یاسین ملک کی بگڑتی صحت پرحریت(ع) کوتشویش

سرینگر// حریت کانفرنس (ع)نے لبریشن فرنٹ کے نظر بندچیرمین محمد یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت اور سلامتی کے بارے  تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے خاندانی ذرائع کے مطابق اخبارات میں جوتفصیلات آئی ہیں ان کے مطابق یاسین ملک کی صحت قید و بند کی تنہائی میں انتہائی تیزی کے ساتھ متاثر ہو تی جارہی ہے جس کی وجہ سے کشمیری عوام میں عموما اور لواحقین اور گھر والوں میں خصوصاً اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ محمد یاسین ملک جنہیں  پہلے سے ہی زبردست ہراساں کیا گیا ہے اور اب دہلی کے تہاڑ جیل میں نظر بند رکھا گیا ہے پہلے سے کئی عوارض میں مبتلا ہیں ۔انہیں جیل قوانین کے تحت بنیادی اور طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے جو حد درجہ افسوسناک اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔حریت کانفرنس نے NIA اور ED کی جانب سے دوسرے قائدین شبیر احمد شاہ، شاہد الاسلام،  الطاف احمد فنٹوش، نعیم احمد خان، ایاز اکبر،  پیر سیف اللہ،  معراج الدین کلوال،فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، تاجر ظہور وٹالی، محمد اسلم وانی، محترمہ آسیہ اندرابی، محترمہ فہمیدہ صوفی، محترمہ ناہیدہ نسرین کی مسلسل اسیری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بیشتر ایسے قیدی ہیں جن کی اسیری کو تقریباً دو سال ہونے جارہے ہیں لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کیاجاسکا ہے بلکہ کسی نہ کسی بہانے انکی اسیری کو طول دیا جارہا ہے اور جیل میں ان کو طبی اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ شدید قسم کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے  اوراس طرح ان لوگوں کے تئیں غیر انسانی سلوک روا رکھنے کا عمل جاری ہے  جو جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ حریت کانفرنس نے بین الاقوامی حقوق انسانی کی محافظ تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ  وغیرہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظر بندوں کو ایک یا دوسرے بہانے ہراساں کرنے اور ان کی اسیری کو دانستہ طور پر طول دینے کیخلاف فوری اور سنجیدہ نوٹس لیں اور ایسے اقدامات یقینی بنائیں جن سے ان تمام سیاسی نظر بندوں کی فوری رہائی ممکن ہو سکے ۔