہندوارہ سانحہ میں جا ں بحق خاتون کی پہلی برسی پر ایک تعزیتی تقریب منعقد کی گئی جس میں مرحومہ کو شاندار الفاظ میںخراج عقیدت پیش کیا گیا تاہم لو احقین کا کہنا ہے کہ ایک سال گزر جانے کے با وجود بھی انہیں انصاف نہیں ملا جبکہ ان کی شیر خوار21ماہ کی بچی اپنی ماں کیلئے بے چین نظر آتی ہے ۔میسرہ کے والد محمد شعبان میر نے بتایا کہ میری اکلوتی بیٹی میسرہ کے چلے جانے کے بعد میرا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔میسرہ کے شوہر اور 21ماہ کی معصوم مریم کے والد اشفاق احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ میں مزدوری کرتا تھا لیکن جب سے میری شریک حیات اس دنیا سے چلی گئی تو میں اپنی معصوم بچی مریم کی پرورش کرنے میں لگ گیا اور آج تک معصوم مریم کو دن بھر اپنے کندھو ں پر بٹھا کر اس کی تسلیاں دیتا ہوں لیکن وہ ماں کی یاد میںزار زار روتی بلکتی ہے جس مجھ سے رہا نہیں جاتا ہے ۔اشفاق کا مزید کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران میں انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہو ں لیکن آج تک بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے ۔اشفاق کا کہنا ہے کہ میری اہلیہ کی موت وادی میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور گزشتہ28برسو ں کے دوران ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے لیکن جس طرح سے رضا کار تنظیمو ں سے لیکر انسانی حقو ق کے علمبردارو ں نے معاملہ کو اجاگر کیا میسرہ کے واقع کو کسی بھی ادارے میں اجاگر نہیں کیا ۔اشفاق کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے پاس اپنی شیر خوار بچی جس کو اپنی ماں سے بے دردی سے جدا کیا ہے کی پرورش کے لئے کھبی جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں ہوتا اور وہ قرضہ لیکر اس کی ضرورریات کو پورا کرتا ہو ں ۔اشفاق نے بتا یا کہ ہمیں ناانصاف دیا گیا ناہی معصوم مریم کی باز آ باد کاری کے لئے کوئی اقدام کیا گیا جو ایک المیہ ہے ۔