کروشیا //یہ سب کچھ اچانک ہوا۔ نِکولا بورویویچ کے گھر کے پیچھے وسیع و عریض باغ میں جہاں آلوؤں کے بیجوں سے اگنے والے پودوں کی کونپلیں کھلنی چاہیے تھیں وہاں زمین میں بڑا سا گڑھا بن گیا۔ اس کی چوڑائی تقریباً 30 میٹر اور گہرائی 15 میٹر تھی۔ یہ تیزی سے پانی سے بھر گیا تھا۔ اور یہ واحد گڑھا نہیں تھا۔چند ہفتوں میں شمال مشرقی کروشیا کے مِچ نچ انی نامی گاؤں اور اس کے قریبی دیہات بورویویچی میں اس طرح کے درجنوں گڑھے بن گئے۔ مِچنچانی میں بورویویچ کے گھر کے سامنے بننے والا گڑھا 6.4 درجے کے زلزلے کے چھ دن بعد یعنی پانچ جنوری کو نمودار ہوا۔زلزلے کا مرکز قریبی شہر پیٹرینیا میں تھا۔ گذشتہ چار دہائیوں میں کروشیا میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ تھا جس میں سات افراد ہلاک اور ہزاروں گھر منہدم ہوئے تھے۔زلزلوں کے نتیجے میں اکثر مٹی کے تودے گرتے اور گڑھے بن جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی عجیب و غریب ارضیاتی واقعات جیسے لیکویفی کیشنس، جن میں ٹھوس زمین مائع کی حالت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہے، کی وجہ سے ان دو دیہاتوں کے آس پاس دکھائی دینے والے گڑھوں کی بڑی تعداد نے ماہرینِ ارضیات کو پریشان کر دیا تھا۔