ہندوستانی مسلمانوں کو رجھانے، سمجھانے ، ورغلانے اور پھر ڈرانے کا عمل گزشتہ کئی دہوں سے جاری ہے۔ کبھی مسلمانوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسلام کا بھارتیہ کرن کرلیں اور کبھی ان سے خواہش کی جاتی ہے کہ وہ سنسکرت نام رکھیں۔ کبھی مسلمانوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ ہندو قوم میں جذب ہو جائیںاور اپنی ہر شناخت کو ختم کر کے بھارت ماتا کی پوجا کریں۔ کبھی بہلانے اور پھسلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور انہیں ہندستانی سماج کا حصہ مانتے ہوئے ان کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھنے کا بھی تیقن دیا جاتا ہے۔ اس قسم کا مظاہرہ پھر ایک بار ان دنوں دیکھنے کو ملا ہے ۔ 4؍ جولائی 2021کوآر ایس ایس سے ملحقہ تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کی جانب سے غازی آ باد میں "ہندوستانی فرسٹ، ہندوستان فرسٹ "کے نظریہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے آر ایس ایس کے سر براہ موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں نہ رہنے کے لئے کہنے والا ہندو نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے آ گے بڑھ کر کہا کہ مسلمان اس خوف میں نہ رہیں کہ ہندوستان میں اسلام خطرے میں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سنگھ پریوار اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے ہجومی تشدد کے واقعات کے پس منظر میں کہا کہ ماب لنچنگ کی کاروائیوں میں ملوث ہونے والے ہندوتوا کے مخالف ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کی کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر منعقدہ اس تقریب سے خطاب کر تے ہوئے موہن بھاگوت نے یہ بات بھی کہی کہ سنگھ پریوار کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا کہ ہندوستان کی عوام کا ڈی این اے ایک ہے اور ہندو اور مسلمان کا وجود ایک ہی ہے۔ آر ایس ایس سر براہ کی اس تقریر کا ذرائع ابلاغ میں بھی کا فی چرچا ہوا۔ بعض حلقوں میں ان کے خیالات کا خیرمقدم بھی ہوا ۔ اقلیتوں اور مسلمانوں کو مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ موہن بھاگوت کی اس تقریر کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آ ہنگی کو آ گے بڑھانے میں آر ایس ایس کا ساتھ دیں۔ ایسا مشورہ دینے والوں میں خود مسلمانوں کے بعض طبقے بھی شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ موہن بھاگوت کو یہ سب باتیں اس وقت کہنے کی ضرورت کیوں پیش آ ئی۔ "ہندو، ہندی، ہندوستان"کے نظریہ پر اٹوٹ ایقان رکھنے والے مسلمانوں کو اپنا دوست بنانے کی فکر میںوہ غلطاں کیوں ہیں۔ موہن بھاگوت نے یہ طرزِ تکلم کیا اس لئے اختیارتو کیا کہ انہیں واقعی مسلمانوں سے ہمدردی پیدا ہوگئی ہے یا انہوں نے بین لاقوامی سطح پر ہندوستان کی گرتی ہوئی امیج کو سہارا دینے کے لئے یہ لہجہ اپنایا ہے؟ گزشتہ چند دہوں سے ہندوستان کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو غیر منصفانہ رویہ حکومت نے روا رکھا ہے اسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ انسانی حقوق کا تحفظ کر نے والی کئی عالمی تنظیموں نے ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ساری دنیا میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہندوستان میں اقلیتوں کے دستوری اور قانونی آ زادیوں کو جمہوریت کے ہو تے ہوئے ختم کر دیا گیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ کی ان باتوں کو اگر حقیقت کے آ ئینہ میں دیکھا جائے تو بہت ساری تلخ حقیقتیں سامنے آ تی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ہندوراشٹرا کا خواب دیکھنے والوں کی نظروں میں ہندوستان کی پوری قوم ہندو ہے۔ "ہندوتوا"کی اصطلاح کو عام کر نے والے ساورکر نے ہندو کی تعریف کر تے ہوئے بر سوں پہلے کہا تھا کہ وہ لوگ جو ہندوستان میں جنم لیتے ہیں، وہ لوگ جو ہندوستانی نسل میں جنم لیتے ہیں اور تیسرے وہ جو ہندوستانی تہذیب کو اختیار کرتے ہیں وہ ہندو ہیں۔ آر ایس ایس کے موجودہ سر براہ موہن بھاگوت نے خود بھی اس بات کو کئی بار کہا کہ آر ایس ایس اس ملک کے تمام 130کروڑ باشندوں کو ہندو سمجھتی ہے۔ اب ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو ہندو کہلانا پسند نہیں کر تا ہے تو وہ اپنے آ پ کو بھارتی کہلائے، اس پر آر ایس ایس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سنگھ پریوار کا شروع سے یہ مدعا رہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے سارے لوگ ہندو ہیں۔ گولوالکر کی دو مشہورِ زمانہ کتابوں 1.Bunch of Thoughts اور 2. We or Our Nationhood Definedکا مطالعہ کر نے سے 27؍ ستمبر 1925کو ناگپور میں قائم ہوئی آر ایس ایس کے مقاصد کا اچھی طرح سے علم ہو جاتا ہےکہ یہ وہ تنظیم ہے جس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ہندو روایات اور اس کے فلسفے کو خوشنما الفاظ کا پیرہن دے کر ہندوستان میں ایک خاص مذہب، تہذیب اور زبان کو فروغ دینے کے لئے انتھک محنت کی ہے۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے اس نے سیاسی میدان کو بھی اپنایا۔ پہلے جن سنگھ قائم ہوئی اور اب اس کی شکل بدل دی ہےاور یہ سمجھنا غلط ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کوئی الگ الگ پارٹیاں ہیں۔دونوںایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ اس خاندان کے کئی اداکار ہیں، کوئی سماجی اسٹیج پر نظر آ تا ہے کوئی سیاسی رول ادا کرتا ہے۔ لیکن پورے پریوار کا مرکزی ایجنڈا ہندو قوم پر ستی ہےجبکہ پورے پریوار کی اٹھان ہی اسلام دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ ایسے میں اگر موہن بھاگوت یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں نہ رہنے کے لئے کہنے ولا ہندو نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر موہن بھاگوت یہ بات دل سے کہہ رہے ہیں تو پھر ان لوگوں کی زبان پر لگام کیوں نہیں دی جاتی جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے صرف" دو استھان۔ پاکستان یا قبرستان "ہے۔راشٹریہ سیوک سنگھ کے سربراہ فضاء میں گونجنے والی ان آوازوں کو بھی سنتے ہوں گے جو وقفے وقفے سے اپنے پریوار سے وابستہ لوگوںکی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اٹھتی رہتی ہیںاور جو زہر قوم پر ستی کے نام پر ملک میں گھولا جا رہا ہے کیا اس پر روک لگانے کے بارے میں آرایس ایس کے سر براہ کے پاس کوئی نسخہ ہے؟ ظاہر ہے کہ جب ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے تو پھر یہ پریوار مسلمانوں کو ہندوؤں کے دشمن کے طور پر کیوں پیش کرتی ہے۔ ان کے خلاف نفرت انگیز پروپگنڈا کیوں کیا جاتا ہے؟ پروپیگنڈے کی آڑ میں ہندوستانی سماج کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کیوں کر تا چلا جا رہا ہے؟مسلمانوں کو بدنام کر نے کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ موہن بھاگوت مسلمانوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ وہ خوف میں مبتلا نہ ہوں اور نہ یہ سمجھیں کہ ہندوستان میں اسلام خطرے میں ہے۔ جب کہ ہر دن مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کی باتیں ہورہی ہیں اور کہیں کہیں اسپر عمل بھی جاری ہے۔
موہن بھاگوت نے ملک میں تواتر کے ساتھ ہو نے والے ماب لنچنگ کے واقعات پر اپنے تردّد کا اظہار کر تے ہوئے دعویٰ کیا کہ گائے کے تحفظ کے نام پر انسانوں کا قتل کرنے والے ہندتوا کے مخالف ہیں۔ مو ہن بھاگوت کی نظر میں اگر یہ مجرم ہیں تو پھر ان کو قانون کے مطابق سزا کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ 2015میں محمد اخلاق کے بیف کے نام پر بے رحمانہ قتل کے بعد سے یہ سلسلہ اب تک چلاآرہا ہے۔ حافظ جنید، پہلو خان ، اکبر، اور علیم الدین جیسے بے گناہ لوگ ماب لنچنگ کا شکار ہوئے۔ جن عناصر نے ان مسلمانوں کا قتل کیا وہ آج بھی نہ صرف آ زاد گھوم رہے ہیں بلکہ ان کی اس کارستانی کی حو صلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ایسے انسانیت کے دشمنوں کی کئی وزراء شال پو شی اور گلپوشی کرتے رہتے ہیں جس سے یہ بات اُبھر آتی ہے کہ کہیںیہ کارستانیاں حکومت کے اشاروں پر ہی تو نہیں کی جا تی ہیں۔ اب اگر موہن بھاگوت ہجومی تشدد پر تاسف ظاہر کرتے ہیں تو پھرموجودہ حکومت پر آر ایس ایس کیوں دباؤ نہیں ڈالتی کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کر تے ہوئے خاطیوں کو کڑی سزا دے۔ موہن بھاگوت ، وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کر تے کہ بے قصور مسلمانوں پر ظلم کرنے والے سرکاری عہدیداروں کے خلاف بھی تادینی کاروائی کی جائے۔ آر ایس ایس کے سربراہ خود سنگھ کے ذ مہ داروں کو اس جانب توجہ دلانے میں کیا واقعی دلچسپی رکھتے ہیں ؟ اگر وہ یہ کام کر نے میں ناکام ہو جا تے ہیں تو اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔ چناچہ بعض عوامی حلقوں نے موہن بھاگوت کی تقریر کو ایک ڈپلو میٹک بیان ہی قرار دیا ہے۔جس کے تحت وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور یہاں شہریوں کے درمیان کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف کئی سیاسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی زمین کھسکتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر کوویڈ۔۱۹ کے دوران حکومت کی نا اہلی عوام کے سامنے آ چکی ہےجبکہ یوپی میں اسمبلی الیکشن آ ئندہ سال کے اوائل میں ہو نے والے ہیں۔ بقول اُن کےرائے دہندگان حکومت سے ناراض ہیں،اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہےاور ایسے نازک حالات میں یوپی میں بی جے پی کی نیّا ڈانواں ڈول ہوچکی ہے ۔ بی جے پی کو اگر کہیں سے آ کسیجن مل سکتی ہے تو وہ ہندتوا کے نعرہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ لیکن اس مرتبہ زہر کو شکر میں گھول کر دینے کا کام آر ایس ایس کر رہی ہے۔ بات تو ہندتوا کی بالادستی کی جا رہی ہے لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ سارے ہندوستانی ایک ہیں کیوں کہ سب کا ڈی این اے ایک ہے۔ موہن بھاگوت اگر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سب کے آ باء واجداد ایک تھے تو پھر دلتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔ جن طبقوں کو ہندوتوا طاقتیں ہندو مانتی ہیں ان کے ساتھ نا انصافی کیوں ہو رہی ہے؟ ۔ آرایس ایس کے سربراہ کی اتوار کو مسلم راشٹریہ منچ کے پلیٹ فارم سے کی گئی تقریر کو آ نے والے چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو ’مسلمانوں سے مُکت کر نے کی باتیں کر نے والوں کو مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے، کہنے والوں کو اب کیوں مسلما نوں کی یاد ستا رہی ہے۔گویا شاعر نے سچ ہی کہا کہ’’ ہیں کواکب کچھ نظر آ تے ہیں کچھ‘‘۔
9885210770