ہندوارہ میں3معمر شہریوں کی تھانہ طلبی انتقام گیری: صحرائی

سرینگر//تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے حاجی غلام حسن خان ،عبدالغنی بٹ اور محمد مقبول پیر ساکنان میدان چوگل ہندوارہ کو گزشتہ تین دنوں سے پولیس چوکی وٹائن ہندوارہ میں گرفتار رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 75سال کی عمر کے ان تینوں بزرگوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پولیس بزرگوں کو صبح سویرے تھانے پر بلاکر افطار کے بعد رہا کرکے دوسرے دن بھی تھانے پر حاضر ہونے کی تاکید کی جاتی ہے۔اس طرح گزشتہ تین دنوں سے یہ تینوں بزرگ دن بھر تھانے میںبند رہتے ہیںاور افراد خانہ کے مطابق یہ سلسلہ عید کے دن تک جاری رکھا جانے کا پولیس کا منصوبہ ہے۔صحرائی نے کہا کہ یہ پولیس کی کھلی جارحیت اور انسانیت سے عاری کارروائی ہے کہ ان بے گناہ اور بے قصور بزرگوں کی عمر کا لحاظ کئے بغیر اُن کو روزہ داری کی حالت میںدن بھر شدت کی گرمی میں تھانے میں بند کیا جاتا ہے۔مذکورہ تینوں بزرگ سماج میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں،وہ کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہیں کہ ان کو مجرموں کی طرح تھانے میں بند کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام پسند ہیںاور تحریک آزادی کے ساتھ محبت رکھتے ہیں،اسی لئے اُن کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔صحرائی نے کہا کہ اس طرح کی انتقام گیرانہ کاروائیوں کو روک دینا چاہئے۔